Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

ترجمۂ کنزُالعِرفان: (یہ قرآن) انتہاء کو پہنچی ہوئی حکمت ہے تو (ایسوں  کو) ڈر انے والے امور فائدہ نہیں  دیتے۔

{ حِكْمَةٌۢ بَالِغَةٌ: انتہاء کو پہنچی ہوئی حکمت۔} اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ یہ قرآن انتہاء کو پہنچی ہوئی حکمت سے بھرپور ہے تو جب کافر ڈرسنانے والوں  کی مخالفت کریں  گے اور انہیں  جھٹلائیں  گے تو یہ انہیں  کیا فائدہ دیں  گے۔ (خازن ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۵ ،  ۴ / ۲۰۲)اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

’’ قُلِ انْظُرُوْا مَا ذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-وَ مَا تُغْنِی الْاٰیٰتُ وَ النُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ‘‘(یونس:۱۰۱)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ: تم دیکھو کہ آسمانوں  اور زمین میں  کیا کیا (نشانیاں ) ہیں  اور نشانیاں  اور رسول ان لوگوں  کو کوئی فائدہ نہیں  دیتے جو ایمان نہیں  لاتے۔

          دوسرا معنی یہ ہے کہ یہ قرآن انتہاء کو پہنچی ہوئی حکمت سے بھرپور ہے تو (کافروں  کو پھربھی) ڈر انے والے اُمور جیسے سابقہ امتوں  پر آنے والے عذابات نے فائدہ نہ دیا۔( جلالین مع صاوی ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۵ ،  ۶ / ۲۰۶۱)

فَتَوَلَّ عَنْهُمْۘ- یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰى شَیْءٍ نُّكُرٍۙ(۶) خُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ كَاَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌۙ(۷) مُّهْطِعِیْنَ اِلَى الدَّاعِؕ- یَقُوْلُ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا یَوْمٌ عَسِرٌ(۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو تم اُن سے منہ پھیرلو جس دن بلانے والا ایک سخت بے پہچانی بات کی طرف بلائے گا۔نیچی آنکھیں  کئے ہوئے قبروں  سے نکلیں  گے گویا وہ ٹیڑی ہیں  پھیلی ہوئی۔بلانے والے کی طرف لپکتے ہوئے کافر کہیں  گے یہ دن سخت ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو تم ان سے منہ پھیرلو، جس دن پکارنے والا ایک سخت انجان بات کی طرف بلائے گا۔(تو)ان کی آنکھیں  نیچے جھکی ہوئی ہوں گی ۔قبروں  سے یوں نکلیں  گے گویا وہ پھیلی ہوئی ٹڈیاں  ہیں  ۔اس بلانے والے کی طرف دوڑتے ہوئے کافر کہیں  گے: یہ بڑاسخت دن ہے۔

{ فَتَوَلَّ عَنْهُمْ: تو تم ان سے منہ پھیرلو۔}یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،ان کفار کی سرکشی کا نتیجہ یہ ہے کہ آپ ان سے منہ پھیر لیں  کیونکہ وہ نصیحت کرنے اور ڈر سنانے سے عبرت حاصل کرنے والے نہیں  ۔ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت جہاد والی آیت سے منسوخ ہو چکی ہے اور ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت منسوخ نہیں  کیونکہ ا س کا معنی یہ ہے کہ اے حبیب ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،آپ ان کفار سے منہ پھیر لیں  اور ان سے کلام کرنے کی بجائے ان کے ساتھ جہاد فرمائیں ۔( مدارک ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۶ ،  ص۱۱۸۵ ، جلالین مع صاوی ،  ا لقمر ،  تحت الآیۃ: ۶ ،  ۶ / ۲۰۶۱ ،  ملتقطاً)

{ یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰى شَیْءٍ نُّكُرٍ: جس دن پکارنے والا ایک سخت انجان بات کی طرف بلائے گا۔}  آیت کے اس حصے اور ا س کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، آپ وہ دن یاد کریں  جب حضرت اسرافیل  عَلَیْہِ السَّلَام   بیتُ الْمَقْدِس کی چٹان پر کھڑے ہو کرایک ایسی سخت انجان بات کی طرف بلائیں  گے کہ اس جیسی سختی کبھی لوگوں  نے نہ دیکھی ہوگی اور وہ بات قیامت اور حساب کی ہَولناکی ہے۔اس وقت لوگوں  کا حال یہ ہو گا کہ ان کی نگاہیں  جھکی ہوئی ہوں  گی اور وہ اپنی قبروں  سے اس حال میں  نکلیں  گے کہ کثرت کی وجہ سے گویا وہ ہر طرف پھیلی ہوئی ٹڈیاں  ہیں  اوروہ خوف اور حیرت کی وجہ سے یہ نہیں  جانتے ہوں  گے کہ کہاں  جائیں  ،حضرت اسرافیل  عَلَیْہِ السَّلَام کی آواز کی طرف دوڑتے ہوئے ان میں  سے کافر کہیں  گے: یہ کافروں  پر بڑاسخت دن ہے۔( خازن  ،  القمر  ،  تحت الآیۃ : ۶-۸  ،  ۴ / ۲۰۲-۲۰۳ ،  مدارک ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۶-۸ ،  ص۱۱۸۵-۱۱۸۶ ، جلالین مع صاوی ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۶-۸ ،  ۶ / ۲۰۶۱-۲۰۶۲ ،  ملتقطاً)

            ان آیات میں  قیامت قائم ہوتے وقت کی جو حالت بیان کی گئی اس کا ذکر کرتے ہوئے ایک اور مقام پر اللہتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَاِذَا هُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰى رَبِّهِمْ یَنْسِلُوْنَ(۵۱)قَالُوْا یٰوَیْلَنَا مَنْۢ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَاﱃ هٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَ صَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ‘‘(یس:۵۱ ، ۵۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور صورمیں  پھونک ماری جائے گی تو اسی وقت وہ قبروں  سے اپنے رب کی طرف دوڑتے چلے جائیں گے ۔کہیں  گے: ہائے ہماری خرابی! کس نے ہمیں  ہماری نیند سے جگادیا؟ یہ وہ ہے جس کا رحمٰن نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں  نے سچ فرمایاتھا۔

            ایک اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے:

’’یَوْمَ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا كَاَنَّهُمْ اِلٰى نُصُبٍ یُّوْفِضُوْنَۙ(۴۳) خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌؕ-ذٰلِكَ الْیَوْمُ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ‘‘(معارج:۴۳ ، ۴۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جس دن قبروں  سے جلدی کرتے ہوئے نکلیں  گے گویا وہ نشانوں  کی طرف لپک رہے ہیں ۔ان کی آنکھیں  جھکی ہوئی ہوں  گی، ان پر ذلت چڑھ رہی ہوگی، یہ ان کا وہ دن ہے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا۔

             اللہتعالیٰ ہمیں  قیامت کی سختیوں  اور ہَولناکیوں  سے امن نصیب فرمائے،اٰمین۔

قیامت کا دن کافروں  پر سخت ہوگا جبکہ کامل ایمان والوں  پر سخت نہیں  ہو گا:

             آیت نمبر8 سے معلوم ہوا کہ قیامت کا دن کافروں  پر سخت ہو گا اور کامل ایمان والوں  پر سخت نہیں  ہو گا۔ایک اور مقام پر  اللہ تعالیٰ نے کفار کے بارے میں  ارشاد فرمایا:

’’ اَلْمُلْكُ یَوْمَىٕذِ ﹰالْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِؕ-وَ كَانَ یَوْمًا عَلَى الْكٰفِرِیْنَ عَسِیْرًا‘‘(فرقان:۲۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اس دن سچی بادشاہی رحمٰن کی ہوگی اور کافروں  پر وہ بڑا سخت دن ہوگا۔

            اور ارشاد فرمایا:

’’ فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِۙ(۸) فَذٰلِكَ یَوْمَىٕذٍ یَّوْمٌ عَسِیْرٌۙ(۹) عَلَى الْكٰفِرِیْنَ غَیْرُ یَسِیْرٍ‘‘(مدثر:۸-۱۰)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر جب صور میں  پھونکا جائے گا۔تو وہ دن سخت دن ہوگا ۔کافروں  پر آسان نہیں  ہوگا۔

 



Total Pages: 250

Go To