Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

لوگ بھوکے ہیں ،اے عائشہ! رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہَا، جس گھر میں  کھجوریں  نہ ہوں  وہ لوگ بھوکے ہیں ،آپ نے یہ کلمات دو یاتین بار ارشاد فرمائے۔( مسلم ،  کتاب الاشربۃ ،  باب فی ادخال التمر ونحوہ من الاقوات للعیال ،  ص۱۱۳۱ ،  الحدیث: ۱۵۳(۲۰۴۶))

            مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا نے فرمایا’’مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ زمین میں  ایسا کوئی انار نہیں  جس کے دانوں  میں  جنتی انار کے دانوں سے پیوندکاری نہ کی گئی ہو۔( معجم ا لکبیر ،  ومن مناقب عبد اللّٰہ بن عباس واخبارہ ،  ۱۰ / ۲۶۳ ،  الحدیث: ۱۰۶۱۱)

{فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ: توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟} یعنی اے جن اور انسان کے گروہ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے ایسے پھل پیدا کئے جنہیں  کھانے سے تمہیں  لذت حاصل ہوتی ہے توتم دونوں  اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟( روح البیان ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۶۹ ،  ۹ / ۳۱۲ ،  ملخصاً)

فِیْهِنَّ خَیْرٰتٌ حِسَانٌۚ(۷۰) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ(۷۱)

ترجمۂ کنزالایمان:  ان میں  عورتیں  ہیں  عادت کی نیک صورت کی اچھی۔ تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  ان میں  اچھے اخلاق والی، حسین شکل والی عورتیں  ہیں ۔ توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟

{فِیْهِنَّ: ان میں  عورتیں  ہیں ۔} یعنی ان دونوں  جنتوں  میں  اخلاق کے اعتبار سے اچھی اورصورت کے اعتبار سے حسین و جمیل عورتیں  ہیں ۔ (جلالین ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۷۰ ،  ص۴۴۵)

            حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  ’’جنت میں  حورِ عِین یہ نغمہ گائیں  گی ’’نَحْنُ الْخَیْرَاتُ الْحِسَانُ حُبِسْنَا لِاَزْوَاجٍ کِرَامٍ‘‘ ہم اچھی سیرت اور اچھی صورت والیاں  ہیں  ،ہم معزز و محترم شوہروں  کے لئے روکی گئی ہیں ۔( مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الجنّۃ ،  ما ذکر فی الجنّۃ وما فیہا ممّا اعدّ لاہلہا ،  ۸ / ۷۲ ،  الحدیث: ۳۵)

 اچھی عادت اچھی صورت سے افضل ہے:

          یہاں  اَخلاقی اچھائی کو اللہ تعالیٰ نے پہلے ذکر کیا ، اس سے معلوم ہوا کہ اچھی عادت اچھی صورت سے افضل ہے، لہٰذا نکاح کے لئے کسی عورت کا رشتہ دیکھتے وقت اس کے حسن وجمال کے مقابلے میں  اس کی اچھی سیرت ،اس کے اچھے کردار،اس کی دینداری اور اس کی اچھی عادات کو زیادہ ترجیح دینی چاہئے۔اَحادیث میں  بھی اسی چیز کی ترغیب دی گئی ہے ، چنانچہ ا س سے متعلق تین اَحادیث ملاحظہ ہوں ۔

(1)… حضرت ابو امامہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے تھے کہتقوے کے بعد مومن کے لیے نیک بیوی سے بہتر کوئی چیز نہیں ۔ اگر وہ اسے حکم کرتا ہے تو وہ اطاعت کرتی ہے اور اسے دیکھے تو وہ خوش کر دیتی ہے اور اس پر قسم کھا بیٹھے تو قسم سچی کر دیتی ہے اور اگر کہیں  کو چلا جائے تو اپنے نفس اور شوہر کے مال میں  بھلائی کرتی ہے (یعنی اس میں  خیانت نہیں  کرتی اور نہ ہی اسے ضائع کرتی ہے)۔( ابن ماجہ ،  کتاب النکاح ،  باب افضل النساء ،  ۲ / ۴۱۴ ،  الحدیث: ۱۸۵۷)

(2)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’عورت سے نکاح چار باتوں  کی وجہ سے کیا جاتا ہے (یعنی نکاح میں  ان چار باتوں کا لحاظ ہوتا ہے) (1)مال (2)حسب نسب (3)حسن وجمال اور(4)دین ۔اور تم دین والی کو ترجیح دو۔( بخاری ،  کتاب النکاح ،  باب الاکفّاء فی الدِّین ،  ۳ / ۴۲۹ ،  الحدیث: ۵۰۹۰)

(3)…حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’جو کسی عورت سے اس کی عزت کی وجہ سے نکاح کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کی ذلت میں  اضافہ کرے گا اور جو کسی عورت سے اس کے مال کے سبب نکاح کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کی     محتاجی ہی بڑھائے گا اور جو کسی عورت سے اس کے حسب کی بنا پرنکاح کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے کمینہ پن میں  اضافہ فرمائے گا اور جو اس لیے نکاح کرے کہ اِدھر اُدھر نگاہ نہ اُٹھے اور پاک دامنی حاصل ہو یا صِلۂ رحم کرے تو اللہ تعالیٰ اس مرد کے لیے اس عورت میں  برکت دے گا اور عورت کے لیے مرد میں  برکت دے گا۔( معجم الاوسط ،  باب الالف ،  من اسمہ: ابراہیم ،  ۲ / ۱۸ ،  الحدیث: ۲۳۴۲)

{فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ: توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟} یعنی اے جن اور انسان کے گروہ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے سامنے جنّتی عورتوں  کے اوصاف بیان کر کے تم پر انعام فرمایا توتم دونوں  اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟( روح البیان ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۷۱ ،  ۹ / ۳۱۳ ،  ملخصاً)

حُوْرٌ مَّقْصُوْرٰتٌ فِی الْخِیَامِۚ(۷۲) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ(۷۳)

ترجمۂ کنزالایمان: حوریں  ہیں  خیموں  میں  پردہ نشین۔تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: خیموں  میں  پردہ نشین حوریں  ہیں ۔ توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟

{حُوْرٌ: حوریں ۔} ارشاد فرمایا کہ ان جنتوں  میں  خیموں  میں  پردہ نشین حوریں  ہیں  جو کہ اپنی شرافت اور کرامت کی وجہ سے ان خیموں  سے باہر نہیں  نکلتیں  ۔ (خازن ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۷۲ ،  ۴ / ۲۱۵)

 جنتی حور اور ا س کے خیموں  کا حال:

            حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ اگر جنتی عورتوں  میں  سے زمین کی طرف کسی ایک کی جھلک پڑجائے تو آسمان وزمین کے درمیان کی تمام فضا روشن ہوجائے اور خوشبو سے بھر جائے۔( بخاری ،  کتاب الرقاق ،  باب صفۃ الجنّۃ والنار ،  ۴ / ۲۶۴ ،  الحدیث: ۶۵۶۸)

            اورحضرت ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’مؤمن کے لئے جنت میں  ایک کھوکْھلے موتی کا خیمہ ہو گا، اس کی لمبائی 60میل ہو گی، مؤمن کے ا ہل ِخانہ بھی اس میں  رہیں  گے ،مؤمن ان کے پاس (حقِ زوجیّت ادا کرنے کے لئے) چکر لگائے گا اور ان میں  سے بعض بعض کو نہیں  دیکھ سکیں  گے۔( مسلم ، کتاب الجنّۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا ، باب فی صفۃ خیام الجنّۃ وما للمؤمنین فیہا من الاہلین ، ص۱۵۲۲ ، الحدیث: ۲۳(۲۸۳۸))

 



Total Pages: 250

Go To