Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

            اس آیت میں  کفارِ مکہ کا جو حال بیان ہوا کہ ان کا مطالبہ پورا بھی کر دیا جائے تو بھی یہ ایمان نہیں  لاتے ،اس کا  بیان اور آیات میں  بھی کیا گیا ہے،جیسے کفارِ مکہ نے کہا کہ

’’ وَ لَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِیِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَیْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ‘‘( بنی اسرائیل:۹۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم تمہارے چڑھ جانے پر بھی ہرگز ایمان نہ لائیں  گے جب تک ہم پر ایک کتاب نہ اتارو جوہم پڑھیں ۔

            ان کے جواب میں  اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

’’وَ لَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ كِتٰبًا فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْهُ بِاَیْدِیْهِمْ لَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ‘‘(انعام:۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر ہم کاغذ میں  کچھ لکھا ہوا آپ پر اتار دیتے پھر یہ اسے چھو لیتے تب بھی کافر کہہ دیتے کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔

            کفارِ مکہ نے نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کہا:

’’ تُسْقِطَ السَّمَآءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا كِسَفًا‘‘(بنی اسرائیل:۹۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم ہم پر آسمان ٹکڑے ٹکڑے کر کے گرا دو جیسا تم نے کہا ہے۔

            اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

’’ وَ اِنْ یَّرَوْا كِسْفًا مِّنَ السَّمَآءِ سَاقِطًا یَّقُوْلُوْا سَحَابٌ مَّرْكُوْمٌ‘‘(طور:۴۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر وہ آسمان سے کوئی ٹکڑا گرتاہوا دیکھیں  گے تو کہیں  گے کہ یہ تہہ درتہہ بادل ہے۔

            ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

’’وَ لَوْ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَآءِ فَظَلُّوْا فِیْهِ یَعْرُجُوْنَۙ(۱۴) لَقَالُوْۤا اِنَّمَا سُكِّرَتْ اَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُوْرُوْنَ‘‘(حجر:۱۴ ، ۱۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر ہم ان کے لیے آسمان میں  کوئی دروازہ کھول دیتے  تاکہ دن کے وقت اس میں  چڑھ جاتے۔جب بھی وہ یہی کہتے کہ ہماری نگاہوں  کو بند کردیا گیا ہے بلکہ ہم ایسی قوم ہیں  جن پر جادو کیا ہواہے۔

            کفارِ مکہ نے تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کہا کہ اگر آپ سچے ہیں  تو ہمارے مُردوں  کو زندہ کردیجئے تاکہ ہم ان سے پوچھیں  کہ آپ جو فرماتے ہیں  وہ حق ہے یا نہیں  اور ہمیں  فرشتے دکھائیے جو ہمارے سامنے آپ کے رسول ہونے کی گواہی دیں یا اللہ اور فرشتوں  کو ہمارے سامنے لائیے۔ ان کے جواب میں  اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

’’وَ لَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَاۤ اِلَیْهِمُ الْمَلٰٓىٕكَةَ وَ كَلَّمَهُمُ الْمَوْتٰى وَ حَشَرْنَا عَلَیْهِمْ كُلَّ شَیْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ وَ لٰـكِنَّ اَكْثَرَهُمْ یَجْهَلُوْنَ‘‘(انعام:۱۱۱)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر ہم ان کی طرف فرشتے اُتاردیتے اور مردے ان سے باتیں  کرتے اور ہم ہر چیز ان کے سامنے جمع کردیتے جب بھی وہ ایمان لانے والے نہ تھے مگر یہ کہ خدا چاہتا لیکن ان میں  اکثر لوگ جاہل ہیں ۔

وَ كَذَّبُوْا وَ اتَّبَعُوْۤا اَهْوَآءَهُمْ وَ كُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ(۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اُنھوں  نے جھٹلایا اور اپنی خواہشوں  کے پیچھے ہوئے اور ہر کام قرار پاچکا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور انہوں  نے جھٹلایا اور اپنی خواہشوں  کے پیچھے ہوئے اور ہر کام قرار پاچکا ہے۔

{ وَ كَذَّبُوْا: اور انہوں  نے جھٹلایا۔} ارشاد فرمایا کہ کفار ِمکہ نے نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اوران معجزات کو جھٹلایا جو انہوں  نے اپنی آنکھوں  سے دیکھے اور وہ اپنی ان باطل خواہشوں  کے پیچھے ہوئے جو شیطان نے ان کے دل میں  ڈال دی تھیں  (کہ اگر انہوں  نے نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے معجزات کی تصدیق کی تو اُن کی سرداری تمام عالَم میں  مانی جائے گی اور قریش کی کچھ بھی عزت اور قدر باقی نہ رہے گی۔) اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ ہر کام اپنے وقت پر ہونے ہی والا ہے، کوئی اس کو روکنے والا نہیں  اورسرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا دین غالب ہو کر رہے گا۔( ابو سعود ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۳ ،  ۵ / ۶۵۳ ،  بغوی ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۳ ،  ۴ / ۲۳۵-۲۳۶ ،  ملتقطاً)

وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنَ الْاَنْۢبَآءِ مَا فِیْهِ مُزْدَجَرٌۙ(۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک ان کے پاس وہ خبریں  آئیں  جن میں  کافی روک تھی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک ان کے پاس وہ خبریں  آچکیں جن میں  کافی ڈانٹ ڈپٹ تھی۔

{وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنَ الْاَنْۢبَآءِ: اور بیشک ان کے پاس وہ خبریں  آچکیں۔} ارشاد فرمایا کہ کفارِ مکہ کے پاس قرآنِ پاک کے ذریعے پچھلی امتوں  کے ان لوگوں  کی خبریں  آ چکی ہیں جو اپنے رسولوں  کو جھٹلانے کی وجہ سے ہلاک کر دئیے گئے اور ان خبروں  میں  کفارِ مکہ کے لئے کفر اور تکذیب سے کافی روک اورا نتہا درجہ کی نصیحت تھی۔( جلالین ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۴ ،  ص۴۴۰ ،  مدارک ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۴ ،  ص۱۱۸۵ ،  ملتقطاً)

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ ان لوگوں  کے حالات معلوم کرنا عبرت اور نصیحت حاصل کرنے کے لئے بہت فائدہ مند ہے جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے ساتھ کفر کرنے کی وجہ سے ہلاک کر دئیے گئے۔

حِكْمَةٌۢ بَالِغَةٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُۙ(۵)

ترجمۂ کنزالایمان: انتہاء کو پہنچی ہوئی حکمت پھر کیا کام دیں  ڈر سنانے والے۔

 



Total Pages: 250

Go To