Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

{ لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا: اس میں  نہ کوئی بیکار با ت سنیں  گے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جنت میں  کوئی ناگوار اور باطل بات ان کے سننے میں  نہ آئے گی البتہ وہ ہرطرف سے سلام سلام کا قول ہی سنیں  گے کہ جنتی آپس میں  ایک دوسرے کو سلام کریں  گے،فرشتے اہلِ جنت کو سلام کریں  گے اور اللہ ربُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے اُن کی جانب سلام آئے گا۔( خازن ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۲۵-۲۶ ،  ۴ / ۲۱۸ ،  مدارک ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۲۵-۲۶ ،  ص ۱۲۰۰ ،  ملتقطاً)

وَ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ ﳔ مَاۤ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِؕ(۲۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور د ہنی طرف والے کیسے د ہنی طرف والے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور دائیں  جانب والے کیا دائیں  جانب والے ہیں ۔

{وَ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ: اور دائیں  جانب والے۔} اس سے پہلی آیات میں  آگے بڑھ جانے والے، بارگاہِ الہٰی کے مُقَرّببندوں  کی جزااور ان کا حال بیان کیاگیا ،اب یہاں  سے اہلِ جنت کے دوسرے گروہ یعنی دائیں  جانب والے اَصحاب کا ذکر فرمایا جا رہا ہے کہ وہ لوگ جو دائیں  جانب والے ہیں  ان کی عجیب شان ہے (کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  معزز و مُکرّم ہیں ) اور ان کی اچھی صفات اورخوبیوں  کی وجہ سے ان کے لئے جو کچھ تیار کیا گیا ہے اسے تم نہیں  جان سکتے۔( خازن ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۲۷ ،  ۴ / ۲۱۸ ،  روح البیان ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۲۷ ،  ۹ / ۳۲۴ ،  ملتقطاً)

فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍۙ(۲۸) وَّ طَلْحٍ مَّنْضُوْدٍۙ(۲۹)

ترجمۂ کنزالایمان: بے کانٹے کی بیریوں  میں ۔اور کیلے کے گچھوں  میں  ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بغیر کانٹے والی بیریوں  کے درختوں  میں  ہوں  گے ۔اور کیلے کے گچھوں  میں ۔

{ فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍ: بغیر کانٹے والی بیریوں  کے درختوں  میں  ہوں  گے۔ } یہاں  سے دائیں  جانب والوں  کی جزا بیان کی جا رہی ہے کہ وہ ایسی جنَّتوں  میں  مزے لوٹیں  گے جن میں  بیری کے ایسے درخت ہوں  گے جن پر کانٹے نہیں  لگے ہوں  گے۔

بیری کے جنَّتی درخت کی شان:

             حضرت ابو امامہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ  فرماتے ہیں ،حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صحابہ ٔکرام  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ فرمایا کرتے تھے کہ بے شک اللہ تعالیٰ ہمیں  دیہاتی مسلمانوں  اور ان کے ( پوچھے گئے )  سوالات کی وجہ سے فائدہ پہنچاتا ہے۔ایک دن ایک دیہاتی مسلمان آئے اور انہوں  نے عرض کی: یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، بے شک اللہ تعالیٰ نے قرآن میں  ایک اذِیَّت ناک درخت کا ذکر فرمایا ہے اور میرا یہ گمان نہیں  کہ جنت میں  کوئی ایسا درخت ہو جو اپنے مالک کے لئے تکلیف دِہ ثابت ہو۔حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس سے ارشاد فرمایا ’’وہ کونسا درخت ہے؟اس نے عرض کی:بیری کا درخت،(یہ اذِیَّت ناک اس لئے ہے)کہ اس کے اوپر کانٹے لگے ہوتے ہیں ۔ نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:( کیا اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد نہیں  فرمایا) ’’ فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍ ‘‘ اللہ تعالیٰ اس کے کانٹے کاٹ دے گا اور ہر کانٹے کی جگہ پھل پیدا فرمائے گا،لہٰذا وہ درخت (کانٹوں  کی بجائے) پھل اُگائے گا اور اس کے پھل میں  72 رنگ ظاہر ہوں  گے اور ان میں  سے کوئی رنگ بھی دوسرے کے مشابہ نہ ہو گا۔( مستدرک ،  کتاب التفسیر ،  تفسیرسورۃ الواقعۃ ،  سدر الجنّۃ مخضود۔۔۔ الخ ،  ۳ / ۲۸۷ ،  الحدیث: ۳۸۳۰)

{ وَ طَلْحٍ مَّنْضُوْدٍ: اور کیلے کے گچھوں  میں ۔} یعنی دائیں  جانب والے ان جنَّتوں  میں  مزے کریں  گے جن میں  کیلے کے ایسے درخت ہوں  گے جو جڑ سے چوٹی تک کیلے کے گچھوں  سے بھرے ہوئے ہوں  گے۔

وَّ ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍۙ(۳۰) وَّ مَآءٍ مَّسْكُوْبٍۙ(۳۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہمیشہ کے سائے میں  ۔اور ہمیشہ جاری پانی میں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور دراز سائے میں ۔اور جاری پانی میں ۔

{وَ ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ: اور ہمیشہ کے سائے میں ۔} ارشاد فرمایا کہ دائیں  جانب والے ان جنتوں  میں  ہمیشہ رہنے والےدراز سائے میں  ہوں  گے۔

            حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جنت میں  ایک ایسا درخت ہے جس کے سائے میں  سوار شخص سو سال تک دوڑتا رہے تو وہ اسے طے نہ کر سکے گا، اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو’’وَ ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ ‘‘۔(بخاری ،  کتاب التفسیر ،  سورۃ الواقعۃ ،  باب وظلّ ممدود ،  ۳ / ۳۴۵ ،  الحدیث: ۴۸۸۱)

جنت میں  سایہ ہے یا نہیں ؟

            جنت میں  سایہ ہے یا نہیں ، اس بارے میں  بعض مفسرین کاقول ہے کہ جنت میں  سورج نہ ہونے کے باوجود سایہ ہے، جیسا کہ ابو عبد اللہ محمد بن احمد قرطبی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  ’’پوری جنت سائے دار ہے حالانکہ وہاں  سورج نہیں  ہے۔( تفسیر قرطبی ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۳۰ ،  ۹ / ۱۵۳ ،  الجزء السابع عشر)

            اور بعض مفسرین کے نزدیک جنت میں  سایہ نہیں  اور آیت میں  سائے سے اس کا مجازی معنی مراد ہے ،جیسا کہ علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  کہ یہاں  آیت میں  سائے سے (اس کا حقیقی معنی نہیں  بلکہ مجازی معنی) راحت و آرام مراد ہے۔( روح البیان ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۳۰ ،  ۹ / ۳۲۵)

{وَ مَآءٍ مَّسْكُوْبٍ: اور جاری پانی میں ۔} یعنی دائیں  جانب والے ان جنتوں  میں  ہوں  گے جن کی زمینی سطح پر پانی ہمیشہ کے لئے جاری ہو گا اور وہ جب چاہیں  جہاں  سے چاہیں  کسی مشقت کے بغیر پانی حاصل کر لیں  گے۔( روح البیان ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۳۱ ،  ۹ / ۳۲۵ ،  ملتقطاً)

وَّ فَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍۙ(۳۲) لَّا مَقْطُوْعَةٍ وَّ لَا مَمْنُوْعَةٍۙ(۳۳) وَّ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَةٍؕ(۳۴)

 



Total Pages: 250

Go To