Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور آسمان کو اللہ نے بلند کیا اور ترازو رکھی۔ کہ تولنے میں  نا انصافی نہ کرو۔

{وَ السَّمَآءَ رَفَعَهَا: اور آسمان کو اللہ نے بلند کیا۔} اللہ تعالیٰ نے آسمان کو محل اور رتبے کے اعتبار سے بلند پیدا فرمایا ہے۔ محل کے اعتبار سے بلندی تو ظاہر ہے کہ آسمان زمین سے اونچا ہے جبکہ رتبے کے اعتبار سے آسمان کی بلندی یہ ہے کہ وہ فرشتوں  کا مَسکن ہے اور یہیں  سے اللہ تعالیٰ کے اَحکام صادر ہوتے ہیں  ۔ (ابو سعود ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۷ ،  ۵ / ۶۶۱  ،  ملخصاً)

{وَ وَضَعَ الْمِیْزَانَ: اور ترازو رکھی۔} ایک قول یہ ہے کہ یہاں  میزان سے مراد عدل کرنا ہے،اس صورت میں  آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے (مخلوق کے درمیان تمام معاملات میں ) عدل کرنے کا حکم دیا ہے ۔اور ایک قول یہ ہے کہ میزان سے مراد وہ تمام آلات ہیں  جن سے اَشیاء کا وزن کیا جائے اور اُن کی مقداریں  معلوم ہوسکیں  جیسے ترازو ،اَشیاء ناپنے کے آلات اور پیمانے وغیرہ۔اس صورت میں  آیت کے اس حصے اور اس کے بعد والی آیت کامعنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر اَشیاء ناپنے اور تولنے کے آلات پیدا فرمائے اور اپنے بندوں  پر لین دین کے معاملات میں  عدل قائم رکھنے اور برابر ی کرنے کے اَحکام نافذ فرمائے تاکہ وہ ناپ تول میں  نا انصافی نہ کریں  اور کسی کی حق تَلفی نہ ہو۔( خازن ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۷-۸ ،  ۴ / ۲۰۹ ،  مدارک ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۷-۸ ،  ص۱۱۹۲ ،  ملتقطاً)

ناپنے تولنے کے آلات کی اہمیت:

            اللہ تعالیٰ کی جس نعمت کا بیان اس آیت میں  ہوا ا س کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے با آسانی لگا یاجاسکتا ہے کہ لوگ اپنے ساتھ غَبن اور دھوکہ دِہی پسند نہیں  کرتے اور نہ ہی کوئی اس بات پر راضی ہوتا ہے کہ دوسرا شخص کسی چیز میں  اس پر غالب آ جائے چاہے وہ چیز معمولی سی ہی کیوں  نہ ہو، لہٰذا اگر ناپ تول کے معاملات میں  عدل و انصاف اور برابری نہ ہو تو معاشرے میں جو جھگڑے اور فسادات برپا ہوں  گے اور آپس میں  جو بغض و عناد پیدا ہوگا وہ کسی عقلمند سے ڈھکا چھپا نہیں  ۔

             حضرت قتادہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ اسی آیت کی تفسیر میں  فرماتے ہیں  ’’اے انسان !تو دوسروں  کے ساتھ اسی طرح انصاف کر جس طرح تجھے پسند ہے کہ تیرے ساتھ انصاف کیا جائے اور تو دوسروں  کو اسی طرح پورا پورا ناپ تول کر دے جیسے تجھے پورا پورا ناپ تول کر لینا پسند ہے کیونکہ عدل و انصاف ہی سے لوگوں  کے حالات درست رہ سکتے ہیں ۔( تفسیر طبری ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۸ ،  ۱۱ / ۵۷۶)

وَ اَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَ(۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور انصاف کے ساتھ تول قائم کرو اور وزن نہ گھٹاؤ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور انصاف کے ساتھ تول قائم کرو اور وزن نہ گھٹاؤ۔

{وَ اَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ: اور انصاف کے ساتھ تول قائم کرو۔} یعنی جب تم لوگوں  کے لئے کوئی چیز ناپو یا تولو تو انصاف کے ساتھ ناپ تول کرو اور اس چیز کا وزن کم نہ کرو۔

ناپ تول میں  انصاف کرنے کا حکم دیاگیا:

             ناپ تول میں  انصاف کرنے کا حکم دیتے ہوئے ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَ زِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِؕ-ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا‘‘(بنی اسرائیل:۳۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب ماپ کرو تو پورا ماپ کرو اور بالکل صحیح ترازو سے وزن کرو۔ یہ بہتر ہے اور انجام کے اعتبار سے اچھا ہے۔

            اور ارشاد فرماتا ہے:

’’اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ لَا تَكُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِیْنَۚ(۱۸۱) وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِۚ(۱۸۲) وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ‘‘(شعراء:۱۸۱۔۱۸۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: (اے لوگو!) ناپ پورا کرو اورناپ تول کو گھٹانے والوں  میں  سے نہ ہوجاؤ۔ اور بالکل درست ترازوسے تولو۔ اور لوگوں  کو ان کی چیزیں  کم کرکے نہ دو اور زمین میں  فساد پھیلاتے نہ پھرو۔

            اور کم ناپنے تولنے والوں  کے بارے میں  ارشاد فرماتا ہے:

’’وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَۙ(۱) الَّذِیْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ٘ۖ(۲) وَ اِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّ زَنُوْهُمْ یُخْسِرُوْنَؕ(۳) اَلَا یَظُنُّ اُولٰٓىٕكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَۙ(۴) لِیَوْمٍ عَظِیْمٍۙ(۵) یَّوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ‘‘(مطففین:۱۔۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: کم تولنے والوں  کیلئے خرابی ہے۔ وہ  لوگ کہ جب دوسرے لوگوں  سے ناپ لیں  توپورا وصول کریں ۔ اور جب انہیں  ناپ یا تول کردیں  توکم کردیں ۔ کیا یہ لوگ یقین نہیں  رکھتے کہ انہیں  اٹھایا جائے گا۔ ایک عظمت والے دن کے لیے۔ جس دن سب لوگ ربُّ العالمین کے حضور کھڑے ہوں  گے۔

            اور حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں  ،رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ہماری طرف توجہ فرمائی اور ارشاد فرمایا ’’اے مہاجرین! جب تم پانچ باتوں  میں  مبتلا کر دئیے جاؤ اور میں  خدا سے پناہ مانگتا ہوں  کہ تم ان باتوں  کو پاؤ۔پہلی بات یہ ہے کہ جب کسی قوم میں  بے حیائی کے کام اعلانیہ ہونے لگ جائیں  تو ان میں  طاعون اور وہ بیماریاں  عام ہو جاتی ہیں  جو پہلے کبھی ظاہر نہ ہوئی تھیں ۔دوسری بات یہ ہے کہ جب لوگ ناپ تول میں  کمی کرنے لگ جاتے ہیں  تو ان پر قحط اور مصیبتیں  نازل ہوتی ہیں  اور بادشاہ ان پر ظلم کرتے ہیں ۔تیسری بات یہ ہے کہ جب لوگ زکوٰۃ کی ادائیگی چھوڑ دیتے ہیں  تو اللہ تعالیٰ بارش کو روک دیتا ہے،اگر زمین پر چوپائے نہ ہوتے تو آسمان سے پانی کا ایک قطرہ بھی نہ گرتا۔چوتھی بات یہ ہے کہ جب لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے عہد کو توڑ دیتے ہیں  تو اللہ تعالیٰ ان پران کے غیروں  میں  سے دشمنوں  کو مُسلّط کر دیتا ہے تو وہ ان کا مال وغیرہ چھین لیتے ہیں ۔پانچویں  بات یہ ہے کہ جب مسلمان حکمران اللہ تعالیٰ کے قانون کو چھوڑ کردوسرا قانون اور اللہ تعالیٰ کے اَحکام میں  سے کچھ لیتے اور کچھ چھوڑتے ہیں  تو اللہ تعالیٰ ان کے درمیان اختلاف پیدا فرما دیتا



Total Pages: 250

Go To