Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

...الخ ،  ۳ / ۲۴۷ ،  الحدیث: ۴۶۸۶)

            لہٰذا اس امت کے ہر ایک فرد کو ان آیات میں  غور کرنا چاہئے اور ہر ایک کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی نافرمانی سے بچے تاکہ اللہ  تعالیٰ کی گرفت سے محفوظ رہے۔

اَكُفَّارُكُمْ خَیْرٌ مِّنْ اُولٰٓىٕكُمْ اَمْ لَكُمْ بَرَآءَةٌ فِی الزُّبُرِۚ(۴۳)

ترجمۂ کنزالایمان: کیا تمہارے کافر ان سے بہتر ہیں  یا کتابوں  میں  تمہاری چُھٹی لکھی ہوئی ہے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  کیا تمہارے کافر اُن (پہلوں )سے بہتر ہیں  یا کتابوں  میں  تمہارے لئے نجات لکھی ہوئی ہے؟

{اَكُفَّارُكُمْ خَیْرٌ مِّنْ اُولٰٓىٕكُمْ: کیا تمہارے کافر ان سے بہتر ہیں  ۔} اس آیت میں  کفارِ مکہ کو ڈراتے ہوئے فرمایا گیا کہ اے اہلِ مکہ! کیا تمہارے کافر حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کی قوم، عاد،ثمود،حضرت لوط  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم اور فرعون کی قوم سے زیادہ طاقتور اور توانا ہیں  یا وہ کفر و عناد میں  کچھ ان سے کم ہیں ۔ مراد یہ ہے کہ تم سے پہلے کے کافر تم سے زیادہ مضبوط اور طاقتور تھے ،اس کے باوجود ان کی سرکشی کی بنا پر جو کچھ ان کے ساتھ ہو اوہ تم نے سن لیا ،توکیا تمہیں  یہ امید ہے کہ تمہیں  ان جیساعذاب نہیں  ہو گا حالانکہ تمہارا حال ان سے بہت بدتر ہے، یا یہ بات ہے کہ اللہ  تعالیٰ کی کتابوں  میں  تمہارے لئے نجات لکھی ہوئی ہے کہ تمہارے کفر کی گرفت نہ ہوگی اور تم عذابِ الہٰی سے امن میں  رہو گے اوراس وجہ سے تم اپنے کفر و سرکشی پر ڈٹے ہوئے ہو۔ایسا تو ہر گز نہیں  ہے۔( خازن ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۴۳ ،  ۴ / ۲۰۵ ،  مدارک ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۴۳ ،  ص۱۱۸۹ ،  روح البیان ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۴۳ ،  ۹ / ۲۸۲ ،  ملتقطاً)

اَمْ یَقُوْلُوْنَ نَحْنُ جَمِیْعٌ مُّنْتَصِرٌ(۴۴)سَیُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ یُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ(۴۵)

ترجمۂ کنزالایمان: یا یہ کہتے ہیں  کہ ہم سب مل کر بدلہ لے لیں  گے۔اب بھگائی جاتی ہے یہ جماعت اور پیٹھیں  پھیر دیں  گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یا وہ یہ کہتے ہیں  کہ ہم سب بدلہ لے لیں  گے۔عنقریب سب بھگادیئے جائیں  گے اور وہ پیٹھ پھیردیں  گے۔

{اَمْ یَقُوْلُوْنَ: یا وہ یہ کہتے ہیں ۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کیا کفارِ قریش اپنی جہالت اور قوت و شوکت کی وجہ سے یہ کہتے ہیں  کہ ہم سب مل کرمحمد  صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے بدلہ لیں  گے ؟ اللہتعالیٰ نے ان کا رد کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ عنقریب کفارِ مکہ کے گروہ میں  شامل سب لوگ بھگادیئے جائیں  گے اور وہ پیٹھ پھیر دیں  گے اور اس طرح بھاگیں  گے کہ ان میں  سے ایک بھی قائم نہ رہے گا۔شانِ نزول:جب غزوۂ بدر کے دن ابوجہل نے کہا کہ ہم سب مل کر بدلہ لیں  گے تو یہ آیت نازل ہوئی ’’ سَیُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ یُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ‘‘ اور سرکارِ دو عالَم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے زرہ پہن کر یہ آیت تلاوت فرمائی اور پھر ایسا ہی ہوا کہ رسولِ کریم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو فتح نصیب ہوئی اور کفار کو ہزیمت و شکست سے دوچارہونا پڑا۔(جلالین مع صاوی  ،  القمر  ،  تحت الآیۃ : ۴۴ - ۴۵  ،  ۶  /  ۲۰۶۹ - ۲۰۷۰ ،  روح البیان ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۴۴-۴۵ ،  ۹ / ۲۸۲ ،  ملتقطاً)

            بعض علماء کے نزدیک یہ آیت مدنی ہے اور بعض کے نزدیک مکی ہے ،ان دونوں  اَقوال میں  تطبیق اس طرح ممکن ہے کہ یہ آیت ایک مرتبہ مکے میں  اور ایک مرتبہ مدینے میں  نازل ہوئی ۔

بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَ السَّاعَةُ اَدْهٰى وَ اَمَرُّ(۴۶)

ترجمۂ کنزالایمان: بلکہ ان کا وعدہ قیامت پر ہے اور قیامت نہایت کڑی اور سخت کڑوی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بلکہ ان کا وعدہ قیامت ہے اور قیامت سب سے زیادہ سخت اور سب سے زیادہ کڑوی ہے۔

{بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ: بلکہ ان کا وعدہ قیامت ہے۔}  یعنی بدر کی شکست کفارِ مکہ کا پورا عذاب نہیں  بلکہ اس عذاب کے بعد انہیں  قیامت کے دن اصل عذاب کا وعدہ ہے اور قیامت سب سے زیادہ سخت اور سب سے زیادہ کڑوی ہے کہ دُنْیَوی عذاب کے مقابلے میں  اس کا عذاب بہت زیادہ سخت ہے کیونکہ دُنْیَوی عذاب جیسے قید ہونا،قتل ہونا اور شکست کھانا وغیرہ تو اُخروی عذاب کی ایک جھلک ہے۔( روح البیان ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۴۶ ،  ۹ / ۲۸۲-۲۸۳)

اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ ضَلٰلٍ وَّ سُعُرٍۘ(۴۷)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک مجرم گمراہ اور دیوانے ہیں  ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک مجرم گمراہی اور دیوانگی میں  ہیں ۔

{اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ: بیشک مجرم ۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ بے شک اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والے، اس کے رسولوں  کو جھٹلانے والے ، مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر اللہ  تعالیٰ کی قدرت کا اور حشر کاانکار کرنے والے مشرکین دنیا میں  گمراہ اور دیوانے ہیں  کہ نہ سمجھتے ہیں  اور نہ راہ یاب ہوتے ہیں ۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ تمام مشرکین دنیا میں  حق سے گمراہ ہیں  اور آخرت میں  جہنم میں  ہوں  گے۔( تفسیر کبیر ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۴۷ ،  ۱۰ / ۳۲۴-۳۲۵ ،  روح البیان ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۴۷ ،  ۹ / ۲۸۳ ،  ملتقطاً)

یَوْمَ یُسْحَبُوْنَ فِی النَّارِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْؕ-ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ(۴۸)

ترجمۂ کنزالایمان: جس دن آگ میں  اپنے مونہوں  پر گھسیٹے جائیں  گے اور فرمایا جائے گا چکھو دوزخ کی آنچ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جس دن وہ آگ میں  اپنے چہروں کے بل گھسیٹے جائیں  گے ( فرمایا جائے گا)، دوزخ کا چھونا چکھو۔

{یَوْمَ یُسْحَبُوْنَ فِی النَّارِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ: جس دن وہ آگ میں  اپنے چہروں کے بل گھسیٹے جائیں  گے۔} اس آیت ِمبارکہ میں  کفار کو جہنم میں  منہ کے بل گھسیٹے جانے کا ذکر ہے اور حدیث ِپاک میں  بعض ایسے مسلمانوں  کا بھی ذکر کیا گیا ہے جنہیں  منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں  ڈال دیا جائے گا، چنانچہ حضرت ابو ہریرہ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ  فرماتے ہیں ، میں  نے  رسولُ اللہ



Total Pages: 250

Go To