Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

ترجمۂ کنزالایمان: ان میں  ہر میوہ دو دو قسم کا۔تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ان دونوں  جنتوں  میں  ہر پھل کی دو دو قسمیں  ہیں ۔توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟

{فِیْهِمَا مِنْ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجٰنِ: ان دونوں  جنتوں  میں  ہر پھل کی دو دو قسمیں  ہیں ۔} دو قسموں  سے مراد یہ ہے کہ بعض وہ پھل ہیں  جو دنیا میں  دیکھے گئے اور بعض و ہ عجیب و غریب پھل ہیں جو اس سے پہلے کبھی نہ دیکھے گئے۔ یااس سے مراد یہ ہے کہ بعض پھل خشک ہیں  اور بعض تر ۔یا یہ مراد ہے کہ بعض پھل خالص میٹھے ہیں  اور بعض ترشی کی طرف مائل ہیں ۔( روح البیان ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۵۲ ،  ۹ / ۳۰۶)

{فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ: توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟} یعنی اے جن اور انسان کے گروہ! تم ان لذیذ نعمتوں  میں  سے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟( روح البیان ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۵۳ ،  ۹ / ۳۰۷)

مُتَّكِـٕیْنَ عَلٰى فُرُشٍۭ بَطَآىٕنُهَا مِنْ اِسْتَبْرَقٍؕ-وَ جَنَا الْجَنَّتَیْنِ دَانٍۚ(۵۴) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(۵۵)

ترجمۂ کنزالایمان: ایسے بچھونوں  پر تکیہ لگائے جن کا استر قناویز کا اور دونوں  کے میوے اتنے جھکے ہوئے کہ نیچے سے چن لو۔ تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: (جنتی) ایسے بچھونوں  پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں  گے جن کے اندرونی حصے موٹے ریشم کے ہیں  اور دونوں  جنتوں  کے پھل جھکے ہوئے ہوں  گے۔توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟

{مُتَّكِـٕیْنَ عَلٰى فُرُشٍۭ: بچھونوں  پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں  گے۔} یعنی جنتی لوگ بادشاہوں  کی طرح آرام اور راحت سے ایسے بچھونوں  پر ٹیک لگاکر بیٹھے ہوئے ہوں  گے جن کے اندرونی حصے موٹے ریشم کے ہوں  گے ۔( روح البیان ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۵۴ ،  ۹ / ۳۰۷)

             حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں ’’جب ا س بچھونے کے اندرونی حصے کا یہ حال ہے تو ظاہری حصے کا کیا حال ہو گا۔

            اورحضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں  : اللہ تعالیٰ نے ان بچھونوں  کے اندرونی حصے کا حال تو بیان کر دیا لیکن ظاہری حصے کا بیان نہیں  کیا کیونکہ زمین میں  کوئی ایسی چیز ہے ہی نہیں  جس سے ان کے ظاہری حصوں  کا حال پہچانا جا سکے۔ (خازن ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۵۴ ،  ۴ / ۲۱۳)

{وَ جَنَا الْجَنَّتَیْنِ دَانٍ: اور دونوں  جنتوں  کا پھل جھکاہوا ہے۔} یعنی ان دونوں  جنتوں  کا پھل اتنا قریب ہو گا کہ کھڑا، بیٹھا اور لیٹا ہر شخص اسے چن لے گا جبکہ دنیا کے پھلوں  میں  یہ خاصیت نہیں  ہے۔حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ درخت اتنا قریب ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے پیارے بندے کھڑے یابیٹھے جیسے چاہیں  گے اس کا پھل چن لیں  گے۔( خازن ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۵۴ ،  ۴ / ۲۱۴)

{فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ: توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟} یعنی اے جن اور انسان کے گروہ!ان لذیذ اور باقی رہنے والی نعمتوں  میں  سے تم دونوں  اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟( روح البیان ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۵۵ ،  ۹ / ۳۰۷)

فِیْهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِۙ-لَمْ یَطْمِثْهُنَّ اِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَ لَا جَآنٌّۚ(۵۶) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۚ(۵۷)

ترجمۂ کنزالایمان: ان بچھونوں  پر وہ عورتیں  ہیں  کہ شوہر کے سوا کسی کو آنکھ اٹھا کر نہیں  دیکھتیں  ان سے پہلے انہیں  نہ چھوا کسی آدمی اور نہ جِنّ نے۔ تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ان جنتوں  میں وہ عورتیں  ہیں  کہ شوہر کے سوا کسی کو آنکھ اٹھا کر نہیں  دیکھتیں ،جنہیں  ان کے شوہروں  سے پہلے نہ کسی آدمی نے چھوا اور نہ کسی جن نے۔ توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟

{فِیْهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ: ان جنتوں  میں وہ عورتیں  ہیں  کہ شوہر کے سوا کسی کو آنکھ اٹھا کر نہیں  دیکھتیں ۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ ان جنتوں  کے محلات میں  جنّتی مَردوں  کے لئے ایسی بیویاں  ہوں  گی جو اپنے شوہر کے علاوہ کسی اور کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں  دیکھیں  گی اور ان میں  سے ہر ایک اپنے شوہر سے کہے گی: مجھے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی عزت و جلال کی قسم! جنت میں  مجھے کوئی چیز تجھ سے زیادہ اچھی نہیں  معلوم ہوتی، تو اس خدا عَزَّوَجَلَّ کی حمد ہے جس نے تمہیں  میرا شوہر بنایا اور مجھے تمہاری بیوی بنایا ۔اور وہ بیویاں  ایسی ہوں  گی کہ انہیں  ان کے جنتی شوہروں  کے علاوہ نہ کسی آدمی نے چھوا ہوگا اور نہ ہی کسی جن نے ۔ ان بیویوں  سے مراد حورِعِین ہیں  کیونکہ وہ جنت میں  پیدا کی گئی ہیں ، اس لئے ان کے شوہروں  کے سوا انہیں  کسی نے نہیں  چھوا۔بعض مفسرین نے فرمایا ان سے مراد دنیا کی عورتیں  ہیں ،انہیں  دوبارہ کنواریاں  پیدا کیا جائے گا اور اس پیدائش کے بعد انہیں  ان کے شوہروں  کے علاوہ کسی اور نے نہ چھوا ہو گا۔( روح البیان ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۵۶ ،  ۹ / ۳۰۷-۳۰۸ ،  خازن ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۵۶ ،  ۴ / ۲۱۴ ،  ملتقطاً)

 آیت ’’ فِیْهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ‘‘سے حاصل ہونے و الی معلومات:

            اس آیت سے چند باتیں  معلوم ہوئیں ۔

(1)… تقویٰ اور شرم و حیا عورت کابہت بڑا کمال ہے۔

(2)… اجنبی عورت کا متقی پرہیز گار مرد سے بھی پردہ ہے کیونکہ جنت میں  سب متقی ہوں  گے، مگر ان سے بھی پردہ ہو گا۔

(3)… پردہ اللہ تعالیٰ کی وہ نعمت ہے جو جنت میں  بھی ہو گی۔

(4)…حوریں  پیدا ہو چکی ہیں  اور جنت کی تمام نعمتوں  کی طرح وہ بھی موجود ہیں ۔

 



Total Pages: 250

Go To