Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

(5)… حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اگرچہ جنت میں  رہے اور وہاں  کی نعمتیں  کھائیں ، مگر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حوروں  کی طرف مائل نہ ہوئے کیونکہ حوریں  صرف جزا کے طور پر ملیں  گی ۔

{فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ: توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟} یعنی اے جن اور انسان کے گروہ!اللہ تعالیٰ نے تمہاری طبیعت کے موافق تمہارے لئے بیویاں  بنائیں  اور وہ تمہارے علاوہ کسی اور کی طرف نہیں  دیکھتیں  تو تم اللہ تعالیٰ کا انکار کس طرح کرتے ہو اور تم دونوں  اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟(تفسیر سمرقندی ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۵۷ ،  ۳ / ۳۱۰)

كَاَنَّهُنَّ الْیَاقُوْتُ وَ الْمَرْجَانُۚ(۵۸) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(۵۹)

ترجمۂ کنزالایمان: گویا وہ لعل اور مونگا ہیں ۔ تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: گویا وہ لعل اور مرجان (موتی) ہیں ۔ توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟

{كَاَنَّهُنَّ الْیَاقُوْتُ وَ الْمَرْجَانُ: گویا وہ لعل اور مرجان (موتی) ہیں ۔} یعنی جنتی حوریں  صفائی اور خوش رنگی میں  لعل اور مونگے پتھرکی طرح ہیں ۔ (مدارک ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۵۸ ،  ص۱۱۹۶)

جنّتی حوروں  کی صفائی اور خوش رنگی:

            جنتی حوروں  کے بارے میں  حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ جنتی عورتوں  کی پنڈلیوں  کی سفیدی ستر جوڑوں  کے نیچے سے نظر آئے گی یہاں  تک کہ پنڈلیوں  کا گودا بھی نظر آئے گا اور یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’ كَاَنَّهُنَّ الْیَاقُوْتُ وَ الْمَرْجَانُ‘‘ اور یاقوت ایک ایسا پتھر ہے کہ اگر اس میں  دھاگہ ڈال کر باہر سے دیکھنا چاہو تو دیکھ سکتے ہو۔( ترمذی ،  کتاب صفۃ الجنّۃ والنار ،  باب فی صفۃ نساء اہل الجنّۃ ،  ۴ / ۲۳۹ ،  الحدیث: ۲۵۴۱)

            اورحضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے مروی ہے کہ حورِعِین کی پنڈلی کا مغز (لباس کے) ستر جوڑوں  کے نیچے گوشت اور ہڈی کے پیچھے سے اس طرح نظر آتا ہے جس طرح شیشے کی صراحی میں  سرخ شراب نظر آتی ہے۔(کتاب الجامع فی آخر المصنف ،  باب الجنّۃ وصفتہا ،  ۱۰ / ۳۴۵ ،  الحدیث: ۲۱۰۳۱)

{فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ: توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟} یعنی اے جن اور انسان کے گروہ!اللہ تعالیٰ نے تمہاری نگاہوں  کی لذّت ان حوروں  کو دیکھنے میں  رکھی تو تم اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت اور اس کی نعمت کا انکار کس طرح کر سکتے ہو اور تم دونوں  اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟( تفسیر سمرقندی ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۵۹ ،  ۳ / ۳۱۱)

هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُۚ(۶۰) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(۶۱)

ترجمۂ کنزالایمان: نیکی کا بدلہ کیا ہے مگر نیکی۔تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: نیکی کا بدلہ نیکی ہی ہے۔ توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟

{هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ: نیکی کا بدلہ نیکی ہی ہے۔} یعنی جو (قیامت کے دن) اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  کھڑے ہونے سے ڈرا اور دنیا میں  اس نے اچھے عمل کئے اور اپنے رب تعالیٰ کی فرمانبرداری کی تو آخرت میں  اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ اس طرح احسان فرمائے گا کہ اسے اس کی دُنْیَوی نیکیوں  پر وہ جزا عطا فرمائے گا جو ان آیات میں  بیان ہوئی۔(تفسیر طبری ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۶۰ ،  ۱۱ / ۶۰۹)

            اورحضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرما تے ہیں  کہ جو ’’لَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللہ‘‘ کا قائل ہو اورنبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شریعت پر عامل ہو تو اس کی جزا ء جنت ہے۔( خازن ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۶۰ ،  ۴ / ۲۱۴)

{فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ: توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟} یعنی اے جن اور انسان کے گروہ! تم اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی نعمت کا انکار کس طرح کر سکتے ہو حالانکہ اس نے تمہاری نیکی کا ثواب جنت رکھی اور اسے تمہارے سامنے بیان کر دیا تاکہ تم نیک اعمال کر کے اللہ تعالیٰ کے ثواب اور اس کے احسان کو پا لو۔( تفسیر سمرقندی ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۶۱ ،  ۳ / ۳۱۱)

وَ مِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِۚ(۶۲) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۙ(۶۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ان کے سوا دو جنتیں  اور ہیں ۔تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ان کے علاوہ دو جنتیں  (اور) ہیں ۔توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟

{وَ مِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ: اور ان کے سوا دو جنتیں  اور ہیں ۔} یعنی جن دو جنتوں  کا ذکر اوپر گزرا ان کے علاوہ دو جنتیں  اور بھی ہیں  مگر یہ دونوں  ان پہلی جنتوں  سے مرتبے ، مقام اور فضیلت میں  کم ہیں ۔( روح البیان ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۶۲ ،  ۹ / ۳۱۰ ،  ملخصاً)

            حضرت ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’دو جنتیں  تو ایسی ہیں  جن کے برتن اور سامان چاندی کے ہیں  اور دو جنتیں  ایسی ہیں کہ جن کے برتن اور سامان سونے کے ہیں ۔( بخاری ،  کتاب التفسیر ،  سورۃ الرحمٰن ،  باب ومن دونہما جنّتان ،  ۳ / ۳۴۴ ،  الحدیث: ۴۸۷۸)

            امام ضحاک رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں  ’’پہلی دو جنتیں  سونے اور چاندی کی اور دُوسری دو جنتیں  یاقوت اور زَبَرجَد کی ہیں ۔( خازن ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۶۲ ،  ۴ / ۲۱۵)

 



Total Pages: 250

Go To