Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

            حضرت قتادہ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کشتی کو جزیرہ کی سرزمین میں  اور بعض مفسرین  کے نزدیک جو دی پہاڑ پر مدتوں  باقی رکھا یہاں  تک کہ ہماری اُمت کے پہلے لوگوں  نے بھی اس کشتی کو دیکھا۔( خازن ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۱۵ ،  ۴ / ۲۰۳ ،  مدارک ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۱۵ ،  ص۱۱۸۷ ، ملتقطاً)

فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ(۱۶)

ترجمۂ کنزالایمان: تو کیسا ہوا میرا عذاب اور میری دھمکیاں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تومیرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا ہوا؟

{ فَكَیْفَ كَانَ: تو کیسا ہوا۔}  یعنی اے حبیب ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،(آپ دیکھیں  کہ )اللہتعالیٰ اور اس کے رسول کو جھٹلانے والوں  کا انجام کیسا ہوا!کیا میرے رسول کو جھٹلانے والوں  کو عذاب پہنچا، یا نہیں  !اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،جب آپ کو ان کے حالات معلوم ہو چکے تو آپ(کفار کی اَذِیَّتوں پر) صبر کیجئے ،آپ کے (ساتھ کفار کے) معاملے کا انجام بھی اسی طرح ہو گا جیسے سابقہ رسولوں  (کے ساتھ کفر کرنے والوں ) کا ہوا۔( تفسیرکبیر ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۱۶ ،  ۱۰ / ۲۹۹-۳۰۰ ،  ملخصاً)

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ(۱۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بیشک ہم نے قرآن یاد کرنے کے لیے آسان فرمادیا تو ہے کوئی یاد کرنے والا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے قرآن کو یاد کرنے  /  نصیحت لینے کیلئے آسان فرمادیا تو ہے کوئی یاد کرنے  /  نصیحت لینے والا؟

{ وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ: اور بیشک ہم نے قرآن کو یاد کرنے  /  نصیحت لینے کیلئے آسان فرمادیا۔}اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اے حبیب ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،بے شک ہم نے عبرت اور نصیحت حاصل کرنے کے لئے آپ کی قوم کی زبان میں  قرآنِ مجیدنازل فرما کر ان کے لئے آسان کر دیااور طرح طرح کی نصیحتوں  اور عبرتوں  سے قرآن کو بھر دیا اورا س میں  وعدوں  اور وعیدوں  کوبیان کر دیا تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا جو اس سے نصیحت حاصل کرے۔

          دوسری تفسیر یہ ہے کہ بیشک ہم نے قرآن کو یاد کرنے کے لئے آسان کر دیا تو ہے کوئی جو اِسے یادکرے۔( ابو سعود ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۱۷ ، ۵ / ۶۵۵ ،  مدارک ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۱۷ ،  ص۱۱۸۷ ،  ملتقطاً)

قرآنِ مجید یاد کرنے والے کے لئے آسان ہے :

            حضرت علامہ مفتی نعیم الدین مراد آبادی  رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  ’’اس آیت میں  قرآنِ کریم کی تعلیم حاصل کرنے،قرآنِ پاک کی تعلیم دینے، اس میں  مشغول رہنے اور اسے حفظ کرنے کی ترغیب ہے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قرآنِ پاک یاد کرنے والے کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد ہوتی ہے اور اس کو حفظ کرنا سہل وآسان فرما دینے ہی کا ثمرہ ہے کہ عربی، عجمی،بڑے حتّٰی کہ بچے تک بھی اس کو یاد کرلیتے ہیں  اور اس کے علاوہ کوئی مذہبی کتاب ایسی نہیں  ہے جو یاد کی جاتی ہو اور سہولت سے یاد ہوجاتی ہو ۔( خزائن العرفان، القمر، تحت الآیۃ: ۱۷، ص۹۷۷ ،ملخصاً)

            حضرتِ انس  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’اللہ تعالیٰ قرآن سننے والے سے دنیاکی مصیبتیں  دور کر دیتا ہے اور قرآن پڑھنے والے سے آخرت کی مصیبتیں  دُور کر دیتا ہے۔ قرآنِ پاک کی ایک آیت سننا سونے کے خزانے سے بہتر ہے اور ا س کی ایک آیت پڑھنا عرش کے نیچے موجود چیزوں  سے افضل ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا وہ کلام ہے جو اس نے مخلوق پیدا کرنے سے پہلے فرمایا تو جس نے قرآن میں  اِلحاد کیا(یعنی بے دینی کا کوئی معاملہ کیا) یا قرآن کے بارے میں  اپنی رائے سے کچھ کہا تو اس نے کفر کیا اور اگر اللہ تعالیٰ قرآنِ پاک کو لوگوں  کی زبانوں  پر آسان نہ فرما دیتا کوئی شخص بھی رحمٰن کے کلام کا تَکَلُّم کرنے پر قادر نہ ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

’’ وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ‘‘

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے قرآن کو یاد کرنے کے لیے آسان فرمادیا تو ہے کوئی یاد کرنے والا؟( مسند الفردوس ،  باب الیائ ،  ۵ / ۲۵۹ ،  الحدیث: ۸۱۲۲)

كَذَّبَتْ عَادٌ فَكَیْفَ كَانَ عَذَابِیْ وَ نُذُرِ(۱۸)

ترجمۂ کنزالایمان: عاد نے جھٹلایا تو کیسا ہوا میرا عذاب اور میرے ڈر دلانے کے فرمان ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: عاد نے جھٹلایا تو میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا ہوا؟

{ كَذَّبَتْ عَادٌ: عاد نے جھٹلایا ۔}   حضرت نوح  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کرنے کے بعد قومِ عاد کا واقعہ بیان کیا گیاکیونکہ عاد ،ارم بن سام بن حضرت نوح  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کی اولاد میں  سے تھا۔اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ قومِ عاد نے اپنے نبی حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کو جھٹلایا،اس پر وہ عذاب میں  مبتلا کئے گئے تو ان پر میرا عذاب آنا کیسا ہوا اور میرے عذاب سے ڈردلانے کے فرامین کیسے ہوئے جو عذاب نازل ہونے سے پہلے ان کے پاس آچکے تھے۔( جلالین مع صاوی ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۱۸ ،  ۶ / ۲۰۶۴-۲۰۶۵)

اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّۙ(۱۹) تَنْزِعُ النَّاسَۙ- كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ(۲۰)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک ہم نے اُن پر ایک سخت آندھی بھیجی ایسے دن میں  جس کی نحوست ان پر ہمیشہ کے لیے رہی۔ لوگوں  کو یوں  دے مارتی تھی کہ گویا وہ اکھڑی ہوئی کھجوروں  کے ڈنڈ ہیں  ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک ہم نے ان پر ایسے دن میں  ایک سخت آندھی بھیجی جس کی نحوست (ان پر) ہمیشہ کے لیے رہی۔ وہ آندھی لوگوں  کو یوں  اکھیڑ مارتی تھی گویا وہ اکھڑی ہوئی کھجوروں  کے سوکھے تنے ہوں ۔

 



Total Pages: 250

Go To