Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

وَ اَنَّ سَعْیَهٗ سَوْفَ یُرٰى۪(۴۰) ثُمَّ یُجْزٰىهُ الْجَزَآءَ الْاَوْفٰىۙ(۴۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور یہ کہ اس کی کو شش عنقر یب دیکھی جائے گی۔ پھر اس کا بھرپور بدلہ دیا جائے گا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور یہ کہ اس کی کو شش عنقر یب دیکھی جائے گی۔ پھر اسے اس کا بھرپور بدلہ دیا جائے گا۔

}وَ اَنَّ سَعْیَهٗ سَوْفَ یُرٰى: اور یہ کہ اس کی کو شش عنقر یب دیکھی جائے گی۔} اس آیت کا معنی یہ ہے کہ عنقریب قیامت کے دن ہر شخص کے اعمال اسے نظر آئیں  گے۔اس کی ایک صورت یہ ہوگی کہ ا س کا نامۂ اعمال اسے دیا جائے گا اور وہ اپنے نامۂ اعمال میں  اور میزان میں  اپنے عمل دیکھے گا۔اس میں  مومن کے لئے بشارت ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اس کے نیک اعمال دکھائے گا تاکہ اسے خوشی حاصل ہو اور کافر (کے لئے وعید ہے کہ وہ) اپنے برے اعمال (دیکھ کر ان)  کی وجہ سے غمزدہ ہو گا۔اور دوسری صورت یہ ہو گی کہ اچھے اعمال کو حسین و جمیل شکل عطا کی جائے گی اور برے اعمال کو بری صورت میں  ڈھال دیا جائے گا تاکہ انہیں  دیکھنا مومن کیلئے خوشی اور کافر کیلئے غم کا باعث ہو۔( روح البیان ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۴۰ ،  ۹ / ۲۵۲ ،  خازن ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۴۰ ،  ۴ / ۱۹۹ ،  جلالین مع صاوی ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۴۰ ،  ۶ / ۲۰۵۶ ،  ملتقطاً)

{ ثُمَّ یُجْزٰىهُ الْجَزَآءَ الْاَوْفٰى: پھر اسے اس کا بھرپور بدلا دیا جائے گا۔} یعنی اعمال دیکھنے کے بعد پھر اللہ تعالیٰ ہر انسان کو اس کے اچھے اور برے اعمال کا بھرپور بدلہ دے گا ۔( روح البیان ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۴۱ ،  ۹ / ۲۵۳ ،  ملخصاً)

وَ اَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الْمُنْتَهٰىۙ(۴۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور یہ کہ بے شک تمہارے رب ہی کی طرف انتہا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور یہ کہ بیشک تمہارے رب ہی کی طرف انتہا ہے۔

{ وَ اَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الْمُنْتَهٰى: اور یہ کہ بیشک تمہارے رب ہی کی طرف انتہا ہے۔} اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ غم نہ کریں  کیونکہ تمام مخلوق کی انتہا آپ کے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف ہے اور آخرت میں  انہیں  اسی کی طرف لوٹنا ہے،وہی نیک اور بد انسان کواس کے اعمال کی جزا دے گا۔دوسرا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے گناہگار کو ڈراتے ہوئے اور نیکوکار کو ترغیب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے سننے والو! بے شک تمام مخلوق کی انتہا تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف ہے،یہ بات اس لئے ارشاد فرمائی تاکہ گناہگار اپنے گناہوں  سے باز آ جائے اور نیکوکار اپنے نیک اعمال اور زیادہ کرے۔(تفسیر طبری ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۴۲ ،  ۱۱ / ۵۳۴ ،   ،  خازن ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۴۲ ،  ۴ / ۱۹۹-۲۰۰ ،  ملتقطاً)

وَ اَنَّهٗ هُوَ اَضْحَكَ وَ اَبْكٰىۙ(۴۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اور یہ کہ وہ ہی ہے جس نے ہنسایا اور رولایا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور یہ کہ وہی ہے جس نے ہنسایااور رلایا۔

{ وَ اَنَّهٗ هُوَ اَضْحَكَ وَ اَبْكٰى: اور یہ کہ وہی ہے جس نے ہنسایااور رلایا۔} یعنی ایک ہی محل میں  مختلف اوقات میں  ایک دوسرے کے مخالف دو چیزوں ، رونے اور ہنسنے کو پیدا کرنے پر اللہ تعالیٰ ہی قادر ہے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انسان کے تمام اعمال اللہ تعالیٰ کی قضاء،قدرت اور اس کے پیدا کرنے سے ہیں ۔اس کے علاوہ مفسرین نے اس آیت کے اور معنی بھی بیان فرمائے ہیں جو کہ درج ذیل ہیں ،

 (1)… اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اہلِ جنت کو جنت میں  داخل کر کے ہنسائے گا اور اہلِ جہنم کو جہنم میں  داخل کر کے رُلائے گا۔

(2)… اللہ تعالیٰ دنیا والوں  میں  سے جسے چاہتا ہے ہنساتا ہے اور جسے چاہتا ہے رُلاتا ہے۔

(3)… اللہ تعالیٰ زمین کو نباتات کے ذریعے ہنساتا ہے اور آسمان کو بارش کے ذریعے رُلاتا ہے۔( خازن ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۴۳ ،  ۴ / ۲۰۰ ،  تفسیر طبری ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۴۳ ،  ۱۱ / ۵۳۴ ،  ملتقطاً)

وَ اَنَّهٗ هُوَ اَمَاتَ وَ اَحْیَاۙ(۴۴)

ترجمۂ کنزالایمان:  اور یہ کہ وہی ہے جس نے مارا اور جِلایا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  اور یہ کہ وہی ہے جس نے موت اور زندگی دی۔

{ وَ اَنَّهٗ هُوَ اَمَاتَ وَ اَحْیَا: اور یہ کہ وہی ہے جس نے موت اور زندگی دی۔} اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہی دنیا میں  موت دی اوروہی آخرت میں  زندگی عطا فرمائے گا۔دوسرا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہی باپ دادا کو موت دی اوران کی اولاد کو زندگی بخشی۔تیسرا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں  کوکفر کی موت سے ہلاک کیا اور ایمانداروں   کو ایمانی زندگی بخشی۔( مدارک ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۴۴ ،  ص۱۱۸۳)

وَ اَنَّهٗ خَلَقَ الزَّوْجَیْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىۙ(۴۵) مِنْ نُّطْفَةٍ اِذَا تُمْنٰى۪(۴۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور یہ کہ اسی نے دو جوڑے بنائے نر اور مادہ۔ نطفہ سے جب ڈالا جائے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور یہ کہ اسی نے نر اور مادہ دو جوڑے بنائے۔ نطفہ سے جب اسے ڈالا جائے۔

{ وَ اَنَّهٗ خَلَقَ الزَّوْجَیْنِ: اور یہ کہ اسی نے دو جوڑے بنائے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب رحم میں  نطفہ ڈالا جائے تو اس نطفہ سے انسانوں 



Total Pages: 250

Go To