Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

سے) اسی کے وجہ کریم کی پناہ (چاہتے ہیں)۔(خزائن العرفان، الرحمٰن، تحت الآیۃ: ۳۵، ص۹۸۳)

            یاد رہے کہ پہلے سے اس کی خبر دے دینا یہ بھی اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے تاکہ اس کی نافرمانی سے باز رہ کر اپنے آپ کو اس بلاسے بچا یاجا سکے۔

{فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ: توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟} یعنی اے جن اور انسان کے گروہ!کافر اور گناہگار کا انجام پہلے سے بیان کر دینا اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم اور نعمت ہے تو تم دونوں  اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے؟( ابو سعود ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۳۶ ،  ۵ / ۶۶۵)

فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهَانِۚ(۳۷) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(۳۸)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر جب آسمان پھٹ جائے گا تو گلاب کے پھول سا ہوجائے گا جیسے سرخ نری۔ تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر جب آسمان پھٹ جائے گا تو گلاب کے پھول جیسا (سرخ) ہوجائے گا جیسے سرخ چمڑا۔ توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟

{فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآءُ: پھر جب آسمان پھٹ جائے گا۔} ارشاد فرمایا کہ پھر جب قیامت کے دن آسمان اس طرح پھٹ جائے گا کہ جگہ جگہ سے چیرا ہوا ہو گا اورا س کا رنگ گلاب کے پھول کی طرح اورایسا سرخ ہو گا جیسے بکرے کی رنگی  ہوئی کھال ہوتی ہے تو یہ ایسا ہَولْناک منظر ہوگا جسے بول کر بیان نہیں  کیا جا سکتا۔( روح البیان ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۳۷ ،  ۹ / ۳۰۲ ،  ملخصاً)

قیامت کے ہَولْناک مَناظِر کے بارے میں  پڑھ کر رونا:

            امام جلال الدین سیوطی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ اپنی مشہور تفسیر’’درمنثور‘‘ میں  نقل کرتے ہیں  ’’ایک مرتبہ نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ایک نوجوان کے پاس سے گزرے ،وہ نوجوان یہ آیت ’’فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآءُ فَكَانَتْ وَرْدَةً كَالدِّهَانِ‘‘ پڑھ رہا تھا،آپ وہیں  رک گئے اور دیکھا کہ اس نوجوان پر کپکپی طاری ہو گئی ہے اور آنسؤوں  نے اس کا گلا بند کر دیا ہے ،وہ روتا رہا اور یہی کہتا رہا:اس دن میری خرابی ہو گی جس دن آسمان پھٹ جائے گا۔سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس نوجوان سے فرمایا ’’اس ذات کی قسم! جس کے قبضۂ قدرت میں  میری جان ہے، تیرے رونے کی وجہ سے فرشتے بھی روئے ہیں ۔( در منثور ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۳۷ ،  ۷ / ۷۰۳)

            اس سے معلوم ہوا کہ قرآنِ مجید میں  جہاں  کہیں  قیامت کے ہَولْناک مناظر بیان کئے گئے ہیں  ،ان کی تلاوت کرتے وقت خوفزدہ ہونا ہمارے بزرگانِ دین کا طریقہ ہے ،لہٰذا ہمیں  بھی چاہئے کہ ایسے مقامات کی تلاوت کرتے وقت دل میں  خوف پیدا کرنے اور آنسوبہانے کی کوشش کرنی اور اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگنی چاہئے کہ وہ ہمیں  قیامت کی ہَولْناکْیوں  اور شدّتوں  میں  امن و سکون نصیب فرمائے ،اٰمین۔

{فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ: توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟} یعنی جب قیامت کے دن آسمان اللہ تعالیٰ کی ہَیبت سے پھٹ جائیں  گے اور اللہ تعالیٰ مخلوق کے حساب کا حکم دے گا تو اس وقت وہی تمہیں  قیامت کے دن کی ہَولْناکْیوں  سے نجات دے گا ،تو اے جن و انسان!تم دونوں  اس نعمت کا انکار کس طرح کر سکتے ہو۔( تفسیر سمرقندی ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۳۸ ،  ۳ / ۳۰۹)

فَیَوْمَىٕذٍ لَّا یُسْــٴَـلُ عَنْ ذَنْۢبِهٖۤ اِنْسٌ وَّ لَا جَآنٌّۚ(۳۹) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(۴۰)

ترجمۂ کنزالایمان: تو اس دن گنہگار کے گناہ کی پوچھ نہ ہوگی کسی آدمی اور جن سے۔ تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اس دن کسی آدمی اور جِن سے اس کے گناہ کے متعلق نہیں  پوچھا جائے گا۔توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟

{فَیَوْمَىٕذٍ: تو اس دن۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ جب لوگ قبروں  سے اُٹھائے جائیں  گے اور آسمان پھٹے گا تو اس دن فرشتے مجرموں  سے دریافت نہیں  کریں  گے بلکہ ان کی صورتیں  دیکھ کر ہی انہیں  پہچان لیں  گے اور ان سے سوال دوسرے وقت میں ہوگا جب کہ لوگ حساب کے مقام میں  جمع ہوں  گے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ جس دن آسمان پھٹے گا تو اس دن قبروں  سے نکلتے ہی فوراًکسی آدمی اور جن سے اس کے گناہ کے بارے میں  نہیں  پوچھا جائے گابلکہ جب وہ حساب کی جگہ میں  اکٹھے ہوں  گے تو اس وقت ان سے پوچھا جائے گا۔( خازن ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۳۹ ،  ۴ / ۲۱۲ ،  روح البیان ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۳۹ ،  ۹ / ۳۰۳ ،  صاوی ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۳۹ ،  ۶ / ۲۰۸۰ ،  ملتقطاً)

{فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ: توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟} یعنی اے جن اور انسان کے گروہ!تمہیں  ان چیزوں  کی خبر دینا جن سے ڈر کر تم گناہوں  سے باز آ جاؤ اور دنیا میں  ہی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کر لو،یہ بھی اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے، توتم دونوں  اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟( ابو سعود ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۴۰ ،  ۵ / ۶۶۵ ،  ملتقطاً)

یُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِیْمٰىهُمْ فَیُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِیْ وَ الْاَقْدَامِۚ(۴۱) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(۴۲)

ترجمۂ کنزالایمان: مجرم اپنے چہرے سے پہچانے جائیں  گے تو ماتھا اور پاؤں  پکڑ کر جہنم میں  ڈالے جائیں  گے۔تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: مجرم اپنے چہروں  سے پہچانے جائیں  گے توانہیں  پیشانی اور پاؤں  سے پکڑا جائے گا۔ توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟

{یُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِیْمٰىهُمْ: مجرم اپنے چہروں  سے پہچانے جائیں  گے۔} ارشاد فرمایا کہ (قیامت کے دن) مجرم اپنے چہروں  سے اس طرح پہچانے جائیں  گے کہ اُن کے منہ کالے اور آنکھیں  نیلی ہوں  گی، تو حساب کے بعد جہنم کے خازن انہیں  پکڑیں  گے اور ان کے ہاتھ گردن سے باندھ دیں  گے اور ان کے پاؤں  پیٹھ کے پیچھے سے لا کر پیشانیوں  سے ملادیں  گے،پھر انہیں  چہروں  کے بل گھسیٹ کرجہنم میں  ڈال دیں  گے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض مجرم پیشانیوں  سے گھسیٹے جائیں  گے اوربعض پاؤں  سے گھسیٹ کر جہنم میں  ڈالے جائیں  گے۔( خازن ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۴۱ ،  ۴ / ۲۱۳ ،  تفسیر سمرقندی ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۴۱ ،  ۳ / ۳۰۹ ،  ملتقطاً)

{فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ: توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟} یعنی اے جن اور انسان کے گروہ!فرشتوں  کا تم میں  سے مجرموں  اوراطاعت گزاروں  کو ان کی



Total Pages: 250

Go To