Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

کے بارے میں  بیان کیا گیا ہے ،نیز اس سورت میں  یہ مضامین بیان کئے گئے ہیں

(1)…اس سورت کی ابتداء میں  تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ایک معجزہ اور کفارِ مکہ کے طرزِ عمل کو بیان فرمایا گیا۔

(2)… حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو مشرکین سے اِعراض کرنے اور انہیں  قیامت قریب آنے اور اس دن انہیں  پہنچنے والی سختیوں  سے ڈرانے کا حکم دیاگیا۔

(3)…حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تسلی کے لئے اِختصار کے ساتھ سابقہ امتوں  میں  سے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم،قومِ عاد،قومِ ثمود،حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم اور فرعون کی قوم کے حالات اور ان کا انجام بیان کیا گیا اور کفارِ قریش کو مُخاطَب کر کے ان امتوں  کے انجام سے ڈرایا گیا ۔

(4)…اس سورت کے آخر میں  بد بخت کفار کا حال اورسعادت مند مُتّقی لوگوں  کی جزا کو بیان فرمایا گیا۔

سورۂ نجم کے ساتھ مناسبت:

            سورۂ قمر کی اپنے سے ماقبل سورت ’’نجم‘‘ کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ سورہ ٔ نجم کی طرح اس سورت میں  بھی اپنے رسولوں  کو جھٹلانے والی سابقہ امتوں  کے احوال اور ان کاانجام بیان کیا گیا ہے۔( تناسق الدرر ،  سورۃ القمر ،  ص۱۲۰ملخصاً)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

ترجمۂ کنزالایمان: اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔

اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ(۱)

ترجمۂ کنزالایمان: پاس آئی قیامت اور شق ہوگیا چاند۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا۔

{ اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ: قیامت قریب آگئی۔} یعنی قیامت کے نزدیک ہونے کی نشانی ظاہر ہوگئی کہ نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے معجزہ سے چاند دو ٹکڑے ہو کر پھٹ گیا۔ چاند کا دو ٹکڑے ہونا جس کا اس آیت میں  بیان ہے ،یہ نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے روشن معجزات میں  سے ہے ۔ (خازن ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۱ ،  ۴ / ۲۰۱)

اشارے سے چاند چیر دیا:

            صحاح ستہ کی کثیر اَحادیث میں  اس عظیم معجزے کے مختلف پہلو بیان کئے گئے ہیں ،چنانچہ حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں : اہل ِمکہ نے حضور سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ایک معجزہ دکھانے کی درخواست کی تو حضورپُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے چاند ٹکڑے کرکے دکھایا۔( بخاری ، کتاب المناقب ، باب سؤال المشرکین ان یریہم النبیّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم آیۃ۔۔۔الخ ، ۲ / ۵۱۱ ، الحدیث:۳۶۳۷)

             حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ  فرماتے ہیں  کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے زمانہ میں  چاند دو ٹکڑے ہو کر پھٹا ،ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر اور دوسرا ٹکڑا اس کے نیچے، تب رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا گواہ رہو۔( بخاری ،  کتاب التفسیر ،  سورۃ اقتربت الساعۃ القمر ،  باب وانشقّ القمر۔۔۔ الخ ،  ۳ / ۳۳۹ ،  الحدیث: ۴۸۶۴)

            حضرت جبیر بن مطعم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’جب نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے چاند دو ٹکڑے کر کے دکھایا تو کفارِ قریش نے کہا: محمد (صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) نے جادو سے ہماری نظر بند کردی ہے، اس پر ان کی جماعت کے لوگوں نے کہا کہ اگر یہ ہماری نظر بندی ہے تو باہر کہیں  بھی کسی کو چاند کے دو حصے نظر نہ آئے ہوں گے۔ اب جو قافلے آنے والے ہیں  اُن کی جستجورکھو اور مسافروں  سے دریافت کرو،اگر دوسرے مقامات سے بھی چاند کا ٹکڑے ہونا دیکھا گیا ہے تو بے شک معجزہ ہے ۔چنانچہ سفر سے آنے والوں  سے دریافت کیا تواُنہوں  نے بیان کیا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ اس روز چاند کے دوحصے ہوگئے تھے ۔( ترمذی ، کتاب التفسیر ، باب ومن سورۃ القمر ، ۵ / ۱۸۹ ،  الحدیث: ۳۳۰۰ ،  جامع الاصول فی احادیث الرسول ،  حرف النون ،  الکتاب الاول ،  الباب الخامس ،  الفصل السابع ،  ۱۱ / ۳۶۷ ،  الحدیث: ۸۹۳۷)اب مشرکین کو انکار کی گنجائش نہ رہی لیکن وہ جاہلانہ طور پر اسے جادو ہی جادو کہتے رہے۔

            ان کے علاوہ صحاح ستہ کی اوراَحادیث میں  بھی اس عظیم معجزے کا بیان ہے اوریہ خبر شہرت کے اس درجہ تک پہنچ گئی ہے کہ اس کا انکار کرنا عقل و انصاف سے دشمنی اور بے دینی ہے۔

وَ اِنْ یَّرَوْا اٰیَةً یُّعْرِضُوْا وَ یَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ(۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اگر دیکھیں  کوئی نشانی تو منہ پھیرتے اور کہتے ہیں  یہ تو جادو ہے چلا آتا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر کفار کوئی نشانی دیکھتے ہیں  تو منہ پھیرلیتے ہیں  اور کہتے ہیں : یہ تو کوئی دائمی جادو ہے۔

{ وَ اِنْ یَّرَوْا اٰیَةً: اور اگر کفار کوئی نشانی دیکھتے ہیں ۔} اس آیت میں  کفارِ مکہ کی ایک عادت بیان کی گئی کہ وہ اگر اللہ تعالیٰ کی قدرت اور ا س کے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی صداقت اور نبوت پر دلالت کرنے والی کوئی نشانی جیسے چاند کا دو ٹکڑے ہونا یا کوئی اور نشانی دیکھتے ہیں  تو اس نشانی میں  غور کر کے اس کی حقیقت جاننے ،اس کی تصدیق کرنے اور نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لانے سے منہ پھیرلیتے ہیں  اور کہتے ہیں : محمد (صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) جو کچھ ہمیں  دکھا رہے ہیں  یہ تو کوئی دائمی طاقتورجادو ہے۔( مدارک ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۲ ،  ص۱۱۸۵ ،  روح البیان ،  القمر ،  تحت الآیۃ: ۲ ،  ۹ / ۲۶۷ ،  ملتقطاً)

کفارِ مکہ کی ہٹ دھرمی:

 



Total Pages: 250

Go To