Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

ہم اپنے میں  سے ہی ایک آدمی کے کس طرح تابع ہوجائیں  حالانکہ ہماری تعداد بہت زیادہ ہے اور وہ اکیلا ہے،یونہی وہ نہ تو بادشاہ ہے اور نہ ہی کوئی سردار ہے، ہم ایسا نہیں  کریں  گے کیونکہ اگر ایسا کریں  جب تو ہم ضرور گمراہی اور دیوانگی میں  ہیں ۔( مدارک ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۲۴ ،  ص۱۱۸۸ ،  جلالین ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۲۴ ،  ص۴۴۱ ،  ملتقطاً)

ءَاُلْقِیَ الذِّكْرُ عَلَیْهِ مِنْۢ بَیْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ(۲۵)سَیَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ(۲۶)

ترجمۂ کنزالایمان: کیا ہم سب میں  سے اس پر ذکراُتاراگیا بلکہ یہ سخت جھوٹا اترونا ہے ۔بہت جلد کل جان جائیں  گے کون تھا بڑا جھوٹا اترونا ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیا ہم سب میں  سے (صرف)اس پر وحی ڈالی گئی؟ بلکہ یہ بڑا جھوٹا ،متکبر ہے۔بہت جلد کل جان جائیں  گے کہ کون بڑا جھوٹا،متکبر تھا۔

{ ءَاُلْقِیَ الذِّكْرُ عَلَیْهِ مِنْۢ بَیْنِنَا: کیا ہم سب میں  سے (صرف)اس پر وحی ڈالی گئی؟۔}  اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم ثمود نے انہیں  جھٹلاتے ہوئے کہا کہ کیا ہم سب میں  سے صرف حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  پر وحی نازل کی گئی ہے حالانکہ ہم میں  ایسے لوگ موجود ہیں  جن کے پاس دولت کی کثرت ہے اور ان کا حال بھی بہت اچھا ہے۔ایسا ہرگز نہیں  ہے بلکہ یہ بڑا جھوٹا ،مُتکبِّر ہے کہ نبوت کا دعویٰ کرکے بڑاآدمی بننا چاہتا ہے۔ ( مَعَاذَ اللہ)اللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایا کہ’’جب وہ حضرت صالحعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلانے کی وجہ سے عذاب میں  مبتلا کئے جائیں  گے تو بہت جلد خود ہی جان جائیں  گے کہ ان میں  سے کون بڑا جھوٹا اور مُتکبِّرتھا۔(روح البیان  ،  القمر  ،  تحت الآیۃ: ۲۵-۲۶  ،  ۹ / ۲۷۷  ،  خازن  ،  القمر  ،  تحت الآیۃ: ۲۵-۲۶  ،  ۴ / ۲۰۴ ،  جلالین ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۲۵-۲۶ ،  ص۴۴۱ ،  ملتقطاً)

اِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ فَارْتَقِبْهُمْ وَ اصْطَبِرْ٘(۲۷) وَ نَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَآءَ قِسْمَةٌۢ بَیْنَهُمْۚ-كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ(۲۸)

ترجمۂ کنزالایمان: ہم ناقہ بھیجنے والے ہیں  ان کی جانچ کو تو اے صا لح تو راہ دیکھ اور صبر کر ۔اور اُنہیں  خبر دے دے کہ پانی ان میں  حصوں  سے ہے ہر حصہ پر وہ حاضر ہو جس کی باری ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک ہم ان کی آزمائش کیلئے اونٹنی کوبھیجنے والے ہیں  تو (اے صا لح!)تم ان کا انتظار کرو اور صبر کرو۔ اور انہیں  خبر دے دو کہ ان کے درمیان پانی تقسیم ہے ، ہر باری پر وہ حاضر ہو جس کی باری ہے۔

{ اِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَةِ: بیشک ہم اونٹنی کوبھیجنے والے ہیں ۔}اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کی قوم نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے یہ کہا تھا کہ آپ پتھر سے ایک اونٹنی نکال دیجئے۔  آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  نے اُن کے ایمان قبول کرنے کی شرط مقرر فرماکر یہ بات منظور کرلی تھی، چنانچہ اللہ  تعالیٰ نے اونٹنی بھیجنے کا وعدہ کرتے ہوئے ارشادفرمایا کہ بیشک ہم ان کی آزمائش کیلئے اونٹنی کوبھیجنے والے ہیں  تو اے صالح!عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ، تم اس بات کا انتظار کروکہ وہ کیا کرتے ہیں  اور اُن کے ساتھ کیاکیاجاتا ہے اوراُن کی ایذا پر صبر کرو اور انہیں  خبر دے دو کہ ان کے درمیان پانی کی باری تقسیم کی گئی ہے کہ ایک دن اونٹنی کا ہے اور ایک دن ان کا ہے ،لہٰذاجو دن اونٹنی کا ہے اُس دن صرف اونٹنی ہی پانی پینے آئے ا ور جو دن قوم کا ہے اُس دن قوم پانی لینے آئے۔( خازن ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۲۷-۲۸ ،  ۴ / ۲۰۴ ،  جلالین ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۲۷-۲۸ ،  ص۴۴۱-۴۴۲ ،  ملتقطاً)

فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ(۲۹)

ترجمۂ کنزالایمان: تو انہوں  نے اپنے ساتھی کو پکارا تو اس نے لے کر اس کی کوچیں  کاٹ دیں  ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو انہوں  نے اپنے ساتھی کو پکارا: تو اس نے (اونٹنی کو)پکڑا پھر (اس کی) کونچیں  کاٹ دیں ۔

{ فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ: تو انہوں  نے اپنے ساتھی کو پکارا۔}  قومِ ثمود ایک عرصہ تک اس طریقے پر قائم رہی ،پھر انہیں  اپنی چراگاہوں  میں  اور مویشیوں  پر پانی کی تنگی کی وجہ سے افسوس ہوا تو وہ لوگ اونٹنی کو قتل کرنے پر متفق ہو گئے اور ا س کام کے لئے اپنے ساتھی کو پکارا جس کا نام قدار بن سالف تھا، تو اس نے اونٹنی کوپکڑا اور تیز تلوار سے اس کی کونچیں  کاٹ دیں  اور اسے قتل کر ڈالا۔( جلالین مع صاوی ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۲۹ ،  ۶ / ۲۰۶۷ ،  ملخصاً)

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ(۳۰)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر کیسا ہوا میرا عذاب اور ڈر کے فرمان ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  تو میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا ہوا؟

{ فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ: تو میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا ہوا؟} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ میرا عذاب اور  میرے ڈرکے فرمان جو عذاب نازل ہونے سے پہلے ان کے پاس میری طرف سے آئے تھے اور اپنے موقع پر واقع ہوئے وہ کیسے ہوئے۔( جلالین ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۳۰ ،  ص۴۴۲)

          دوسری تفسیر یہ ہے کہ اے کفارِ قریش! جب میں نے قومِ ثمود کو عذاب دیا تو انہیں  میرا عذاب دینا کیسا ہوا ؟کیا میں  نے انہیں  زلزلے سے ہلاک نہیں  کیا اور میں  نے جس عذاب سے انہیں  ہلاک کیا اس سے بعد والی امتوں  کو میرا ڈرانا کیسا ہوا!( تفسیر طبری ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۳۰ ،  ۱۱ / ۵۶۱)

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَكَانُوْا كَهَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ(۳۱)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک ہم نے ان پر ایک چنگھاڑ بھیجی جبھی وہ ہوگئے جیسے گھیرا بنانے والے کی بچی ہوئی گھاس سوکھی روندی ہوئی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک ہم نے ان پر ایک زور دار چیخ بھیجی تو اسی وقت وہ باڑ بنانے والے شخص کی بچ جانے والی روندی ہوئی خشک گھاس کی طرح ہوگئے۔

{ اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ صَیْحَةً وَّاحِدَةً: بیشک ہم نے ان پر ایک زور دار چیخ بھیجی ۔} اس آیت میں  قومِ ثمود پر آنے والے عذاب کی کیفِیَّت بیان کی گئی ہے، چنانچہ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جس دن انہوں  نے اونٹنی کو قتل کیا تو اس کے چوتھے دن ان پر حضرت جبریلعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  نے ایک زور دار چیخ ماری جس کی وجہ سے ان کی حالت ایسے ہو گئی جس طرح چرواہے



Total Pages: 250

Go To