Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

نیکیوں  میں  دوسروں  سے آگے بڑھ جانے والےمراد ہیں ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں  کہ ان سے وہ لوگ مراد ہیں  جو ہجرت کرنے میں  سبقت کرنے والے ہیں  اور وہ آخرت میں  جنت کی طرف سبقت کریں  گے۔ ایک قول یہ ہے کہ ان سے وہ لوگ مراد ہیں  جو اسلام قبول کرنے کی طرف سبقت کرنے والے ہیں  اور ایک قول یہ ہے کہ ان سے وہ مہاجرین اور اَنصار صحابۂ کرام  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ مراد ہیں  جنہوں نے دونوں  قبلوں  کی طرف نمازیں  پڑھیں ۔اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں  ارشاد فرمایا کہ وہ جنت میں  داخل ہونے میں  آگے بڑھ جانے والے ہیں ۔( تفسیرسمرقندی ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۷-۱۰ ،  ۳ / ۳۱۳-۳۱۴ ،  خازن ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۷-۱۰ ،  ۴ / ۲۱۶-۲۱۷ ،  مدارک ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۷-۱۰ ،  ص ۱۱۹۸-۱۱۹۹ ،  ملتقطاً)

اُولٰٓىٕكَ الْمُقَرَّبُوْنَۚ(۱۱) فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ(۱۲)

ترجمۂ کنزالایمان: وہی مقرب بارگاہ ہیں  ۔چین کے باغوں  میں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہی قرب والے ہیں ۔نعمتوں کے باغوں  میں ہیں ۔

{ اُولٰٓىٕكَ الْمُقَرَّبُوْنَ: وہی قرب والے ہیں ۔}یہاں  سے ان تینوں  اَقسام کے لوگوں  کی جزا بیان فرمائی گئی اور سب سے پہلے آگے بڑھ جانے والوں  کی جزابیان کرتے ہوئے اس آیت اورا س کے بعد والی آیت میں  ارشاد فرمایا کہ وہی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  مُقَرّب درجات والے ہیں  اور وہ نعمتوں  کے باغوں  میں  ہوں  گے۔( تفسیر سمرقندی ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ:۱۱-۱۲ ،  ۳ / ۳۱۴)

ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ(۱۳) وَ قَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ(۱۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اگلوں  میں  سے ایک گروہ۔اور پچھلوں  میں  سے تھوڑے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ پہلے لوگوں  میں  سے ایک بڑا گروہ ہوگا ۔اور بعد والوں  میں  سے تھوڑے ہوں  گے۔

{ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ: وہ پہلے لوگوں  میں  سے ایک بڑا گروہ ہوگا۔}اس آیت اورا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ آگے بڑھ جانے والے پہلے لوگوں  میں  سے بہت ہیں  اور بعد والوں  میں  سے تھوڑے ہیں ۔ پہلے لوگوں  سے کون مراد ہیں  اس کی تفسیر میں  صحیح قول یہ ہے کہ پہلے لوگوں  سے تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امت ہی کے پہلے وہ لوگ مراد ہیں  جو مہاجرین و اَنصار میں  سے(اسلام قبول کرنے میں ) سابقین اَوّلین ہیں  اوربعد والوں  سے ان کے بعد والے لوگ مراد ہیں  ۔( تفسیرکبیر ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۱۳-۱۴ ،  ۱۰ / ۳۹۲ ،  تفسیرسمرقندی ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۱۳-۱۴ ،  ۳ / ۳۱۴ ،  خازن ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۱۳-۱۴ ،  ۴ / ۲۱۷ ،  خزائن العرفان، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۴، ص ۹۸۷ ، ملتقطاً)

             اَحادیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے ،جیسا کہ مرفوع حدیث میں  ہے کہ’’ یہاں  اَوّلین و آخِرین اسی اُمت کے پہلے اور بعد والے لوگ ہیں ۔( ابوسعود ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۱۴ ،  ۵ / ۶۷۲)

             اور حضرت ابو بکرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے یہ بھی مروی ہے کہ حضورِاقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ دونوں  گروہ میری ہی امت کے ہیں  ۔( مسند ابوداود طیالسی ،  بقیۃ احادیث ابی بکرۃ رضی اللّٰہ عنہ ،  ص ۱۲۰ ،  الحدیث: ۸۸۶)

عَلٰى سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍۙ(۱۵) مُّتَّكِـٕیْنَ عَلَیْهَا مُتَقٰبِلِیْنَ(۱۶)

ترجمۂ کنزالایمان: جڑاؤ تختوں  پر ہوں  گے ۔ان پر تکیہ لگائے ہوئے آمنے سامنے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: (جواہرات سے)جَڑے ہوئے تختوں  پر ہوں  گے۔ان پر تکیہ لگائے ہوئے آمنے سامنے ۔

{ عَلٰى سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍ: جڑے ہوئے تختوں  پر ہوں  گے۔} یہا ں سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کے مُقَرّب بندوں  کا مزید حال بیان کیا جا رہا ہے کہ وہ جنت میں  ایسے تختوں  پر ہوں  گے جن میں  لعل،یاقوت اورموتی وغیرہ جواہرات جَڑے ہوں  گے اوروہ ان تختوں  پر عیش و نَشاط کے ساتھ تکیہ لگائے ہوئے ایک دوسرے کے آمنے سامنے موجود ہوں  گے اور ایک دوسرے کو دیکھ کر مَسرُور اور دل شاد ہوں  گے۔ (ابو سعود ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۱۵-۱۶ ،  ۵ / ۶۷۲ ،  ملتقطاً)

یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَۙ(۱۷) بِاَكْوَابٍ وَّ اَبَارِیْقَ ﳔ وَ كَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍۙ(۱۸) لَّا یُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا وَ لَا یُنْزِفُوْنَۙ(۱۹) وَ فَاكِهَةٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَۙ(۲۰) وَ لَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَؕ(۲۱)

ترجمۂ کنزالایمان: ان کے گرد لیے پھریں  گے ہمیشہ رہنے والے لڑکے۔کوزے اور آفتابے اور جام آنکھوں  کے سامنے بہتی شراب کے ۔ اس سے نہ اُنہیں  دردِ سر ہو نہ ہوش میں  فرق آئے ۔اور میوے جو پسند کریں ۔اور پرندوں  کا گوشت جو چاہیں  ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ان کے اردگردہمیشہ رہنے والے لڑکے پھریں  گے۔ کوزوں  اور صراحیوں  اور آنکھوں  کے سامنے بہنے والی شراب کے جام کے ساتھ۔ اس سے نہ انہیں  سردرد ہو گااور نہ ان کے ہوش میں  فرق آئے گا۔اور پھل میوے جو جنتی پسند کریں  گے۔اور پرندوں  کا گوشت جو وہ چاہیں  گے۔

{ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ: ان پر دَورچلائیں  گے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی چار آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حوروں  کی طرح اہلِ جنت کی خدمت کے لئے ایسے لڑکے پیدا کئے ہیں  جو نہ کبھی مریں  گے،نہ بوڑھے ہوں  گے اور نہ ہی ان میں  کوئی (جسمانی) تبدیلی آئے گی،یہ ہمیشہ رہنے والے لڑکے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کے مقرب بندوں پر خدمت کے آداب کے ساتھ کوزوں  ،صراحیوں  اور آنکھوں  کے سامنے بہنے والی پاک شراب کے جام کے دَور چلائیں  گے،وہ شراب ایسی ہے کہ اسے پینے سے نہ انہیں  سردرد ہو گااور نہ ان کے ہوش میں  کوئی فرق آئے گا (جبکہ دنیا کی شراب میں  یہ وصف نہیں  کیونکہ اسے پینے سے حواس بگڑجاتے ہیں  اور بندے کے اَوسان میں  فتور جاتا ہے )اور (شراب پیش کرنے کے ساتھ ساتھ) خدمتگار لڑکے وہ تمام پھل



Total Pages: 250

Go To