Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

جنگل میں  اپنی بکریوں  کی حفاظت کے لئے گھاس کا نٹوں  کا اِحاطہ بنالیتے ہیں ، اس میں  سے کچھ گھاس بچی رہ جاتی ہے اور وہ جانوروں  کے پاؤں  میں  روند کر ریزہ ریزہ ہوجاتی ہے۔( صاوی ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۳۱ ،  ۶ / ۲۰۶۷ ،  مدارک ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۳۱ ،  ص۱۱۸۸ ،  ملتقطاً)

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ(۳۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بیشک ہم نے آسان کیا قرآن یاد کرنے کے لیے تو ہے کوئی یاد کرنے والا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے قرآن کویاد کرنے  /  نصیحت لینے کیلئے آسان کردیا تو ہے کوئی یاد کرنے  /  نصیحت لینے والا؟

{ وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ: اور بیشک ہم نے قرآن کویاد کرنے  /  نصیحت لینے کیلئے آسان کردیا ۔} اس آیت کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ ہم نے اس شخص کے لئے قرآنِ پاک کو آسان کر دیا جو اس سے نصیحت حاصل کرنا چاہے تو ہے کوئی ایسا شخص جو قرآن سے نصیحت حاصل کرے اور ان تمام چیزوں  کو چھوڑ دے جو اللہ  تعالیٰ کو پسند نہیں  ۔( تفسیر طبری ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۳۲ ،  ۱۱ / ۵۶۳)

قرآنِ پاک یاد کرنے کا حکم اورفضائل:

             قرآنِ پاک کی ایک آیت حفظ کرنا ہر مُکَلَّف مسلمان پر فرضِ عَین ہے اور پورا قرآن مجید حفظ کرنا فرضِ کفایہ ہے اور سورۂ فاتحہ اور ایک دوسری چھوٹی سورت یا اس کے مثل، مثلاً تین چھوٹی آیتیں  یا ایک بڑی آیت کو حفظ کرنا واجبِ عَین ہے۔( ردالمحتار مع درالمختار ،  کتاب الصلاۃ ،  ۲ / ۳۱۵)

            اَحادیث میں  قرآنِ مجید یاد کرنے کے بہت فضائل بیان ہوئے ہیں  ،ترغیب کے لئے یہاں  دو اَحادیث درج ذیل ہیں ،

(1)…حضرت علی المرتضیٰ  کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی  وَجْہَہُ الْکَرِیْم  سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد  فرمایا: ’’جس نے قرآن پڑھا اور اس کو یاد کرلیا، اس کے حلال کو حلال سمجھا اور حرام کو حرام جانا، اس کے گھر والوں  میں  سے دس ایسے شخصوں  کے بارے میں  اللہ  تعالیٰ اس کی شفاعت قبول فرمائے گا جن پر جہنم واجب ہوچکا تھا۔(ترمذی ،  کتاب فضائل القرآن ،  باب ما جاء فی فضل قاریٔ القرآن ،  ۴ / ۴۱۴ ،  الحدیث: ۲۹۱۴)

(2)…حضرت عبداللہبن عمرو  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا سے روایت ہے،رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’صاحب ِقرآن سے کہا جائے گا کہ پڑھ اور چڑھ اوراسی طرح ترتیل کے ساتھ پڑھ جس طرح دنیا میں ترتیل کے ساتھ پڑھتا تھا،آخری آیت جو تو پڑھے گا، وہاں  تیری منزل ہے۔( ابو داؤد ،  کتاب الوتر ،  باب استحباب الترتیل فی القراء ۃ ،  ۲ / ۱۰۴ ،  الحدیث: ۱۴۶۴)

            اللہ تعالیٰ ہمیں  قرآنِ مجید یاد کرنے اور اپنے بچوں  کو یاد کروانے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔

كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍۭ بِالنُّذُرِ(۳۳)اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ حَاصِبًا اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍؕ-نَجَّیْنٰهُمْ بِسَحَرٍۙ(۳۴) نِّعْمَةً مِّنْ عِنْدِنَاؕ-كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ شَكَرَ(۳۵)

ترجمۂ کنزالایمان: لوط کی قوم نے رسولوں  کو جھٹلایا ۔بیشک ہم نے ان پر پتھراؤ بھیجا سوائے لو ط کے گھر والوں  کے ہم نے اُنہیں  پچھلے پہر بچالیا ۔اپنے پاس کی نعمت فرماکر ہم یونہی صلہ دیتے ہیں  اسے جو شکر کرے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: لوط کی قوم نے ڈر سنانے والوں  (رسولوں ) کو جھٹلایا۔بیشک ہم نے ان پر ایک پتھراؤ بھیجا سوائے لو ط کے گھر والوں  کے، ہم نے انہیں رات کے آخری پہر بچالیا۔اپنے پاس سے احسان فرماکر، ہم یونہی شکر کرنے والے کو صلہ دیتے ہیں ۔

{ كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍۭ بِالنُّذُرِ: لوط کی قوم نے ڈر سنانے والوں  (رسولوں ) کو جھٹلایا۔} یہاں  سے حضرت لوط  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کا حال بیان فرمایاگیا کہ انہوں  نے حضرت لوط  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا انکار کر کے سب رسولوں  کو جھٹلایا کیونکہ ایک نبی کا انکار کرناگویا تمام پیغمبروں  کا انکار ہے۔

{ اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ حَاصِبًا: بیشک ہم نے ان پر ایک پتھراؤ بھیجا ۔} یہاں  سے حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم پر آنے والے عذاب اور ان کی ہلاکت کے بارے میں  بتایا گیا،چنانچہ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت لوط  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلانے اور ان کاانکار کرنے کی سزا میں  ہم نے ان لوگوں  پر چھوٹے چھوٹے سنگریزے برسائے اورہم نے اپنے پاس سے احسان فرماکرحضرت لوط  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  اور ان کی دونوں  صاحب زادیوں  کو اس عذاب سے محفوظ رکھا اور انہیں  صبح ہونے سے پہلے بچا لیا ،اور یہ حضرت لوط  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لانے والوں  کی خصوصیت نہیں  بلکہ ہم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں  کا شکر کرنے والے ہر بندے کو یونہی صلہ دیتے ہیں  کہانہیں  مشرکین کے ساتھ عذاب نہیں  دیتے ۔ یاد رہے کہ شکر گزار بندہ وہ ہے جو اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسولوں  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  پر ایمان لائے اور ان کی اطاعت کرے۔( جلالین مع صاوی ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۳۴-۳۵ ،  ۶ / ۲۰۶۸ ،  خازن ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۳۴-۳۵ ،  ۴ / ۲۰۵ ،  ملتقطاً)

وَ لَقَدْ اَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ(۳۶)وَ لَقَدْ رَاوَدُوْهُ عَنْ ضَیْفِهٖ فَطَمَسْنَاۤ اَعْیُنَهُمْ فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَ نُذُرِ(۳۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بیشک اس نے انہیں  ہماری گرفت سے ڈرایا تو انہوں  نے ڈر کے فرمانوں  میں  شک کیا۔ انہوں  نے اسے اس کے مہمانوں  سے پھسلانا چاہا تو ہم نے انکی آنکھیں  میٹ دیں  فرمایا چکھو میرا عذاب اور ڈر کے فرمان ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک اس نے انہیں  ہماری گرفت سے ڈرایا تو انہوں  نے ڈر کے فرامین میں  شک کیا۔ انہوں  نے اسے اس کے مہمانوں  کے متعلق پھسلانا چاہا تو ہم نے ان کی آنکھوں  کو مٹا دیا (اورفرمایا)میرے عذاب اور میرے ڈر کے فرامین کا مزہ چکھو۔  

{ وَ لَقَدْ اَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنَا: اور بیشک اس نے انہیں  ہماری گرفت سے ڈرایا۔}   یعنی حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے انہیں  ہماری گرفت اورہمارے عذاب سے ڈرایا تو انہوں  نے ڈر



Total Pages: 250

Go To