Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

(5)…ایک جنت اس کی رہائش کے لئے ہو گی اور دوسری جنت اس کی بیویوں  کی رہائش کے لئے ہو گی۔( خازن ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۴۶ ،  ۴ / ۲۱۳ ،  صاوی ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۴۶ ،  ۶ / ۲۰۸۱ ،  ملتقطاً)

 اللہ تعالٰی کا خوف بڑی اعلیٰ نعمت ہے:

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا خوف بڑی اعلیٰ نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں  کو اپنا خوف نصیب کرے۔

             امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کے زمانۂ مبارک میں  ایک نوجوان بہت متقی و پرہیز گار و عبادت گزار تھا، حتّٰی کہ حضرت عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ بھی اس کی عبادت پر تعجب کیا کرتے تھے ۔وہ نوجوان نمازِ عشاء مسجد میں  ادا کرنے کے بعداپنے بوڑھے باپ کی خدمت کرنے کے لئے جایا کرتا تھا ۔ راستے میں  ایک خوبرُو عورت اسے اپنی طرف بلاتی اور چھیڑتی تھی، لیکن یہ نوجوان اس پر توجہ دئیے بغیر نگاہیں  جھکائے گزر جایا کرتا تھا ۔ آخر کار ایک دن وہ نوجوان شیطان کے ورغلانے اور اس عورت کی دعوت پر برائی کے ارادے سے اس کی جانب بڑھا، لیکن جب دروازے پر پہنچا تو اسے اللہ تعالیٰ کا یہی فرمانِ عالیشان یاد آ گیا:

’’ اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰٓىٕفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَاهُمْ مُّبْصِرُوْنَ‘‘

ترجمۂ کنزُالعِرفان:بیشک جب شیطان کی طرف سےپرہیزگاروں  کو کوئی خیال آتا ہے تو وہ فوراًحکمِ خدا یاد کرتےہیں  پھراسی وقت ان کی آنکھیں  کھل جاتی ہیں ۔

            اس آیتِ پاک کے یاد آتے ہی اس کے دل پر اللہ تعالیٰ کا خوف اس قدر غالب ہوا کہ وہ بے ہوش ہو کر زمین پر گر گیا ۔جب یہ بہت دیر تک گھر نہ پہنچا تو اس کا بوڑھا باپ اسے تلاش کرتا ہوا وہاں  پہنچا اور لوگوں  کی مدد سے اسے اٹھوا کر گھر لے آیا۔ ہوش آنے پر باپ نے تمام واقعہ دریافت کیا ،نوجوان نے پورا واقعہ بیان کر کے جب اس آیت ِ پاک کا ذکر کیا، تو ایک مرتبہ پھر اس پر اللہ تعالیٰ کا شدید خوف غالب ہوا ،اس نے ایک زور دار چیخ ماری اور اس کا دم نکل گیا۔ راتوں  رات ہی اس کے غسل و کفن ودفن کا انتظام کر دیاگیا۔ صبح جب یہ واقعہ حضرت عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کی خدمت میں  پیش کیا گیا تو آپ اُس کے باپ کے پاس تَعْزِیَت کے لئے تشریف لے گئے اور اس سے فرمایا کہ ’’ آپ نے ہمیں  اطلاع کیوں  نہیں  دی ؟(تا کہ ہم بھی جنازے میں  شریک ہو جاتے) ۔اس نے عرض کی ’’امیر المومنین!اس کاا نتقال رات میں  ہوا تھا(اور آپ کے آرام کا خیال کرتے ہوئے بتانامناسب معلوم نہ ہوا)۔ آپ نے فرمایا کہ ’’مجھے اس کی قبر پر لے چلو۔‘‘ وہاں  پہنچ کر آپ نے یہ آیتِ مبارکہ پڑھی:

’’وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ‘‘

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو اپنے رب کے حضور کھڑےہونے سے ڈرے اس کے لیے دو جنتیں  ہیں ۔

            تو قبر میں  سے اس نوجوان نے جواب دیتے ہوئے کہا: یا امیرَ المومنین!بیشک میرے رب نے مجھے دو جنتیں  عطا فرمائی ہیں ۔‘‘(ابن عساکر ،  ذکر من اسمہ عمرو ،  عمرو بن جامع بن عمرو بن محمد۔۔۔ الخ ،  ۴۵ / ۴۵۰ ،  ذمّ الہوی ،  الباب الثانی و الثلاثون فی فضل من ذکر ربّہ فترک ذنبہ ،  ص۱۹۰-۱۹۱)

{فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۙ: توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟} یعنی اے جن اور انسان کے گروہ! جب اللہ تعالیٰ نے تمہارے اعمال کے ثواب کے لئے جنت بنائی ہے تو تم دونوں  اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟( تفسیر سمرقندی ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۴۷ ،  ۳ / ۳۱۰)

ذَوَاتَاۤ اَفْنَانٍۚ(۴۸) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(۴۹)

ترجمۂ کنزالایمان: بہت سی ڈالوں  والیاں ۔تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: شاخوں  والی ہیں ۔ توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟

{ذَوَاتَاۤ اَفْنَانٍ: شاخوں  والی ہیں ۔} یہاں  سے ان دو جنتوں  کے اوصاف بیان کئے جا رہے ہیں  ،چنانچہ ارشاد فرمایا کہ ان جنتوں  کا ایک وصف یہ ہے کہ وہ دونوں جنتیں  پھلوں  سے لدی ہوئی شاخوں  والی ہیں  اور ہر شاخ میں  قِسم قِسم کے میوے ہیں ۔( روح البیان ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۴۸ ،  ۹ / ۳۰۶ ،  ملخصاً)

{فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ: توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟} یعنی اے جن اور انسان کے گروہ! اطاعت گزاروں  کو ایسا ثواب دے کر اللہ تعالیٰ نے جو تم پر انعام فرمایا تو ان میں  سے تم دونوں  اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟( تفسیر طبری ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۴۹ ،  ۱۱ / ۶۰۴)

فِیْهِمَا عَیْنٰنِ تَجْرِیٰنِۚ(۵۰) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(۵۱)

ترجمۂ کنزالایمان: ان میں  دو چشمے بہتے ہیں ۔ تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ان میں  دو چشمے بہہ رہے ہیں ۔ توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟

{فِیْهِمَا عَیْنٰنِ تَجْرِیٰنِ: ان میں  دو چشمے بہہ رہے ہیں ۔} یہاں  ان جنتوں  کا ایک اور وصف بیان ہوا کہ ان میں  سے ہر ایک جنت میں صاف اور میٹھے پانی کے دو چشمے بہہ رہے ہیں ،ان میں  سے ایک کانام تسنیم اور دوسرے کا نام سَلسَبیل ہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ ایک چشمہ خراب نہ ہونے والے پانی کا ہے اور ایک چشمہ ایسی شراب کا ہے جو پینے والوں  کے لئے لذّت بخش ہے۔( صاوی ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۵۰ ،  ۶ / ۲۰۸۲)

{فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ: توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟} یعنی اے جن اور انسان کے گروہ!اللہ تعالیٰ نے تمہیں  یہ چشمے عطا کر کے تمہاری نعمت میں  اضافہ فرمایا تو تم اس کی قدرت اور نعمت کا انکار کیسے کر سکتے ہو اور تم دونوں  اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟ (تفسیر سمرقندی ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۵۱ ،  ۳ / ۳۱۰)

فِیْهِمَا مِنْ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجٰنِۚ(۵۲) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(۵۳)

 



Total Pages: 250

Go To