Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

اورحیوانات کے نر اور مادہ دو جوڑے اللہ تعالیٰ نے ہی بنائے(روح البیان ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۴۵-۴۶ ،  ۹ / ۲۵۵)اس سے اللہ تعالیٰ کی قدرت معلوم ہوئی کہ سانچہ ایک ہے مگر اس میں بننے والے برتن مختلف ہیں  کہ ایک رحم، ایک ہی نطفہ مگر کبھی اس سے لڑکا بنتا ہے کبھی لڑکی،کبھی نر کبھی مادہ۔ سُبْحَانَ اللہ۔

وَ اَنَّ عَلَیْهِ النَّشْاَةَ الْاُخْرٰىۙ(۴۷) وَ اَنَّهٗ هُوَ اَغْنٰى وَ اَقْنٰىۙ(۴۸) وَ اَنَّهٗ هُوَ رَبُّ الشِّعْرٰىۙ(۴۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور یہ کہ اسی کے ذمہ ہے پچھلا اٹھانا۔ اور یہ کہ اسی نے غنیٰ دی اور قناعت دی۔ اوریہ کہ وہی ستارہ شِعریٰ کا رب ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور یہ کہ دوبارہ زندہ کرنااسی کے ذمہ ہے۔ اور یہ کہ وہی ہے جس نے غنی کیا اور قناعت دی۔ اور یہ کہ وہی شعریٰ (نامی ستارے) کا رب ہے۔

{ وَ اَنَّ عَلَیْهِ النَّشْاَةَ الْاُخْرٰى: اور یہ کہ دوبارہ زندہ کرنااسی کے ذمہ ہے۔} اس آیت کا یہ مطلب نہیں  کہ اللہ تعالیٰ پر زندہ کرنا واجب ہے بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت میں  زندہ فرمانے کا وعدہ فرما لیا ہے اس لئے اپنے وعدے کو پورا فرمانے کے لئے اللہ تعالیٰ مخلوق کو اس کی موت کے بعد زندہ فرمائے گا۔( روح البیان ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۴۷ ،  ۹ / ۲۵۶)

{ وَ اَنَّهٗ هُوَ اَغْنٰى: اور یہ کہ وہی ہے جس نے غنی کیا۔} یعنی اللہ تعالیٰ ہی لوگوں  کو مال ودولت سے نواز کر غنی کرتا ہے اور قناعت کی نعمت سے بھی وہی نوازتا ہے۔( روح البیان ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۴۸ ،  ۹ / ۲۵۶)

{ وَ اَنَّهٗ هُوَ رَبُّ الشِّعْرٰى: او ریہ کہ وہی شعریٰ کا رب ہے۔} شعریٰ ایک ستارہ ہے جو کہ شدید گرمی کے موسم میں  جو زاء ستارے کے بعد طلوع ہوتاہے۔ دورِ جاہلیّت میں  خزاعہ قبیلے کے لوگ اس کی عبادت کرتے تھے اوران میں  سب سے پہلے عبادت کایہ طریقہ ان کے ایک سردار ابو کبشہ نے جاری کیا۔ اس آیت میں  انہیں بتایا گیا کہ سب کا رب اللہ تعالیٰ ہے اور جس ستارے کی تم پوجا کرتے ہواس کا رب بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے لہٰذا صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔( مدارک ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۴۹ ،  ص۱۱۸۳ ،  خازن ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۴۹ ،  ۴ / ۲۰۰ ،  ملتقطاً)

وَ اَنَّهٗۤ اَهْلَكَ عَادَاﰳ الْاُوْلٰىۙ(۵۰) وَ ثَمُوْدَاۡ فَمَاۤ اَبْقٰىۙ(۵۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور یہ کہ اسی نے پہلی عاد کو ہلاک فرمایا۔ اور ثمود کو تو کوئی باقی نہ چھوڑا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور یہ کہ اسی نے پہلی عاد کو ہلاک فرمایا۔ اور ثمود کو تو اس نے (کسی کو) باقی نہ چھوڑا۔

{ وَ اَنَّهٗۤ اَهْلَكَ عَادَاﰳ الْاُوْلٰى: اور یہ کہ اسی نے پہلی عاد کو ہلاک فرمایا۔} قومِ عاد دو ہیں  ،ایک حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم ، یہ چونکہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد سب سے پہلے تیز آندھی سے ہلاک ہوئے تھے ا س لئے انہیں  پہلی عاد کہتے ہیں  اور ان کے بعد والوں  کو دوسری عاد کہتے ہیں  کیونکہ وہ انہیں  کی اولاد میں  سے تھے۔( خازن ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۵۰ ،  ۴ / ۲۰۰)

{ وَ ثَمُوْدَاۡ فَمَاۤ اَبْقٰى: اور ثمود کو تو اس نے (کسی کو) باقی نہ چھوڑا۔}  ثمود حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم تھی،اسقوم کو اللہ تعالیٰ نے (حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کی) چیخ سے ہلاک کیا اور ان میں  سے کوئی بھی باقی نہ بچا۔( خازن ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۵۱ ،  ۴ / ۲۰۰)

وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُؕ-اِنَّهُمْ كَانُوْا هُمْ اَظْلَمَ وَ اَطْغٰىؕ(۵۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ان سے پہلے نوح کی قوم کو بے شک وہ ان سے بھی ظالم اور سرکش تھے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ان سے پہلے نوح کی قوم کو (ہلاک کیا) بیشک وہ ان (دوسروں ) سے بھی زیادہ ظالم اور سرکش تھے۔

{ وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ: اور ان سے پہلے نوح کی قوم کو۔} یعنی عاد اور ثمود سے پہلے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کو غرق کرکے ہلاک کیا بیشک وہ ان عاد اور ثمودسے بھی زیادہ ظالم اور سرکش تھے کہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ان میں  ایک ہزار برس کے قریب تشریف فرمارہے ،لیکن انہوں نے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعوت قبول نہ کی اور اُن کی سرکشی بھی کم نہ ہوئی۔( خازن ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۵۲ ،  ۴ / ۲۰۰ ،  جلالین ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۵۲ ،  ص۴۳۹ ،  ملتقطاً)

وَ الْمُؤْتَفِكَةَ اَهْوٰىۙ(۵۳) فَغَشّٰىهَا مَا غَشّٰىۚ(۵۴) فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكَ تَتَمَارٰى(۵۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اُس نے اُلٹنے والی بستی کو نیچے گرایا۔ تو اس پر چھایا جو کچھ چھایا۔ تو اے سننے والے اپنے رب کی کونسی نعمتوں  میں  شک کرے گا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اس نے الٹنے والی بستیوں  کو نیچے گرایا۔ پھر ان بستیوں  کو اس نے ڈھانپ لیاجس نے ڈھانپ لیا۔ تو اے بندے! تواپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  میں  شک کرے گا؟

{ وَ الْمُؤْتَفِكَةَ اَهْوٰى: اور اس نے الٹنے والی بستیوں  کو نیچے گرایا۔} ان بستیوں  سے مراد حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی بستیاں  ہیں  جنہیں  حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اٹھا کر اوندھا کر کے زمین پر ڈال دیا اور ان بستیوں  کو زیرو زبر کردیا۔ جلالین ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۵۳ ،  ص۴۳۹-۴۴۰)

{ فَغَشّٰىهَا مَا غَشّٰى: پھر ان بستیوں  کو اس نے ڈھانپ لیاجس نے ڈھانپ لیا۔} یعنی بستیوں  کو الٹنے کے بعداللہ تعالیٰ نے ان بستیوں  کو نشان لگے ہوئے پتھروں  کی خوفناک بارش سے ڈھانپ دیا۔( خازن ،  النجم ،  تحت الآیۃ:۵۴ ،  ۴ / ۲۰۱)

{ فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكَ تَتَمَارٰى: تو اے بندے! تواپنے رب کی کون کون سی نعمتوں  میں  شک کرے گا؟} یعنی اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت اور قدرت پر دلالت کرنے والی نعمتیں  بے شمار ہیں  جن میں  سے بعض کا اوپر تذکرہ ہوا ، پھر اے بندے! تو اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت اور قدرت پر دلالت کرنے والی کون کون سی نعمتوں  میں  شک کرے گا ؟

هٰذَا نَذِیْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰى(۵۶)اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُۚ(۵۷) لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ كَاشِفَةٌؕ(۵۸)

 



Total Pages: 250

Go To