Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

’’وَ اِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ عَلِیْمٍ‘‘(نمل:۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور (اے محبوب!) بیشک آپ کو حکمت والے، علم والے کی طرف سے قرآن سکھایا جاتا ہے۔

            اور ایک جگہ واضح طور پر فرمادیا کہ

’’وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ‘‘(النساء:۱۱۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور آپ کو وہ سب کچھ سکھا دیا جو آپ نہ جانتے تھے۔

            اس سے معلوم ہوا کہ سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کاعلم تمام اَنبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بلکہ تمام مخلوق سے زیادہ ہے۔

خَلَقَ الْاِنْسَانَۙ(۳) عَلَّمَهُ الْبَیَانَ(۴)

ترجمۂ کنزالایمان: انسانیت کی جان محمد کو پیدا کیا۔ مَاکَانَ وَمَا یَکُوْن کا بیان اُنہیں  سکھایا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  انسان کو پیدا کیا۔ اسے بیان سکھایا۔

{خَلَقَ الْاِنْسَانَ: انسان کو پیدا کیا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت میں  ’’انسان‘‘ اور’’ بیان‘‘ کے مِصداق کے بارے میں  مفسرین کے مختلف قول ہیں ۔ ایک قول یہ ہے کہ یہاں  انسان سے مراد دو عالَم کے سردار محمد مصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہیں  اور بیان سے’’مَاکَانَ وَمَا یَکُوْنُ‘‘یعنی جو کچھ ہو چکا اور جو کچھ آئندہ ہو گا، کا بیان مراد ہے کیونکہ نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اَوّلین و آخرین اور قیامت کے دن کی خبریں  دیتے تھے۔ ایک قول یہ ہے کہ یہاں  انسان سے مراد حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں  اور بیان سے مراد تمام چیزوں  کے اَسماء اور تما م زبانوں  کا بیان مراد ہے اور ایک قول یہ ہے کہ یہاں  انسان سے اس کی جنس یعنی حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی تمام اولاد مراد ہے اور بیان سے مراد گفتگو کی صلاحیت ہے جس کی وجہ سے انسان دیگر حیوانوں  سے ممتاز ہوتا ہے۔( خازن ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۳-۴ ،  ۴ / ۲۰۸ ،  صاوی ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۳-۴ ،  ۶ / ۲۲۷۳-۲۲۷۴ ،  ملتقطاً)

اَلشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ بِحُسْبَانٍۙ(۵)

ترجمۂ کنزالایمان: سورج اور چاند حساب سے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: سورج اور چاند حساب سے ہیں ۔

{اَلشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ: سورج اور چاند حساب سے ہیں ۔} اس آیت میں  اللہ تعالیٰ نے آسمانی نعمتوں  میں  دو ایسی نعمتیں  بیان فرمائیں  جو ظاہری طور پر نظر آتی ہیں  اوروہ نعمتیں  سورج اور چاند ہیں  ،ان نعمتوں  کی اہمیت کا اندازہ  اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر سورج نہ ہوتا تو اندھیرا کبھی ختم ہی نہ ہوتا اور اگر چاند نہ ہوتا تو بہت ساری ظاہری نعمتیں  ختم ہو کر رہ جاتیں  اور ان کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ سورج اور چاند مُعَیّن اندازے کے ساتھ اپنے اپنے بُروج اور مَنازل میں  حرکت کرتے ہیں  کیونکہ اگر سورج حرکت کرنے کی بجائے ایک ہی جگہ کھڑ ارہے تو ا س سے کوئی بھی فائدہ نہیں  اٹھا سکتا اور اگر ا س کی گردش لوگوں  کو معلوم نہ ہو تو وہ معاملات ٹھیک طرح سے سر انجام نہیں  دے سکتے اور ان کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اوقات کے حساب سالوں  اور مہینوں  کاشمارانہیں  کی رفتارسے ہوتا ہے۔( تفسیرکبیر ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۵ ،  ۱۰ / ۳۳۹ ،  مدارک ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۵ ،  ص۱۱۹۱ ،  ملتقطاً)

وَّ النَّجْمُ وَ الشَّجَرُ یَسْجُدٰنِ(۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور سبزے اور پیڑ سجدہ کرتے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بغیر تنے والی نباتات اور درخت سجدہ کرتے ہیں ۔

{وَ النَّجْمُ وَ الشَّجَرُ یَسْجُدٰنِ: اور بغیر تنے والی نباتات اور درخت سجدہ کرتے ہیں ۔} یہاں  ’’نجم‘‘ سے مراد زمین سے پیدا ہونے والی وہ نباتا ت ہیں  جو تنا نہیں  رکھتیں  جیسے سبزہ اور انگور کی بیل وغیرہ اور ’’شجر‘‘ سے مراد وہ نباتات ہیں  جو تنا ر کھتی ہیں  جیسے گندم ،جَو اور درخت وغیرہ اور ان کے سجدہ کرنے سے مراد یہ ہے کہ ان کے سائے سجدہ کرتے ہیں  ،اس کی تائید اس آیت سے بھی ہوتی ہے:

’’اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ الشَّمَآىٕلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَ هُمْ دٰخِرُوْنَ‘‘(نحل:۴۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور کیا انہوں  نے اس طرف نہ دیکھا کہ اللہ نے جوچیز بھی پیدا فرمائی ہے اس کے سائے اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے دائیں  اور بائیں  جھکتے ہیں  اور وہ سائے عاجزی کررہے ہیں ۔

            اوربعض مفسرین نے فرمایا کہ سجدہ کرنے سے مراد یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے فرمانبردار ہیں ۔( ابو سعود ،  الرحمٰن ، تحت الآیۃ: ۶ ،  ۵ / ۶۶۰  ،   تفسیرکبیر ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۶ ،  ۱۰ / ۳۴۱ ،  خازن ،  الرحمٰن ،  تحت الآیۃ: ۶ ،  ۴ / ۲۰۸-۲۰۹ ،  ملتقطاً)

سبزے اور درختوں  کی اہمیّت:

            یاد رہے کہ سبزے اوردرخت زمین پر اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمتیں  ہیں  اور ان نعمتوں  کی اہمیت کا کچھ اندازہ یوں  لگا سکتے ہیں  کہ اگر یہ نہ ہوں  تو انسان رزق کے وافر حصے سے محروم ہو جائے گا اور جانوروں  کا گوشت کھانے کو تَرس جائے گا کیونکہ جانوروں  کی نَشوونُما انہیں  سے ہوتی ہے اور جب یہ سبزے نہ ہوں  گے تو جانور کیسے پلیں  بڑھیں  گے اور جب جانور پلیں  بڑھیں  گے نہیں  تو انسان ان کا گوشت کہاں  سے حاصل کریں  گے۔

وَ السَّمَآءَ رَفَعَهَا وَ وَضَعَ الْمِیْزَانَۙ(۷) اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِ(۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اور آسمان کو اللہ نے بلند کیا اور ترازو رکھی۔ کہ ترازو میں  بے اعتدالی نہ کرو۔

 



Total Pages: 250

Go To