Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

’’ وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ‘‘(حجر:۲۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے انسان کوخشک بجتی ہوئی مٹی سے بنایا جو ایسے سیاہ گارے کی تھی جس سے بُو آتی تھی۔

            ان سب آیات کا معنی ایک ہی ہے اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پیدائش سے پہلے ہر قسم کی مٹی جمع فرمائی گئی ، پھر اسے پانی سے گوندھا گیا تو وہ مٹی ایسا سیاہ گارہ بن گئی جس سے بو آتی تھی، اس سے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا جسم مبارک بنایا اورجب وہ مٹی خشک ہو گئی تو ہوا گزرنے کی وجہ سے ٹھیکری کی طرح بجنے لگی۔

وَ خَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍۚ(۱۵) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(۱۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جن کو پیدا فرمایا آگ کے لوکے سے۔ تو تم دونوں  اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اس نے جن کوبغیر دھویں  والی آگ کے خالص شعلے سے پیدا کیا۔  تو (اے جن و انسان!) تم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟

{وَ خَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ: اور اس نے جن کوبغیر دھویں  والی آگ کے خالص شعلے سے پیدا کیا۔} یہاں  جن سے مراد ابلیس ہے۔( جلالین ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۱۵ ،  ص۴۴۴)

             ابلیس کو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے پہلے آگ سے پیدا فرمایا،جیسا کہ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

’’وَ الْجَآنَّ خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ‘‘(حجر:۲۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے اس سے پہلے جن کو بغیر دھویں  والی آگ سے پیدا کیا۔

             حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہَا سے روایت ہے،نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’فرشتوں  کو نور سے پیدا کیا گیا،ابلیس کو خالص آگ سے پیدا کیا گیا اور حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اس طرح پیدا کیا گیا جس طرح تمہارے سامنے (اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ) بیان کیا۔( مسلم ،  کتاب الزہد والرقائق ،  باب فی احادیث متفرقۃ ،  ص۱۵۹۷ ،  الحدیث: ۶۰(۲۹۹۶))

{فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ: تواے جن و انسان!تم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟} یعنی اے جن و انسان کے گروہ!تمہاری تخلیق کی مختلف ہَیئتوں  میں  اللہ تعالیٰ نے تم پر جو نعمتیں  فرمائیں  حتّٰی کہ تمہیں  مُرَکَّبات میں  سے افضل اور کائنا ت کا خلاصہ بنا دیا،ان میں  سے تم دونوں  اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟(بیضاوی ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۱۶ ،  ۵ / ۲۷۵)

رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ وَ رَبُّ الْمَغْرِبَیْنِۚ(۱۷) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(۱۸)

ترجمۂ کنزالایمان: دونوں  پورب کا رب اور دونوں  پچھم کا رب۔ تو تم دونوں  اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ دونوں  مشرقوں  کا رب ہے اور دونوں مغربوں کا رب ہے۔  تو تم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟

{رَبُّ الْمَشْرِقَیْنِ: وہ دونوں  مَشرقوں  کا رب ہے۔} اس آیت میں  دونوں  مشرق اور دونوں  مغرب سے گرمیوں  اور سردیوں  کے موسم میں  سورج طلوع اور غروب ہونے کے دونوں  مقام مراد ہیں  ۔( خازن ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۱۷ ،  ۴ / ۲۱۰)

{فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ: تو تم دونوں  اپنے رب کی کونسی نعمتوں  کوجھٹلاؤ گے؟} یعنی سردی اور گرمی کے دونوں  مشرقوں  اور مغربوں  میں  جو بے شمار فوائد ہیں  جیسے ہوا کا مُعتدل ہونا،مختلف موسموں  جیسے سردی گرمی بہار اور خزاں  کا آنا اور ہر موسم کی مناسبت سے مختلف چیزوں  کا پیدا ہونا وغیرہ ،توان میں  سے تم دونوں  اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی کونسی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟( بیضاوی ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۱۸ ،  ۵ / ۲۷۵)

مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیٰنِۙ(۱۹) بَیْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا یَبْغِیٰنِۚ(۲۰) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(۲۱) یَخْرُ جُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَ الْمَرْجَانُۚ(۲۲)فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ(۲۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اس نے دو سمندر بہائے کہ دیکھنے میں  معلوم ہوں  ملے ہوئے۔ اور ہے ان میں  روک کہ ایک دوسرے پر بڑھ نہیں  سکتا۔ تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے۔ان میں  سے موتی اور مونگا نکلتا ہے۔ تو اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اس نے دو سمندر بہائے کہ دونوں  ملے ہوئے (لگتے) ہیں ۔ ان کے درمیان ایک آڑ ہے کہ وہ ایک دوسرے کی طرف بڑھ نہیں  سکتے۔ توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟ ان سمندروں  سے موتی اور مرجان (موتی) نکلتا ہے۔ توتم دونوں  اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  کو جھٹلاؤ گے؟

{مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ: اس نے دو سمندر بہائے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میٹھے اور کھاری دو ایسے سمندر بہائے کہ دیکھنے میں  ان کی سطح آپس میں  ملی ہوئی لگتی ہے کیونکہ ان کے درمیان فاصلہ کرنے کے لئے ظاہری طور پر کوئی چیز حائل نہیں  لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ان کے درمیان ایک آڑ ہے جس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کی طرف بڑھ نہیں  سکتے بلکہ ہر ایک اپنی حد پر رہتا ہے اور دونوں  میں  سے کسی کا ذائقہ بھی تبدیل نہیں  ہوتا حالانکہ پانی کی خاصیت یہ ہے کہ وہ دوسرے پانی میں  فوراً مل جاتا ہے اور ا س کا ذائقہ بھی تبدیل کر دیتا ہے۔

میٹھے اور کھاری سمندروں  کا ذکر:

            ان سمندروں  کا ذکر کرتے ہوئے ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

’’وَ هُوَ الَّذِیْ مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌۚ-وَ جَعَلَ بَیْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا‘‘(فرقان:۵۳)

 



Total Pages: 250

Go To