Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

فنا ہونا بھی ایک اعتبار سے نعمت ہے:

            حضرت عبداللہ بن احمد نسفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  ’’فنا ہونااس اعتبار سے نعمت ہے کہ ایمان والے موت کے بعد اَبدی اور سَرمدی نعمتوں  کو پا ئیں  گے۔( مدارک ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۲۸ ،  ص۱۱۹۳)

            جیسا کہ حضرت ابو قتادہ بن ربعی انصاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  کہ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ نے فرمایا: ’’مُسْتَرِیْحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْہُ‘‘ صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ نے عرض کی: یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، مُسْتَرِیْحٌ اور مُسْتَرَاحٌ مِنْہ سے کیا مراد ہے؟ارشاد فرمایا: ’’مومن بندہ جب مرتا ہے تو وہ مصیبتوں  سے نجات پا کر اللہ تعالیٰ کی آغوشِ رحمت میں  جانا چاہتا ہے اور بدکار آدمی جب مرتا ہے تو اس کے مر جانے سے اللہ تعالیٰ کے بندے ،شہر، درخت اور جانور بھی راحت پانا چاہتے ہیں ۔( بخاری ،  کتاب الرقاق ،  باب سکرات الموت ،  ۴ / ۲۵۰ ،  الحدیث: ۶۵۱۲)

            اور حضرت یحییٰ بن معاذ رازی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  ’’موت کو خوش آمدید ہو کیونکہ یہ وہ چیز ہے جو حبیب کو حبیب کے قریب کر دیتی ہے۔( مدارک ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۲۸ ،  ص۱۱۹۳)

یَسْــٴَـلُهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-كُلَّ یَوْمٍ هُوَ فِیْ شَاْنٍۚ(۲۹) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(۳۰)

ترجمۂ کنزالایمان:  اسی کے منگتا ہیں  جتنے آسمانوں  اور زمین میں  ہیں  اُسے ہر دن ایک کام ہے۔ تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  آسمانوں  اور زمین میں  جتنے ہیں  سب اسی کے سوالی ہیں ، وہ ہر دن کسی کام میں  ہے۔ توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟

{یَسْــٴَـلُهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ: آسمانوں  اور زمین میں  جتنے ہیں  سب اسی کے سوالی ہیں ۔} یعنی آسمانوں  میں  رہنے والے فرشتے ہوں  یا زمین پر بسنے والے جن ، انسان یا اور کوئی مخلوق ،الغرض کوئی بھی اللہ تعالیٰ سے بے نیاز نہیں  بلکہ سب کے سب اس کے فضل کے     محتاج ہیں  اور زبانِ حال اورقال سے اسی کی بارگاہ کے سوالی ہیں  ۔اس میں  اللہ تعالیٰ کی قدرت کے کمال کی طرف اشارہ ہے کہ ہر مخلوق چاہے وہ کتنی ہی بڑی کیوں  نہ ہو، وہ اپنی ضروریّات کو ازخود پورا کرنے سے عاجز ہے اور اللہ تعالیٰ کی     محتاج ہے۔( خازن ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۲۹ ،  ۴ / ۲۱۱ ،  جلالین ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۲۹ ،  ص۴۴۴ ،  ملتقطاً)

{كُلَّ یَوْمٍ هُوَ فِیْ شَاْنٍ: وہ ہر دن کسی کام میں  ہے۔} اس آیت کے شانِ نزول کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ آیت ان یہودیوں  کے رد میں  نازل ہوئی جو کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہفتے کے دن کوئی کام نہیں  کرتا،چنانچہ اس آیت میں  ان کے قول کا باطل ہونا ظاہر فرمایا گیا ۔ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر وقت اپنی قدرت کے آثار ظاہر فرماتا ہے، کسی کو روزی دیتا ہے، کسی کو مارتا ہے اور کسی کو زندہ کرتا ہے، کسی کو عزت دیتا ہے اورکسی کو ذلت میں  مبتلا کر دیتا ہے، کسی کو مالدار کرتا ہے اور کسی کو       محتاج، کسی کے گناہ بخشتا ہے اور کسی کی تکلیف دور کرتا ہے۔( جلالین ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۲۹ ،  ص۴۴۴ ،  خازن ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۲۹ ،  ۴ / ۲۱۱ ،  ملتقطاً)

            یہاں  اسی سے متعلق دو اَحادیث اور ایک حکایت ملاحظہ ہو،

(1)…حضرت ابو درداء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس آیت ’’ كُلَّ یَوْمٍ هُوَ فِیْ شَاْنٍ‘‘کے بارے میں  ارشاد فرمایا کہ : ’’اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ گناہ بخشتا ہے، مَصائب و آلام دور کرتا ہے،کسی قوم کو بلندی عطا فرماتا ہے اور کسی قوم کو پَستی سے دوچار کر دیتا ہے۔( ابن ماجہ ،  کتاب السنّۃ ،  باب فیما انکرت الجہمیّۃ ،  ۱ / ۱۳۳ ،  الحدیث: ۲۰۲)

(2)…حضرت عبید بن عمیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے اس آیت ’’ كُلَّ یَوْمٍ هُوَ فِیْ شَاْنٍ‘‘ کے بارے میں  مروی ہے ’’اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ پریشان حال کی پریشانی دور کرتا ہے،دعاکرنے والے کی دعا قبول فرماتا ہے ،مریض کو شفا دیتا ہے اور مانگنے والے کو عطا کرتا ہے۔( مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الزہد ،  کلام عبید بن عمیر ،  ۸ / ۲۲۸ ،  الحدیث: ۹)

          منقول ہے کہ ایک بادشاہ نے اپنے وزیر سے اس آیت کے معنی دریافت کئے تو اُس نے ایک دن کی مہلت چاہی اور انتہائی پریشان و غمزدہ ہو کر اپنے مکان پر چلا آیا۔ اس کے ایک حبشی غلام نے وزیر کو پریشان دیکھ کر کہا: اے میرے آقا !آپ کو کیا مصیبت پیش آئی ہے ؟بیان توکیجئے ۔جب وزیر نے ساری بات ا س کے سامنے بیان کر دی تو غلام نے کہا’’میں  اس کے معنی بادشاہ کو سمجھادوں  گا۔ وزیر نے اس حبشی غلام کو بادشاہ کے سامنے پیش کیا تو غلام نے کہا: اے بادشاہ! اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ رات کو دن میں  داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں ، مردے سے زندہ نکالتا ہے اور زندے سے مردہ ، بیمار کو تندرستی دیتا ہے اور تندرست کو بیمار کرتا ہے، مصیبت زدہ کو رہائی دیتا ہے اور بے غموں  کو مصیبت میں  مبتلا کرتا ہے، عزت والوں  کو ذلیل کرتا ہے اور ذلیلوں  کو عزت دیتا ہے ،مالداروں  کو محتاج کرتا ہے اور محتاجوں  کو مالدار بنا تا ہے۔بادشاہ کوغلام کا جواب بہت پسند آیا اور اس نے وزیر کو حکم دیا کہ اس غلام کو وزارت کی خِلعت پہنادے۔ غلام نے وزیر سے کہا :اے آقا !یہ بھی اللہ تعالیٰ کی ایک شان ہے۔( مدارک ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۲۹ ،  ص۱۱۹۴)

            نوٹ :اس مقام پر ایک بات ذہن نشین رکھیں  کہ اللہ تعالیٰ کیلئے’’ مصروف‘‘ اور’’ مشغول ‘‘کا لفظ استعمال نہیں  کرسکتے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان اوصاف سے پاک ہے۔

{فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ: توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟} یعنی اے جن و انسان کے گروہ!اللہ تعالیٰ کے جوا حسانات بیان ہوئے ان کا مشاہدہ کرنے کے باوجودتم دونوں  اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟( ابو سعود ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۳۰ ،  ۵ / ۶۶۴)

سَنَفْرُغُ لَكُمْ اَیُّهَ الثَّقَلٰنِۚ(۳۱) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(۳۲)

ترجمۂ کنزالایمان: جلد سب کام نبٹا کر ہم تمہارے حساب کا قصد فرماتے ہیں  اے دونوں  بھاری گروہ۔ تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے جنوں  اور انسانوں  کے گروہ !ابھی ہم تمہارے حساب کا قصد فرمائیں  گے۔  توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟

 



Total Pages: 250

Go To