Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے تمہارے جیسے (بہت سے گروہ)ہلاک کردئیے تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا۔

{وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَاۤ اَشْیَاعَكُمْ: اور بیشک ہم نے تمہارے جیسے (بہت سے گروہ)ہلاک کردئیے۔}اس آیت میں  اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب  صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو جھٹلانے والے کفارِ قریش سے فرمایا کہ اے کفارِ قریش!بے شک ہم نے پہلی امتوں  میں  سے بہت سے کفار کے گروہ ہلاک کردئیے ہیں  ،وہ بھی تمہاری طرح اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرتے اور اس کے رسولوں  کو جھٹلاتے تھے تو تم میں  کوئی ایساشخص ہے جو ان کے انجام سے عبرت اور نصیحت حاصل کرے۔(تفسیر طبری ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۵۱ ،  ۱۱ / ۵۷۰)

وَ كُلُّ شَیْءٍ فَعَلُوْهُ فِی الزُّبُرِ(۵۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور انہوں  نے جو کچھ کیا سب کتابوں  میں  ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور انہوں  نے جو کچھ کیا وہ سب کتابوں  میں  موجودہے۔

{وَ كُلُّ شَیْءٍ فَعَلُوْهُ: اور انہوں  نے جو کچھ کیا ۔}  مزید ارشاد فرمایا کہ اے کفارِ قریش!پہلی امتوں  میں  سے تم جیسے کفار نے جو کچھ کیا وہ سب ان کتابوں  میں  موجود ہے جنہیں  ان پر مقرر فرشتوں  نے لکھا ہے۔بعض مفسرین نے اس آیت کے یہ معنی بھی بیان کئے ہیں  کہ بندوں کے تمام اَفعال اَعمال لکھنے والے فرشتوں  کے صحیفوں  میں  موجود ہیں ۔( تفسیر طبری ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۵۲ ،  ۱۱ / ۵۷۰ ، جلالین ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۵۲ ،  ص۴۴۳ ،  ملتقطاً)

            امام فخرالدین رازی  رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  ’’اس آیت میں  اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پہلی امتوں  کے کفارکی ہلاکت کے بعد ان کا کام ختم نہیں  ہو گیا بلکہ ان کی ہلاکت تو ان کا وہ عذاب ہے جو ان پر دنیا میں  آیا اوران کا اُخروی عذاب ابھی آئے گا جو کہ اِن کے اُن اعمال کے بدلے میں  تیار کیا گیا ہے جو ان کے اعمال ناموں  میں  لکھے ہوئے ہیں۔(تفسیر کبیر ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۵۲ ،  ۱۰ / ۳۳۰)

وَ كُلُّ صَغِیْرٍ وَّ كَبِیْرٍ مُّسْتَطَرٌ(۵۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہر چھوٹی بڑی چیز لکھی ہوئی ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہر چھوٹی اوربڑی چیز لکھی ہوئی ہے۔

{وَ كُلُّ صَغِیْرٍ وَّ كَبِیْرٍ مُّسْتَطَرٌ: اور ہر چھوٹی اوربڑی چیز لکھی ہوئی ہے۔ } یعنی چھوٹے اور بڑے تمام اعمال اپنی تفصیل کے ساتھ لوحِ محفوظ میں  لکھے ہو ئے ہیں ۔ (روح البیان ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۵۳ ،  ۹ / ۲۸۵)

سب کے لئے نصیحت:

            ان آیات میں  ہر مسلمان کے لئے بڑی نصیحت ہے کہ اس کے تمام اعمال لوحِ محفوظ میں  لکھے ہوئے ہیں  اور اَعمال لکھنے والے فرشتے بھی اپنے صحیفوں  میں  اس کا ہر ہر عمل لکھ رہے ہیں اورپھر قیامت کے دن ہر شخص ان اعمال ناموں  کو اپنے سامنے پائے گا ۔اس نازک ترین مرحلے کی منظر کشی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْهِ وَ یَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَاۚ-وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًاؕ-وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا‘‘(کہف:۴۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور نامہ اعمال رکھا جائے گا تو تم مجرموں  کو دیکھو گے کہ اس میں  جو( لکھا ہوا) ہوگا اس سے ڈررہے ہوں  گے اورکہیں  گے: ہائے ہماری خرابی! اس نامہ اعمال کو کیاہے کہ اس نے ہر چھوٹے اور بڑے گناہ کو گھیرا ہوا ہے اور لوگ اپنے تمام اعمال کو اپنے سامنے موجود پائیں  گے اور تمہارا رب کسی پر ظلم نہیں  کرے گا۔

            اور ارشاد فرماتا ہے:

’’یَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا ﳝ- وَّ مَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْٓءٍۚۛ-تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیْنَهَا وَ بَیْنَهٗۤ اَمَدًۢا بَعِیْدًاؕ-وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗؕ-وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ‘‘(ال عمران:۳۰)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: (یاد کرو)جس دن ہر شخص اپنے تمام اچھے اور برے اعمال اپنے سامنے موجود پائے گا توتمنا کرے گاکہ کاش اس کے درمیان اور اس کے اعمال کے درمیان کوئی دور دراز کی مسافت(حائل) ہوجائے اور اللہ تمہیں  اپنے عذاب سے ڈراتا ہے اور اللہبندوں  پربڑامہربان ہے۔

             لہٰذا ہرایک کو چاہئے کہ وہ چھوٹے بڑے تمام گناہوں  سے بچے اور جو گناہ سرزد ہو چکے ان سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  سچی توبہ کر لے۔حضرت یحییٰ بن معاذ رازی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  ’’جسے یہ معلوم ہے کہ اس کے اعمال قیامت کے دن ا س کے سامنے پیش کئے جائیں  گے اور ان اعمال کے مطابق اسے جزا دی جائے گی تو اسے چاہئے کہ اپنے کام درست کرنے کی کوشش کرے اور اپنے اعمال میں  اخلاص پیدا کرے اور جو گناہ اس سے ہو چکے ان سے لازمی توبہ کر لے۔( روح البیان ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۵۳ ،  ۹ / ۲۸۵)اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ نَهَرٍۙ(۵۴) فِیْ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِیْكٍ مُّقْتَدِرٍ۠(۵۵)

ترجمۂ کنزالایمان: بے شک پرہیزگار باغوں  اور نہر میں  ہیں  ۔سچ کی مجلس میں  عظیم قدرت والے بادشاہ کے حضور ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک پرہیزگار لوگ باغوں  اور نہروں  میں  ہوں  گے۔ عظیم قدرت والے بادشاہ کے حضورسچ کی مجلس میں  ہوں  گے۔

{اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ: بیشک پرہیزگار لوگ۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت میں  مُتّقی لوگوں  کی جزاء بیان کی گئی ہے کہ بے شک وہ لوگ جو کفر اور گناہوں  سے بچے رہے ،وہ ایسے عظیم



Total Pages: 250

Go To