Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

{وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَدْعُوْنَ مِنْ قَبْلُ: اور جن کو وہ پہلے پوجتے تھے وہ ان سے غائب ہوگئے۔} یعنی مشرکین دنیامیں  جن بتوں  کی عبادت کیاکرتے تھے وہ حشر کے میدان میں  نہ ان کی سفارش کریں  گے اور نہ ہی ان کی مدد کریں  گے تو ان کا وہاں  موجود ہونا ایسے ہو گا جیسے یہ وہاں  سے غائب ہیں  اور مشرکین کو یقین ہو جائے گا کہ اب ان کیلئے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچنے اور جہنم سے کہیں بھاگ جانے کی کوئی جگہ نہیں ۔(جلالین صاوی ،  فصلت ،  تحت الآیۃ: ۴۸ ،  ۵ / ۱۸۵۷ ،  روح البیان ،  حم السجدۃ ،  تحت الآیۃ: ۴۸ ،  ۸ / ۲۷۶ ،  ملتقطاً)

لَا یَسْــٴَـمُ الْاِنْسَانُ مِنْ دُعَآءِ الْخَیْرِ٘-وَ اِنْ مَّسَّهُ الشَّرُّ فَیَــٴُـوْسٌ قَنُوْطٌ(۴۹)

ترجمۂ کنزالایمان: آدمی بھلائی مانگنے سے نہیں  اُکتاتا اور کوئی برائی پہنچے تو ناامید آس ٹوٹا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: آدمی بھلائی مانگنے سے نہیں  اُکتاتا اور اگراسے کوئی برائی پہنچے تو بہت ناامید ،بڑا مایوس ہوجاتا ہے۔

{لَا یَسْــٴَـمُ الْاِنْسَانُ مِنْ دُعَآءِ الْخَیْرِ: آدمی بھلائی مانگنے سے نہیں  اُکتاتا۔} یعنی کافر انسان ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے مال ،امیری اور تندرستی مانگتا رہتا ہے اور اگر اسے کوئی سختی ،مصیبت اور معاش کی تنگی پہنچے تو وہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے بہت ناامید اور بڑا مایوس ہوجاتا ہے ۔( خازن ،  فصلت ،  تحت الآیۃ: ۴۹ ،  ۴ / ۸۹ ،  مدارک ،  فصلت ،  تحت الآیۃ: ۴۹ ،  ص۱۰۷۸ ،  ملتقطاً)

اللہ تعالٰی کی رحمت سے مایوسی کافر کا وصف ہے:

            یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور ا س کے فضل سے مایوس ہوجانا کافر کا وصف ہے، جیسا کہ سورۂ یوسف میں  ہے:

’’اِنَّهٗ لَا یَایْــٴَـسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ‘‘(یوسف:۸۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک اللہ کی رحمت سے کافر لوگ ہی ناامید ہوتے ہیں ۔

            مومن کی یہ شان نہیں  کہ وہ مصیبتوں ، پریشانیوں  اور تنگدستی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہو جائے۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جو گناہگار آدمی اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید رکھتا ہے وہ اس بندے سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے قریب ہوتا ہے جو بڑا عبادت گزار ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا اطاعت گزار ہونے کے باوجود یہ امید نہیں  رکھتا کہ اسے اللہ تعالیٰ کی رحمت ملے گی۔( مسند الفردوس ،  باب العین ،  فصل من ذوات الالف واللام ،  ۳ / ۱۵۹ ،  الحدیث: ۴۴۲۷)

            مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے اچھی امید رکھنی چاہیے ، یہ نہیں  کہ آدمی عمل کرکے یا بغیر عمل کے بے خوف ہوجائے کہ یہ جرأت ہے۔

وَ لَىٕنْ اَذَقْنٰهُ رَحْمَةً مِّنَّا مِنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ هٰذَا لِیْۙ-وَ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآىٕمَةًۙ-وَّ لَىٕنْ رُّجِعْتُ اِلٰى رَبِّیْۤ اِنَّ لِیْ عِنْدَهٗ لَلْحُسْنٰىۚ-فَلَنُنَبِّئَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِمَا عَمِلُوْا٘-وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ(۵۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اگر ہم اُسے کچھ اپنی رحمت کا مزہ دیں  اس تکلیف کے بعد جو اُسے پہنچی تھی تو کہے گا یہ تو میری ہے اور میرے گمان میں  قیامت قائم نہ ہوگی اور اگر میں  رب کی طرف لوٹایا بھی گیا تو ضرور میرے لیے اس کے پاس بھی خوبی ہی ہے تو ضرور ہم بتادیں  گے کافروں  کو جو اُنھوں  نے کیا اور ضرور انھیں  گاڑھا عذاب چکھائیں  گے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  اوراگر ہم اسے اس تکلیف کے بعد جو اسے پہنچی تھی اپنی رحمت کا مزہ چکھائیں  تو ضرورکہے گا: یہ تو میرا حق ہے اور میرے گمان میں  قیامت قائم نہ ہوگی اور اگر میں  اپنے رب کی طرف لوٹایا بھی گیا تو ضرور میرے لیے اس کے پاس بھی بھلائی ہی ہے تو ضرور ہم کافروں  کو ان کے اعمال کی خبر دیں  گے اور ضرور ضرورانہیں  سخت عذاب چکھائیں  گے۔

{وَ لَىٕنْ اَذَقْنٰهُ رَحْمَةً مِّنَّا مِنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ: اور اگر ہم اسے اس تکلیف کے بعد جو اسے پہنچی تھی اپنی رحمت کا مزہ چکھائیں ۔} یہاں  سے کافر انسان کا دوسرا حال بیان کیا جارہا ہے کہ اگر ہم اسے بیماری کے بعد صحت ، سختی کے بعد سلامتی اور تنگدستی کے بعد مال و دولت عطا فرما کر اپنی رحمت کا مزہ چکھائیں  تو وہ کہنے لگتا ہے کہ’’ یہ تو خالص میرا حق ہے جو مجھے ملا ہے اور میں  اپنے عمل کی وجہ سے اس کا مستحق ہوا ہوں  اور میرے گمان میں  قیامت قائم نہ ہوگی اور اگر بالفرض مسلمانوں  کے کہنے کے مطابق قیامت قائم ہوئی اور میں  اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف لوٹایا بھی گیا تو ضرور میرے لیے اس کے پاس بھی دنیا کی طرح عیش و راحت اورعزت و کرامت ہے۔ فرمایا گیا کہ اس کا یہ گمان فاسد ہے ،ضرور ہم ان کے قبیح اعمال ،ان اعمال کے نتائج اور جس عذاب کے وہ مستحق ہیں  اس سے انہیں  آگاہ کردیں  گے اور ضرور ضرورانہیں  انتہائی سخت عذاب چکھائیں  گے۔ (مدارک ،  فصلت ،  تحت الآیۃ: ۵۰ ،  ص۱۰۷۹ ،  خازن ،  فصلت ،  تحت الآیۃ: ۵۰ ،  ۴ / ۸۹ ،  ملتقطاً)

وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖۚ-وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُوْ دُعَآءٍ عَرِیْضٍ(۵۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اورجب ہم آدمی پر احسان کرتے ہیں  تو منہ پھیر لیتا ہے اور اپنی طرف دُور ہٹ جاتا ہے اور جب اُسے تکلیف پہنچتی ہے تو چوڑی دعا والا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اورجب ہم آدمی پر احسان کرتے ہیں  تو منہ پھیر لیتا ہے اور اپنی طرف دور ہٹ جاتا ہے اور جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو (لمبی)چوڑی دعا(مانگنے) والابن جاتا ہے۔

{وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ: اورجب ہم آدمی پر احسان کرتے ہیں  تو منہ پھیر لیتا ہے۔} اس سے پہلی آیت میں  کفار کے قبیح اَقوال بیان کئے گئے اور اس آیت میں  ان کے قبیح اَفعال بیان کئے جا رہے ہیں ۔چنانچہ ارشاد فرمایا کہ جب ہم کافر انسان پر احسان کرتے ہیں  تو وہ اس احسان کاشکر ادا کرنے سے منہ پھیر لیتا ہے اور اس نعمت پر اِترانے لگتاہے اور نعمت دینے والے پروردگار عَزَّوَجَلَّ کو بھول جاتا ہے اوراللہ تعالیٰ کی یاد سے تکبر کرتا ہے اور جب اسےکسی قسم کی پریشانی ،بیماری یا ناداری وغیرہ کی تکلیف پیش آتی ہے تو اس وقت وہ خوب لمبی چوڑی دعائیں  کرتا ، روتا اور گِڑگڑاتا ہے اور لگاتار دعائیں  مانگے جاتا ہے۔( مدارک ،  فصلت ،  تحت الآیۃ: ۵۱ ،  ص۱۰۷۹ ،  ملخصاً)

 راحت میں  اللہ تعالٰی کو بھول جانا اور صرف مصیبت میں  دعا کرنا کفار کا طریقہ ہے:

 



Total Pages: 250

Go To