Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

ترجمۂ کنزالایمان: یہ ایک ڈر سنانے والے ہیں  اگلے ڈرانے والوں  کی طرح۔ پاس آئی پاس آنے والی۔ اللہ کے سوا اس کا کوئی کھولنے والا نہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہ پہلے ڈر سنانے والوں  میں  سے ایک ڈر سنانے والے ہیں ۔ قریب آنے والی (قیامت) قریب آگئی۔ اللہ کے سوا اسے کوئی کھولنے والا نہیں ۔

{ هٰذَا نَذِیْرٌ: یہ ایک ڈر سنانے والے ہیں ۔} یعنی اے لوگو! جس طرح پہلے ڈر سنانے والے اپنی قوموں  کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے اسی طرح تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بھی ایک ڈر سنانے والے عظیم رسول ہیں  جو تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں ۔( خازن ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۵۶ ،  ۴ / ۲۰۱)

{ اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُ: قریب آنے والی قریب آگئی۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ قیامت قریب آ چکی ہے اور جب قیامت قائم ہونے کا وقت آئے گا تو اسے اللہ تعالیٰ ہی ظاہر فرمائے گا۔اسی سے متعلق ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

’’ یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَاؕ-قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْۚ-لَا یُجَلِّیْهَا لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُوَ ﲪ ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-لَا تَاْتِیْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً‘‘(اعراف:۱۸۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: آپ سے قیامت کے متعلق سوال کرتے ہیں  کہ اس کے قائم ہونے کا وقت کب ہے ؟ تم فرماؤ: اس کا علم تو میرے رب کے پاس ہے، اسے وہی اس کے وقت پر ظاہر کرے گا، وہ آسمانوں  او رزمین میں بھاری پڑ رہی ہے، تم پر وہ اچانک ہی آجائے گی۔

          دوسری تفسیر یہ ہے کہ قیامت قریب آ گئی ہے اور جب قیامت قائم ہو گی تو اس کی ہَولناکیوں  اور شدّتوں  کو اللہ تعالیٰ کے سواکوئی دور نہیں  کرسکتا اور اللہ تعالیٰ انہیں  دور نہ فرمائے گا۔( مدارک ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۵۷-۵۸ ،  ص۱۱۸۴)

اَفَمِنْ هٰذَا الْحَدِیْثِ تَعْجَبُوْنَۙ(۵۹) وَ تَضْحَكُوْنَ وَ لَا تَبْكُوْنَۙ(۶۰) وَ اَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ(۶۱)فَاسْجُدُوْا لِلّٰهِ وَ اعْبُدُوْا۠۩(۶۲)

ترجمۂ کنزالایمان: تو کیا اس بات سے تم تعجب کرتے ہو۔ اور ہنستے ہو اور روتے نہیں ۔ اور تم کھیل میں  پڑے ہو۔ تو اللہ کے لیے سجدہ اور اس کی بندگی کرو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کیا اس بات پر تم تعجب کرتے ہو؟ اور ہنستے ہو اور روتے نہیں  ہو۔ اور تم غفلت میں  پڑے ہوئےہو۔ تو اللہ کے لیے سجدہ کرواور عبادت کرو۔

{ اَفَمِنْ هٰذَا الْحَدِیْثِ تَعْجَبُوْنَ: تو کیا اس بات پر تم تعجب کرتے ہو؟} اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کفارِ قریش کو مُخاطَب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم میرے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر نازل ہونے کی وجہ سے اس قرآن کا انکار کرتے ہو اور ا س کا مذاق اُڑاتے ہوئے ہنستے ہو اور اللہ تعالیٰ کے نافرمانوں  کی جو وعیدیں  اس میں  بیان ہوئی ہیں  انہیں  سن کر روتے نہیں  حالانکہ تم نافرمان ہو اور ا س قرآن میں  ذکر کی گئی عبرت اور نصیحت انگیز باتوں  سے غفلت میں  پڑے ہوئے ہو اور اس کی آیتوں  سے منہ پھیرتے ہو۔( تفسیر طبری ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۵۹-۶۱ ،  ۱۱ / ۵۴۱)

{ فَاسْجُدُوْا لِلّٰهِ: تو اللہ کے لیے سجدہ کرو۔} یعنی اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ نے تمہیں  جو ہدایت عطا فرمائی ہے، اس کا شکر ادا کرنے کے لئے سجدہ کرو اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو کیونکہ اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ۔( خازن ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۶۲ ،  ۴ / ۲۰۱)

نوٹ:یاد رہے کہ یہ آیت آیاتِ سجدہ میں  سے ہے،اسے پڑھنے اور سننے والے پر سجدہ ٔ تلاوت کرنا واجب ہے۔

سورۂ قَمر

سورۂ قمر کا تعارف

مقامِ نزول:

           سورۂ قمر اس آیت ’’سَیُهْزَمُ الْجَمْعُ‘‘ کے علاوہ مکیہ ہے۔( خازن ،  تفسیر سورۃ القمر ،  ۴ / ۲۰۱ ،  جلالین ،  سورۃ القمر ،  ص۴۴۰)

رکوع اور آیات کی تعداد:

             اس سورت میں 3رکوع اور55 آیتیں ہیں ۔

’’قَمر ‘‘نام رکھنے کی وجہ :

             عربی میں  چاند کو قمر کہتے ہیں ۔اِس سورت کی پہلی آیت میں  چاند کے پھٹ جانے کا بیان کیاگیا ہے ،اس مناسبت سے اس کا نام ’’سورۂ قمر‘‘ رکھا گیا ہے ۔

 سورۂ قمر کے فضائل:

(1)…حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا سے روایت ہے،نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’سورۂ اِقْتَرَبَ کی تلاوت کرنے والے (کا چہرہ قیامت کے دن روشن ہو گا کہ اس سورت) کو تورات میں  ’’ مُبَیِّضَہْ ‘‘ یعنی روشن کرنے والی پکارا جاتا ہے کیونکہ یہ اپنی تلاوت کرنے والے کا چہرہ اس دن روشن کرے گی جس دن چہرے سیاہ ہوں  گے۔(شعب الایمان ،  التاسع عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ ،  فصل فی فضائل السور والآیات ،  ۲ / ۴۹۰ ،  الحدیث: ۲۴۹۵)

(2)…حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہَا سے مروی ہے کہ رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے رات میں  سورۂ سجدہ،سورۂ قمر اور سورۂ ملک کی تلاوت کی تو یہ سورتیں  ،شیطان اور شرک سے اس کی حفاظت کریں  گی اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے درجات میں  بلندی عطا کرے گا۔( کنز العمال ،  کتاب الاذکار ،  قسم الاقوال ،  الباب السابع ،  الفصل الاول ،  ۱ / ۲۶۹ ،  الجزء الاول ،  الحدیث: ۲۴۱۰)

سورۂ قمر کے مضامین:

            اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں  اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت ،نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رسالت اور قرآنِ مجید کی صداقت وغیرہ اسلام کے بنیادی عقائد



Total Pages: 250

Go To