Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

کے فرمانوں  میں  شک کیااور ان کی تصدیق کرنے کی بجائے انہیں  جھٹلانے لگے۔( خازن ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۳۶ ،  ۴ / ۲۰۵)

{ وَ لَقَدْ رَاوَدُوْهُ عَنْ ضَیْفِهٖ: انہوں  نے اسے اس کے مہمانوں  کے متعلق پھسلانا چاہا ۔}   اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت لوطعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کی قوم نے انہیں  ان کے معزز مہمانوں  کے متعلق پھسلانا چاہا اور حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام سے کہا کہ آپ ہمارے اور اپنے مہمانوں  کے درمیان د خل اندازی نہ کریں  اور انہیں  ہمارے حوالے کردیں ۔ حضرت لوطعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کی قوم نے یہ بات فاسد نیت اور خبیث ارادے سے کہی تھی۔حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے مہمان فرشتے تھے، انہوں نے حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کہا کہ آپ اُنہیں  چھوڑ دیجئے اورگھر میں  آنے دیجئے ۔ جیسے ہی وہ گھر میں  آئے تو حضرت جبریل  عَلَیْہِ السَّلَام  نے ایک دستک دی تو ہم نے ان کی آنکھوں  کو مٹا دیا جس سے وہ فوراً اندھے ہوگئے اور ان کہ آنکھیں  ایسی ناپید ہوگئیں  کہ ان کا نشان بھی باقی نہ رہا اور چہرے سپاٹ ہوگئے ۔وہ لوگ حیرت زدہ مارے مارے پھرتے تھے اور دروازہ ان کے ہاتھ نہ آتا تھا، حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اُنہیں  دروازے سے باہر کیا۔اللہ تعالیٰ نے فرشتوں  کے ذریعے ان سے ارشاد فرمایا کہ میرے عذاب اور میرے ڈر کے فرمانوں  کا مزہ چکھو جو تمہیں  حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  نے سنائے تھے۔( خازن ،  القمر ، تحت الآیۃ:۳۷ ،  ۴ / ۲۰۵ ،  مدارک ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۳۷ ،  ص۱۱۸۹ ،  جلالین ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۳۷ ،  ص۴۴۲ ،  ملتقطاً)

وَ لَقَدْ صَبَّحَهُمْ بُكْرَةً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّۚ(۳۸) فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ(۳۹)وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۠(۴۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بیشک صبح تڑکے ان پر ٹھ ہرنے والا عذاب آیا ۔تو چکھو میرا عذاب اور ڈر کے فرمان ۔اور بیشک ہم نے آسان کیا قرآن یاد کرنے کے لیے تو ہے کوئی یاد کرنے والا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک صبح سویرے ان پر ٹھہرنے والا عذاب آیا۔تومیرے عذاب اور میرے ڈر کے فرمانوں  کا مزہ چکھو۔ اور بیشک ہم نے قرآن کویاد کرنے  / نصیحت لینے کیلئے آسان کردیا تو ہے کوئی یاد کرنے  / نصیحت لینے والا؟

{ وَ لَقَدْ صَبَّحَهُمْ بُكْرَةً: اور بیشک صبح سویرے ان پر آیا۔}  ارشاد فرمایا کہ بے شک حضرت لوط  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم پر صبح سویرے ٹھہرنے والا عذاب آیا جو کہ آخرت تک باقی رہے گا۔مراد یہ ہے کہ دُنْیَوی عذاب بَرزخی عذاب سے اور برزخی عذاب اُخروی عذاب سے ملا ہوا ہے لہٰذا نفسِ عذاب دائمی اور قائم ہے۔ اس آیت سے عذابِ قبر کا ثبوت بھی ہوتا ہے کیونکہ اگر عذابِ قبر حق نہ ہوتو ان کا عذاب مُسْتقر یعنی ٹھہرنے والا نہیں  رہتا۔

{ فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ: تومیرے عذاب اور میرے ڈر کے فرمانوں  کا مزہ چکھو۔}  دوسری بار یہ بات ا س لئے فرمائی گئی کہ ان پر عذاب دو مرتبہ نازل ہوا تھا ،پہلا عذاب خاص ان لوگوں  پر ہو اتھا جو حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے گھر میں  داخل ہوئے تھے اور دوسرا عذاب سب کو عام تھا۔( تفسیر کبیر ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۳۹ ،  ۱۰ / ۳۱۸  ، ملخصاً)

وَ لَقَدْ جَآءَ اٰلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُۚ(۴۱) كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا كُلِّهَا فَاَخَذْنٰهُمْ اَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِرٍ(۴۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بیشک فرعون والوں  کے پاس رسول آئے۔انہوں  نے ہماری سب نشانیاں  جھٹلائیں  تو ہم نے ان پر گرفت کی جو ایک عزت والے اور عظیم قدرت والے کی شان تھی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک فرعونیوں  کے پاس ڈر سنانے والے (رسول) آئے۔انہوں  نے ہماری سب نشانیوں  کو جھٹلا دیا تو ہم نے ان پرایسی گرفت کی جیسی ایک عزت والے ، عظیم قدرت والے کی گرفت کی شان ہوتی ہے۔

{ وَ لَقَدْ جَآءَ: اور بیشک آئے۔}   یہاں  سے فرعون اور ا س کی قوم کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے ،چنانچہ اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ بیشک فرعونیوں  کے پاس اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے والے رسول حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام آئے تو فرعونی اُن پر ایمان نہ لائے اورانہوں  نے ہماری ان سب نشانیوں  کو  جھٹلادیا جو حضرت موسیٰ  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کو دی گئیں  تھیں تو ہم نے اس جھٹلانے کی وجہ سے ان پر عذاب کے ساتھ ایسی گرفت کی جیسی ایک عزت والے ، عظیم قدرت والے کی گرفت ہوتی ہے کہ قدرت والے کی پکڑ سے کوئی چھڑا نہیں  سکتا۔( روح البیان ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۴۱-۴۲ ،  ۹ / ۲۸۱-۲۸۲ ،  ملخصاً)

{ فَاَخَذْنٰهُمْ اَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِرٍ:  تو ہم نے ان پرایسی گرفت کی جیسی ایک عزت والے ، عظیم قدرت والے کی گرفت کی شان ہوتی ہے۔}  سابقہ امتوں  نے جب اللہتعالیٰ کے ساتھ شرک کر کے ،اس کے رسول کو جھٹلا کر اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں میں  مصروف رہ کر اپنی جانوں  پر ظلم کیا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب سے ڈرانے کے فرمان آنے اور مہلت ملنے کے باوجود اپنی حالت کو نہ سدھارا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی بہت سخت گرفت فرمائی اورسابقہ امتوں  کی تباہی و بربادی کے واقعات سنانے سے مقصود اس امت کے لوگوں  کو اس بات سے ڈرانا ہے کہ اگر انہوں  نے بھی ان جیسے اعمال اختیار کئے، اللہ اور اس کے رسول کے فرامین کو پسِ پُشت ڈالا تو ان کی بھی بڑی سخت گرفت ہو سکتی ہے ۔جیسا کہ ایک اور مقام پر اللہتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌؕ-اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ‘‘(ہود:۱۰۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور تیرے رب کی گرفت ایسی ہی ہوتی ہے جب وہ بستیوں  کو پکڑتا ہے جبکہ وہ بستی والے ظالم ہوں  بیشک اس کی پکڑ بڑی شدید دردناک ہے۔

            اور ارشاد فرماتا ہے: ’’اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَةِؕ-ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّجْمُوْعٌۙ-لَّهُ النَّاسُ وَ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ‘‘(ہود:۱۰۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک اس میں  اُس کیلئے نشانی ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرے۔ وہ ایسا دن ہے جس میں  سب لوگ اکٹھے ہوں  گے اور وہ دن ایسا ہے جس میں  ساری مخلوق موجود ہوگی۔

            اور حضرت ابو موسیٰ اشعری  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ  سے روایت ہے، حضورِ اَقدس  صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا’’بے شک اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا رہتا ہے اور جب اس کی پکڑ فرما لیتا ہے تو پھر اسے مہلت نہیں  دیتا۔پھر آپ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :

’’ وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌؕ-اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ‘‘(ہود:۱۰۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور تیرے رب کی گرفت ایسی ہی ہوتی ہے جب وہ بستیوں  کو پکڑتا ہے جبکہ وہ بستی والے ظالم ہوں  بیشک اس کی پکڑ بڑی شدید دردناک ہے۔( بخاری ،  کتاب التفسیر ،  باب وکذٰلک اخذ ربّک



Total Pages: 250

Go To