Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

’’وَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْــٴًـا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا یُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ‘‘(بقرہ:۴۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  اور اس دن سے ڈروجس دن کوئی جان کسی دوسرے کی طرف سے بدلہ نہ دے گی اور نہ کوئی سفارش مانی جائے گی اور نہ اس سے کوئی معاوضہ لیا جائے گا اور نہ ان کی مددکی جائے گی۔

            اور ارشاد فرمایا:

’’ وَ اتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْهِ اِلَى اللّٰهِۗ-ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ‘‘(بقرہ:۲۸۱)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اس دن سے ڈروجس میں  تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے پھر ہر جان کو اس کی کمائی بھرپوردی جائے گی اور ان پر ظلم نہیں  ہوگا۔

            اور ارشاد فرمایا:

’’ فَكَیْفَ اِذَا جَمَعْنٰهُمْ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ۫-وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ‘‘(ال عمران:۲۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کیسی حالت ہوگی جب ہم انہیں  اس دن کے لئے اکٹھا کریں  گے جس میں  کوئی شک نہیں  اور ہر جان کو اس کی پوری کمائی بھر پور دی جائے گی اور ان پر ظلم نہ ہوگا۔

خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌۙ(۳)

ترجمۂ کنزالایمان: کسی کو پست کرنے والی کسی کو بلندی دینے والی ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: کسی کو نیچاکرنے والی،کسی کو بلندی دینے والی ۔

{ خَافِضَةٌ: کسی کو نیچاکرنے والی۔} اس آیت میں  قیامت کا ایک وصف بیان کیا گیا کہ یہ کسی قوم کو اس کے اعمال کی وجہ سے جہنم میں  گرا کر اسے نیچاکرنے والی ہے اور کسی قوم کو ا س کے اعمال کی بنا پر جنت میں  داخل کر کے اسے بلندی دینے والی ہے۔( تفسیر سمرقندی ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۳ ،  ۳ / ۳۱۳)

             حضرت عمر بن خطاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ ا س آیت کی تفسیر میں  فرماتے ہیں ’’قیامت اللہ تعالیٰ کے دشمنوں  کو جہنم میں  گرا کر ذلیل کرے گی اور اللہ تعالیٰ کے اولیاء کو جنت میں  داخل کر کے ان کے مرتبے بلند کرے گی۔( تفسیر ابن ابی حاتم ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۳ ،  ۱۰ / ۳۳۲۹)

            اور حضرت عبد اللہ بن عباس  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا اس آیت کی تفسیر میں  فرماتے ہیں  کہ جو لوگ دنیا میں  اُونچے بنتے تھے قیامت انہیں  پَست اور ذلیل کرے گی اور جولوگ دنیا میں کمزور تھے(اور عاجزی و اِنکساری کیا کرتے تھے) ان کے مرتبے بلند کرے گی۔ (خازن ، الواقعۃ ، تحت الآیۃ: ۳ ،  ۴ / ۲۵۹)

اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّاۙ(۴) وَّ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّاۙ(۵) فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْۢبَثًّاۙ(۶)

ترجمۂ کنزالایمان: جب زمین کانپے گی تھرتھرا کر ۔اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں  گے چُورا ہوکر ۔تو ہوجائیں  گے جیسے روزن کی دھوپ میں  غبار کے باریک ذرّے پھیلے ہوئے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جب زمین بڑے زور سے ہلا دی جائے گی ۔اور پہاڑ خوب چُورا چُورا کر دیئے جائیں  گے ۔تووہ ہوا میں  بکھرے ہوئے غبار جیسے ہوجائیں  گے ۔

{ اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّا: جب زمین تھرتھرا کرکانپے گی۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ جب (قیامت قائم ہو گی تو اس وقت) زمین تھرتھرا کرکانپے گی جس سے اس کے اوپر موجود پہاڑ اور تمام عمارتیں  گر جائیں  گی اور یہ اپنے اندر موجود تمام چیزیں  باہر آجانے تک کانپتی رہے گی اور پہاڑ چُورا ہوکر خشک ستوکی طرح ریزہ ریزہ ہوجائیں  گے اوروہ اس وجہ سے ہوا میں  بکھرے ہوئے غبار جیسے ہوجائیں  گے۔( روح البیان ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۴-۶ ،  ۹ / ۳۱۶-۳۱۷)

وَّ كُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةًؕ(۷) فَاَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِ ﳔ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ(۸) وَ اَصْحٰبُ الْمَشْــٴَـمَةِ ﳔ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَشْــٴَـمَةِؕ(۹) وَ السّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَۚۙ(۱۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اورتم تین قسم کے ہوجاؤ گے ۔تو د ہنی طرف والے کیسے د ہنی طرف والے ۔اور بائیں  طرف والے کیسے بائیں  طرف والے ۔اور جو سبقت لے گئے وہ تو سبقت ہی لے گئے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور (اے لوگو!)تم تین قسم کے ہوجاؤ گے۔تو دائیں  جانب والے( جنَّتی) کیا ہی دائیں  جانب والے ہیں ۔ اور بائیں  جانب والے ( یعنی جہنمی)کیا ہی بائیں  جانب والے ہیں ۔اور آگے بڑھ جانے والے تو آگے ہی بڑھ جانے والے ہیں ۔

{ وَ كُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةً: اور تم تین قسم کے ہوجاؤ گے۔} یہاں  سے اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن مخلوق کا حال بیان فرمایا اور ان کی تین قسموں  کے بارے خبر دی جن میں  سے دو جنت میں  جائیں  گی اور ایک جہنم میں  داخل ہو گی،چنانچہ اس آیت اور اس کے بعد والی تین آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اے لوگو! تم قیامت کے دن تین قسموں  میں  تقسیم ہوجاؤ گے۔

          پہلی قسم ان لوگوں  کی ہو گی جو دائیں  جانب والے ہوں  گے ۔ایک قول یہ ہے کہ ان سے مراد وہ لوگ ہیں  جن کے نامۂ اعمال ان کے دائیں  ہاتھ میں  دئیے جائیں  گے۔دوسرا قول یہ ہے کہ ان سے مراد وہ لوگ ہیں  جو میثاق کے دن حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دائیں  جانب تھے۔تیسرا قول یہ ہے کہ ان سے مراد وہ لوگ ہیں  جو قیامت کے دن عرش کی دائیں  جانب ہوں  گے۔اللہ تعالیٰ نے دائیں  جانب والوں  کی شان ظاہر کرنے کے لئے فرمایا کہ وہ کیا ہی اچھے ہیں  کہ وہ بڑی شان رکھتے ہیں  ،سعادت مند ہیں  اور وہ جنت میں  داخل ہوں  گے۔

           دوسری قسم ان لوگوں  کی ہو گی جو بائیں  جانب والے ہوں  گے ۔ان کے بارے میں  بھی مفسرین کا ایک قول یہ ہے کہ ان سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے نامۂ اعمال ان کے بائیں  ہاتھ میں  دئیے جائیں  گے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ان سے مراد وہ لوگ ہیں  جو میثاق کے دن حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بائیں  جانب تھے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ ان سے مراد وہ لوگ ہیں  جو قیامت کے دن عرش کی بائیں  جانب ہوں  گے۔اللہ تعالیٰ نے ان کی حقارت ظاہر کرنے کے لئے فرمایا کہ بائیں  جانب والے کیا ہی برے ہیں  کہ وہ بدبخت ہیں  اور وہ جہنم میں  داخل ہوں  گے۔

          تیسری قسم ان لوگوں  کی ہو گی جو دوسروں  سے آ گے بڑھ جانے والے ہیں  ۔ یہاں  آگے بڑھ جانے والوں  سے کون لوگ مراد ہیں  ،اس بارے میں  ایک قول یہ ہے کہ اس مقام پر



Total Pages: 250

Go To