Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

اظہار بھی کیا جائے ۔ اس کا دارومدار موقع محل کی مناسبت پر ہے۔)( صاوی ،  الشوریٰٰ ،  تحت الآیۃ: ۳۷ ،  ۵ / ۱۸۷۸)

غصہ آنے پر معاف کر دینے کی فضیلت:

            غصہ آنے پر معاف کر دینے کی فضیلت بکثرت اَحادیث میں  بھی بیان ہوئی ہے ،چنانچہ حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’جو شخص اپنے غصے کو نافذ کرنے پر قادر ہونے کے باوجود غصہ پی جائے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے تمام مخلوق کے سامنے بلائے گا یہاں  تک کہ اللہ تعالیٰ اسے اختیار دے گا کہ حورِ عِین میں  سے جو حور وہ چاہے لے لے۔( ابو داؤد ،  کتاب الادب ،  باب من کظم غیظاً ،  ۴ / ۳۲۵ ،  الحدیث: ۴۷۷۷)

            اورحضرت حسن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے مروی ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس شخص نے غصہ ضبط کر کے ا س کا گھونٹ پیا یا جس نے مصیبت کے وقت صبر کا گھونٹ پیا، اللہ تعالیٰ کو اس گھونٹ سے زیادہ کوئی گھونٹ پسند نہیں  اور اللہ تعالیٰ کے خوف سے جس شخص کی آنکھ نے ا ٓنسو کا قطرہ گرا یا اور خون کا وہ قطرہ جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں  گرا ا س سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو کوئی قطرہ پسند نہیں ۔( کتاب الجامع فی آخر المصنف ،  باب الغضب والغیظ وما جاء فیہ ، ۱۰ / ۱۹۵ ،  الحدیث:  ۲۰۴۵۷)

غصہ آنے کا بنیادی سبب اور غصے کے 3علاج:

            غصہ آنے کا بنیادی سبب یہ ہے کہ جب انسان کسی اور سے کوئی بات کرتا یا اسے کوئی کام کرنے کا کہتا ہے اور وہ بات نہیں  مانتا یا وہ کام نہیں  کرتا تو غصہ آجاتا ہے،ایسی حالت میں  انسان کو چاہئے کہ وہ ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاف کر دے یا ایسے اَسباب اختیار کرے جن سے غصہ ٹھنڈا ہو جائے اور دل و دماغ کو تسکین حاصل ہو،ترغیب کے لئے یہاں  غصہ ٹھنڈا کرنے کے 3 طریقے ملاحظہ ہوں ،

(1)…حضرت ابو ذر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ہم سے ارشاد فرمایا: ’’جب تم میں  سے کسی کو غصہ آئے اور وہ کھڑا ہو تو بیٹھ جائے ،اگر ا س کا غصہ چلا جائے تو ٹھیک ورنہ اسے چاہئے کہ لیٹ جائے۔( ابو داؤد ،  کتاب الادب ،  باب ما یقال عند الغضب ،  ۴ / ۳۲۷ ،  الحدیث: ۴۷۸۳)

(2)…حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا سے روایت ہے،نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جب تم میں  سے کسی کو غصہ آئے تو اسے چاہئے کہ خاموش ہو جائے۔( مسند امام احمد ،  مسند عبد اللہ بن العباس۔۔۔ الخ ،  ۱ / ۵۱۵ ،  الحدیث: ۲۱۳۶)

            علامہ ابنِ رجب حنبلی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  ’’یہ غصے کا بہت بڑا علاج ہے کیونکہ غصہ کرنے والے سے غصے کی حالت میں  ایسی بات صادر ہو جاتی ہے جس پر اسے غصہ ختم ہونے کے بعد بہت زیادہ ندامت اٹھانی پڑتی ہے، جیسے غصے کی حالت میں  گالی وغیرہ دے دینا جس کا نقصان بہت زیادہ ہے ،تو جب وہ خاموش ہو جائے گا تو اسے اس کے کسی شر کا سامنا نہیں  کرنا پڑے گا۔( جامع العلوم و الحکم ،  الحدیث السادس عشر ،  ص۱۸۴)

(3)…حضرت عطِیَّہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’بیشک غصہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے اور شیطان آگ سے پیدا کیاگیا ہے اور آگ کو پانی کے ذریعے ہی بجھایا جا سکتا ہے ، لہٰذاجب تم میں  سے کسی کو غصہ آئے تو اسے وضو کر لینا چاہئے۔( ابو داؤد ،  کتاب الادب ،  باب ما یقال عند الغضب ،  ۴ / ۳۲۷ ،  الحدیث: ۴۷۸۴)

            اللہ تعالیٰ ہمیں  غصہ کرنے سے بچنے اور غصہ آجانے کی صورت میں  معاف کردینے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔([1])

وَ الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ۪-وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ۪-وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۚ(۳۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اور وہ جنھوں  نے اپنے رب کا حکم مانا اور نماز قائم رکھی اور ان کا کام ان کے آپس کے مشورے سے ہے اور ہمارے دئیے سے کچھ ہماری راہ میں  خرچ کرتے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور (ان کے لئے) جنہوں  نے اپنے رب کا حکم مانااور نماز قائم رکھی اور ان کا کام ان کے باہمی مشورے سے (ہوتا) ہے اور ہمارے دئیے ہوئے رزق میں  سے کچھ خرچ کرتے ہیں ۔

{وَ الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ: اور وہ جنہوں  نے اپنے رب کا حکم مانا۔} یعنی اجر و ثواب ان لوگوں  کے لئے بھی ہے جنہوں  نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کا اقرار اور اس کی عبادت کرکے اپنے رب کا حکم مانااورپابندی کے ساتھ نماز پڑھتے رہے اور جب انہیں  کوئی کام درپیش ہوتو وہ ان کے باہمی مشورہ سے ہوتا ہے اور وہ ہمارے دئیے ہوئے رزق میں  سے کچھ ہماری راہ میں  خرچ کرتے ہیں ۔مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ آیت انصار کے حق میں  نازل ہوئی جنہوں  نے سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی زبانِ اَقدس سے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی دعوت قبول کرکے ایمان اور طاعت کو اختیار کیا۔ نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ہجرت سے پہلے ان پر بارہ نقیب مقرر فرمائے، ان انصار کے اوصاف میں  سے یہ بھی ہے کہ وہ تمام شرائط و آداب کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں  اور جب انہیں  کوئی اہم معاملہ درپیش ہو تو پہلے آپس میں  مشورہ کرتے ہیں  پھر وہ کام سرانجام دیتے ہیں  ،اس میں  وہ جلد بازی اور اپنی من مرضی نہیں  کرتے اور وہ ہمارے دئیے ہوئے رزق میں  سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں۔(جلالین مع صاوی ، الشوریٰ ، تحت الآیۃ:۳۸ ،  ۵ / ۱۸۷۸-۱۸۷۹ ، روح البیان ، الشوریٰ ، تحت الآیۃ:۳۸ ، ۸ / ۳۳۱ ، ملتقطاً)

نماز پڑھنے کی اہمیت:

            اس آیت میں  انصار کا ایک وصف یہ بیان ہو اہے کہ وہ تمام شرائط و آداب کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں  ۔ نماز کے بارے میں حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے جس عمل کا حساب ہو گا وہ نماز ہے،اگر یہ عمل صحیح ہوا تو کامیابی اور نجات ہے اور اگر یہ ٹھیک نہ ہوا تو وہ ناکام ہوا اور ا س نے نقصان اٹھایا۔اگر فرض نماز میں  کچھ کمی رہ گئی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ’’کیا میرے بندے کے پاس کوئی نفل ہے،پھر اس سے فرض کی کمی پوری



[1] ۔۔۔ غصہ اور عَفْوو درگُزرسے متعلق اہم معلومات حاصل کرنے کے لئے امیر ِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ان رسائل’’غصے کا علاج‘‘ اور ’’عفوو درگزر کے فضائل‘‘کا مطالعہ فرمائیں۔



Total Pages: 250

Go To