Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

{اَیُّهَ الثَّقَلٰنِ: اے جن اور انسانوں  کے گروہ!۔} اس آیت میں  اللہ تعالیٰ نے جنوں  اور انسانوں  کو خوف دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے جن اور انسانوں  کے گروہ! عنقریب ہم تم سے حساب لینے اور تمہیں  تمہارے اعمال کی جزا دینے کا قصد فرمائیں  گے ۔

جِنّات اور انسانوں  کو ’’ ثَقَـلَانِ‘‘  فرمانے کی وجوہات:

             مفسرین نے جنوں  اور انسانوں  کو ’’ ثَقَـلَانِ‘‘ فرمائے جانے کی مختلف وجوہات بیان کی ہیں ،ان میں  تین وجوہات درج ذَیل ہیں :

(1)… زمین پر موجود دیگر مخلوق کے مقابلے میں  صرف جنوں  اور انسانوں  کو شرعی اَحکام کا مُکَلَّف بنایا گیا،ان کی اس عظمت کی وجہ سے انہیں  ’’ ثَقَـلَانِ‘‘ فرمایا گیا ۔

(2)…زندگی اور موت دونوں  صورتوں  میں  زمین پر ان کا وزن ہے، اس لئے انہیں  ’’ ثَقَـلَانِ‘‘ فرمایا گیا ۔

(3)…انہیں  ’’ ثَقَـلَانِ‘‘ اس لئے فرمایا گیا کہ یہ گناہوں  کی وجہ سے بھاری ہیں ۔( قرطبی ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۳۱ ،  ۹ / ۱۲۵ ،  الجزء السابع عشر ،  ملخصاً)

 تمام انسانوں  کے لئے نصیحت:

            اس آیت میں  تمام انسانوں  کے لئے نصیحت ہے کہ دنیا میں  وہ جیسے چاہیں  زندگی گزاریں  لیکن مرنے کے بعد انہیں  بہر حال اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  اپنے کئے ہوئے اعمال کا حساب دینا ہو گااور پھر جس طرح کے عمل کئے ہوں  گے اسی طرح کی جزا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملے گی ۔

          نوٹ:اس مقام پر ایک بات ذہن نشین رکھیں  کہ اللہ تعالیٰ کے لئے ’’فارغ ‘‘کا لفظ استعمال نہیں  کر سکتے کیونکہ اللہ تعالیٰ مصروفیت اور فراغت کے وصف سے پاک ہے ۔اس لئے یہاں  آیت میں  ’’ سَنَفْرُغُ‘‘ سے ا س کا حقیقی معنی ’’فراغت ‘‘مراد نہیں  بلکہ اس کا مجازی معنی ’’قصد کرنا‘‘ مراد ہے۔

{فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ: توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟} یعنی اے جن اور انسان کے گروہ!اللہ تعالیٰ کا دیگر نعمتیں  عطا کرنے کے ساتھ ساتھ قیامت کے دن اعمال کے حساب کے معاملے میں  تمہیں  تنبیہ کرنا بھی ایک نعمت ہے ،توتم دونوں  اپنے اقوال اور اعمال کے ذریعے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟(ابو سعود ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۳۲ ،  ۵ / ۶۶۴ ،  ملخصاً)

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْطَارِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ فَانْفُذُوْاؕ-لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍۚ(۳۳) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(۳۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اے جِنّ و انسان کے گروہ اگر تم سے ہوسکے کہ آسمانوں  اور زمین کے کناروں  سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ ، جہاں  نکل کر جاؤ گے اُسی کی سلطنت ہے۔ تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے جنوں  اور انسانوں  کے گروہ! اگر تم سے ہوسکے کہ آسمانوں  اور زمین کے کناروں  سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ،تم جہاں  نکل کر جاؤ گے (وہاں ) اسی کی سلطنت ہے۔ توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟

{یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ: اے جنوں  اور انسانوں  کے گروہ!} اس آیت میں  اللہ تعالیٰ نے جنوں  اور انسانوں  سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر تم میری قضاء سے بھاگ سکتے ہو،میری سلطنت اور میرے آسمانوں  اور زمین کے کناروں  سے نکل سکتے ہو تو ان سے نکل جاؤ اور اپنی جانوں  کو میرے عذاب سے بچا لو لیکن تم ا س بات پر قادر ہو ہی نہیں  سکتے کیونکہ تم جہاں  بھی جاؤ گے وہیں  میری سلطنت ہے۔یہ حکم جنوں  اور انسانوں  کا عجز ظاہر کرنے کے لئے دیا گیا ہے۔( ابو سعود ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۳۳ ،  ۵ / ۶۶۴ ،  جلالین ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۳۳ ،  ص۴۴۴ ،  ملتقطاً)

{فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ: توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟} یعنی اے جن اور انسان کے گروہ! اللہ تعالیٰ نے سزا دینے پر قادر ہونے کے باوجود تمہیں  تنبیہ کر کے،اپنے عذاب سے ڈرا کر، تم پر آسانی فرما کر اور تمہیں  معافی سے نواز کر تم پر جو انعامات فرمائے، تم دونوں  ان میں  سے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟( ابو سعود ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۳۴ ،  ۵ / ۶۶۴ ،  ملخصاً)

یُرْسَلُ عَلَیْكُمَا شُوَاظٌ مِّنْ نَّارٍ ﳔ وَّ نُحَاسٌ فَلَا تَنْتَصِرٰنِۚ(۳۵) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(۳۶)

ترجمۂ کنزالایمان: تم پر چھوڑی جائے گی بے دھویں  کی آگ کی لپٹ اور بے لپٹ کا کالا دھواں  تو پھر بدلہ نہ لے سکو گے۔تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم پر آگ کا بغیر دھویں  والا خالص شعلہ اور بغیر شعلے والا کالا دھواں  بھیجا جائے گا توتم ایک دوسرے کی مدد نہ کرسکو گے۔ توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟

{یُرْسَلُ عَلَیْكُمَا شُوَاظٌ مِّنْ نَّارٍ ﳔ وَّ نُحَاسٌ: تم پر آگ کا بغیر دھویں  والا خالص شعلہ اور بغیر شعلے والا کالا دھواں  بھیجا جائے گا۔} ارشاد فرمایا کہ اے (کافر) جن اور انسان!قیامت کے دن جب تم قبروں  سے نکلو گے تو تم پر آگ کا بغیر دھویں  والا خالص شعلہ اور بغیر شعلے والا کالا دھواں  بھیجا جائے گا تو اس وقت تم اس عذاب سے نہ بچ سکو گے اور نہ آپس میں  ایک دوسرے کی مدد کرسکوگے بلکہ یہ آگ کا شعلہ اور دھواں  تمہیں  محشرکی طرف لے جائیں  گے ۔(مدارک ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۳۵ ،  ص۱۱۹۵ ،  خازن ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۳۵ ،  ۴ / ۲۱۲ ،  جلالین ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۳۵ ،  ص۴۴۴ ،  ملتقطاً)

            صدرُ الافاضل مفتی نعیم الدین مراد آبادی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ لکھتے ہیں  : حضرت مترجم قُدِّسَ سِرُّہٗ (یعنی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہ)نے فرمایا: ’’ لَپَٹ (یعنی شعلے) میں  دھواں  ہو تو اس کے سب اجزاء جلانے والے نہ ہوں  گے کہ (اس میں ) زمین کے (وہ) اجزاء شامل ہیں  جن سے دھواں  بنتا ہے اور دھوئیں  میں  لپٹ ہو تو وہ پورا سیاہ اور اندھیرا  نہ ہوگا کہ لپٹ کی رنگت شامل ہے، ان پر بے دھوئیں  کی لپٹ بھیجی جائے گی جس کے سب اجزاء جلانے والے (ہوں  گے) اور بے لپٹ کا دھواں  (بھیجا جائے گا) جو سخت کالا، اندھیرا (ہوگا) اور (ہم اس عذاب



Total Pages: 250

Go To