Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

(2) …حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’اپنی عورتوں  کو سورۂ واقعہ سکھاؤ کیونکہ یہ سورۃُ الغنٰی ( یعنی محتاجی دور کرنے والی سورت)ہے۔( مسند الفردوس ،  باب العین ،  ۳ / ۱۰ ،  الحدیث: ۴۰۰۵)

(3) …مروی ہے کہ حضرت عثمان بن عفان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کے پاس اس وقت تشریف لائے جب وہ مرضِ وفات میں  مبتلا تھے۔حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے ان سے فرمایا’’آپکس چیز کی تکلیف محسوس کر رہے ہیں ؟حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے جواب دیا :اپنے گناہوں  کی تکلیف محسوس کر رہا ہوں ۔حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے فرمایا’’آپ کو کس چیز کی آرزو ہے؟حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے جواب دیا’’مجھے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی رحمت کی آرزو ہے۔حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے فرمایا’’آپ کسی طبیب کو کیوں  نہیں  بلوا لیتے ۔حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے جواب دیا ’’طبیب ہی نے تو مجھے مرض میں  مبتلا کیا ہے۔ حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے فرمایا’’کیا ہم آپ کو کچھ(مال) عطا کرنے کا حکم نہ کریں !حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے جواب دیا’’مجھے ا س کی کوئی حاجت نہیں ۔حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے فرمایا’’ہم وہ مال آپ کی بیٹیوں  کو دے دیتے ہیں ۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے جواب دیا’’انہیں  بھی ا س مال کی کوئی ضرورت نہیں  ، میں  نے انہیں  حکم دیا ہے کہ وہ سورۂ واقعہ پڑھا کریں  کیونکہ میں  نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ ’’جو شخص روزانہ رات کے وقت سورہ ٔواقعہ پڑھے تو وہ فاقے سے ہمیشہ محفوظ رہے گا۔( مدارک ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ:۹۶ ، ص۱۲۰۵)

(4) …حضرت مسروق  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  ’’جسے یہ بات خوش کرے کہ وہ اَوّلین و آخِرین کا علم اور دنیا و آخرت کا علم جان جائے تو اسے چاہئے کہ سورۂ واقعہ پڑھ لے۔( مصنف ابن ابی شیبہ ، کتاب الزہد ، کلام مسروق ،  ۸ / ۲۱۱ ،  روایت نمبر: ۹)

سورۂ واقعہ کے مضامین:

            اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں  اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کے دلائل ،حشر کے اَحوال اور لوگوں  کا انجام بیان کیاگیا ہے اور اس میں  یہ چیزیں  بیان کی گئی ہیں ،

(1) …اس سورت کی ابتداء میں  قیامت قائم ہونے اور اس وقت زمین کے تھرتھرانے اور پہاڑوں  کے ریزہ ریزہ ہوجانے کا ذکر ہے۔

(2) …حساب کے وقت لوگوں  کی تین قسمیں  بیان کی گئیں ۔(1)دائیں  طرف والے۔(2)بائیں  طرف والے۔(3)سبقت کرنے والے۔پھر ان تینوں  اَقسام کے لوگوں  کا حال اور قیامت کے دن ان کے لئے جو جزا تیارکی گئی ہے اسے بیان فرمایا گیا۔

(3) …اللہ تعالیٰ کے وجود اوراس کی وحدانیّت کے دلائل،انسانوں  کی تخلیق،نَباتات کو پیدا کرنے اور پانی نازل کرنے میں  اس کی قدرت کے کمال پر دلائل بیان کئے گئے۔

(4) … قرآنِ پاک کا ذکر کیا گیا اور یہ بتایا گیا کہ قرآن پاک سب جہانوں  کے پالنے والے رب تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب ہے۔

(5) …اس سورت کے آخر میں  ان تین اَقسام کے لوگوں  کا حال اور ان کا انجام بیان کیا گیا۔(1)سعادت مند۔ (2)بد بخت ، اور (3)نیکیوں  میں  سبقت کرنے والے ۔

سورۂ رحمٰن کے ساتھ مناسبت:

            سورہ ٔ واقعہ کی اپنے سے ما قبل سورت ’’رحمٰن‘‘ کے ساتھ ایک مناسبت یہ ہے کہ دونوں  سورتوں  میں  قیامت کے حالات، جنت کے اَوصاف اور جہنم کی ہَولْناکیاں  بیان کی گئی ہیں ۔دوسری مناسبت یہ ہے کہ جو چیز سورہ ٔ رحمٰن کے شروع میں  ذکر کی گئی اسے سورہ ٔواقعہ کے آخر میں  بیان کیا گیا اور جو چیز سورۂ رحمٰن کے آخر میں  بیان کی گئی اسے سورۂ واقعہ کی ابتداء میں  بیان کیا گیاجیسے سورۂ رحمٰن کے شروع میں  قرآنِ مجید کا ذکر کیاگیا،پھر سورج اور چاند کا،پھر نباتات کا،پھر انسانوں  اور جِنّات کی تخلیق کا ذکر کیا گیا،پھر قیامت ،جہنم اور جنت کی صفات بیان کی گئیں  اور سورۂ واقعہ میں  پہلے قیامت کی صفات اور اس کی ہَولْناکیاں  بیان کی گئیں  ،پھر جنت اور جہنم کی صفات ذکر کی گئیں  ،پھر انسان کی تخلیق،نباتات،پانی اورآگ کا ذکر کیا گیا،اس کے بعد ستاروں  کا اور آخر میں  قرآنِ مجید کا ذکر کیا گیا ۔( تناسق الدرر ،  سورۃ الواقعۃ ،  ص ۱۲۱)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

ترجمۂ کنزالایمان: اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اللہکے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔

اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ(۱) لَیْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌۘ(۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جب ہولے گی وہ ہونے والی ۔اس وقت اس کے ہونے میں  کسی کو انکار کی گنجائش نہ ہوگی ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جب واقع ہونے والی واقع ہوگی۔ (اس وقت )اس کے واقع ہونے میں  کسی کو انکار کی گنجائش نہ ہوگی۔

{ اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ: جب واقع ہونے والی واقع ہوگی۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب قیامت قائم ہو گی جو کہ ضرور قائم ہونے والی ہے تواس وقت ہر ایک اس کا اعتراف کر لے گااور اس کے واقع ہونے کا کوئی انکار نہیں  کر سکے گا۔ اورقیامت چونکہ بہر صورت واقع ہو گی ا س لئے ا س کا نام واقعہ رکھا گیا ہے ۔( مدارک ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۱-۲ ،  ص ۱۱۹۸ ،  تفسیرکبیر ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۱-۲ ،  ۱۰ / ۳۸۴ ،  بیضاوی ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۱-۲ ،  ۵ / ۲۸۳ ،  ملتقطاً)

قیامت ضرور واقع ہو گی:

            اس سے معلوم ہو اکہ قیامت ضرور واقع ہو گی ا س لئے ہر ایک کو قیامت سے ڈرنا چاہئے اور اس دن کے لئے دنیا کی زندگی میں  ہی تیاری کر لینی چاہئے ،چنانچہ قیامت کے بارے میں  ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

 



Total Pages: 250

Go To