Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

{فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ: توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟} یعنی اے جن اور انسان کے گروہ! اللہ تعالیٰ نے وہ نعمتیں  پیدافرمائیں  جو تمہارے لئے پردہ نشین اور (دوسروں  سے) چھپی ہوئی ہیں  توتم دونوں  اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟( روح البیان ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۷۳ ،  ۹ / ۳۱۳)

لَمْ یَطْمِثْهُنَّ اِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَ لَا جَآنٌّۚ(۷۴) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ(۷۵)

ترجمۂ کنزالایمان: ان سے پہلے انہیں  ہاتھ نہ لگایا کسی آدمی اور نہ جِنّ نے۔تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ان کے شوہروں  سے پہلے انہیں  نہ کسی آدمی نے چھوا اور نہ کسی جن نے۔توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟

{لَمْ یَطْمِثْهُنَّ اِنْسٌ قَبْلَهُمْ: ان کے شوہروں  سے پہلے انہیں  نہ کسی آدمی نے چھوا۔} یعنی جیسے اُن دوجنتوں  کی حوریں  اپنے جنتی شوہروں  کے علاوہ جن و اِنس کے چھونے سے محفوظ تھیں  ایسے ہی اِن دونوں  جنتوں  کی حوریں  بھی محفوظ ہیں  ،لہٰذاآیت میں  تکرار نہیں ۔

{فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ: توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟} یعنی اے جن اور انسان کے گروہ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے جنت میں  وہ نعمتیں  تیار کیں  جنہیں  نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل پر ان کا خیال گزرا توتم دونوں  اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی ان نعمتوں  کو جھٹلاؤگے یا ان کے علاوہ دوسری نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے۔( جمل ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۷۵ ،  ۷ / ۳۸۲)

مُتَّكِـٕیْنَ عَلٰى رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَّ عَبْقَرِیٍّ حِسَانٍۚ(۷۶) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(۷۷)

ترجمۂ کنزالایمان: تکیہ لگائے ہوئے سبز بچھونوں  اور منقش خوبصورت چاندنیوں  پر۔تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: (جنتی) سبزقالینوں  اور انتہائی خوبصورت بچھونوں  پرتکیہ لگائے ہوئے ہوں  گے۔ توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟

{مُتَّكِـٕیْنَ: تکیہ لگائے ہوئے ہوں  گے۔} اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرنے والوں  کو جو دو جنتیں  عطا ہوں  گی ان کے جنتی بچھونوں  کا ظاہری حال بیان نہیں  کیا گیا جیساکہ آیت نمبر54میں  گزرا ،کیونکہ ان بچھونوں  کی شان بہت بلند ہے اور ان کا ظاہری حال عقل اور فہم کے اِدراک سے باہر ہے جبکہ دوسری دو جنتوں  میں  اہلِ جنت کو جوبچھونے عطا ہوں  گے ان کا ظاہری حال یہاں  بیان کر دیاگیا کہ وہ سبز اور مُنَقّش ہوں  گے ،اس سے ان بچھونوں  میں  فرق صاف ظاہر ہو رہا ہے۔( روح البیان ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۷۶ ،  ۹ / ۳۱۵ ،  ملخصاً)

{فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ: توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟} یعنی اے جن اور انسان کے گروہ! تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ کے علاوہ تم پر کوئی احسان فرمانے والا نہیں ،توتم دونوں  اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟( جمل ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۷۷ ،  ۷ / ۳۸۳)

تَبٰرَكَ اسْمُ رَبِّكَ ذِی الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِ۠(۷۸)

ترجمۂ کنزالایمان: بڑی برکت والا ہے تمہارے رب کا نام جو عظمت اور بزرگی والا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تمہارے رب کا نام بڑی برکت والا ہے جو عظمت اور بزرگی والاہے۔

{تَبٰرَكَ اسْمُ رَبِّكَ: تمہارے رب کا نام بڑی برکت والا ہے۔} اس آیت میں  اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی باقی رہے گی اور دنیا کی تمام نعمتیں  فانی ہیں ۔نیزاللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت و بزرگی بیان فرما کر آخرت کی نعمتوں  کے بیان کا اختتام فرمایا۔( خازن ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۷۸ ،  ۴ / ۲۱۶)

نماز کے بعد پڑھی جانے والی ایک دعا:

            حضرت ثوبان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  کہ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نماز سے فارغ ہونے کے بعد تین بار اِستغفار کرتے اور فرماتے ’’اَللّٰہمَّ اَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْکَ السَّلَامُ تَبَارَکْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامْ‘‘ یعنی اے اللہ! عَزَّوَجَلَّ،     تو سلام ہے اور تجھ سے سلامتی ہے اور تو برکت والا ہے (اے) جلالت اور بزرگی والے۔( مسلم ، کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ ،  باب استحباب الذکر بعد الصلاۃ و بیان صفتہ  ،  ص ۲۹۷  ،  الحدیث: ۱۳۵ (۵۹۱))

سورۂ واقعہ

سورۂ واقعہ کا تعارف

مقامِ نزول:

            سورۂ واقعہ اس آیت’’ اَفَبِهٰذَا الْحَدِیْثِ‘‘ اوراس آیت’’ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ‘‘کے علاوہ مکیہ ہے۔( جلالین ،  تفسیر سورۃ الواقعۃ ،  ص۴۴۵-۴۴۶)

رکوع اورآیات کی تعداد:

            اس سورت میں  3رکوع اور 96آیتیں ہیں ۔

’’واقعہ ‘‘نام رکھنے کی وجہ :

            ’’واقعہ‘‘ قیامت کا ایک نام ہے اور اس سورت کا نام ’’واقعہ‘‘ اس کی پہلی آیت میں  مذکور لفظ’’اَلْوَاقِعَةُ ‘‘کی مناسبت سے رکھا گیا ہے۔

 سورۂ واقعہ کے فضائل:

(1) …حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ جو شخص روزانہ رات کے وقت سورہ ٔواقعہ پڑھے تو وہ فاقے سے ہمیشہ محفوظ رہے گا۔( شعب الایمان ، التاسع عشر من شعب الایمان۔۔۔الخ ، ۲ / ۴۹۲ ، الحدیث: ۲۵۰۰)

 



Total Pages: 250

Go To