Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

اِجماع کے موافق ہو وہ بالکل حق ہے جبکہ وہ قیاس جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے فرمان کے مقابلے میں  ہو وہ ناحق بلکہ بعض صورتوں  میں  کفر ہے اور یہاں  آیت میں  بھی اسی گمان کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول کے فرمان کے مقابلے میں  ہو نہ کہ اس گمان کا ذکر ہے جو کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے فرمان کے موافق ہو۔ قرآن و حدیث میں  اس قیاس کے جائز ہونے کا ثبوت موجود ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے فرمان کے موافق ہو، جیسے اللہ تعالیٰ نے یہودیوں  کا دُنْیَوی انجام بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا:

’’ فَاعْتَبِرُوْا یٰۤاُولِی الْاَبْصَارِ‘‘(حشر:۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اے آنکھوں  والو! عبرت حاصل کرو۔

                یعنی ہر شخص اپنی عملی حالت کو ان کفار کی حالت پر قیاس کر لے تو اسے اپنا انجام خود ہی معلوم ہو جائے گا۔ اور سنن ابو داؤد میں  ہے کہ جب نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت معاذ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کو یمن کی طرف بھیجنے کا ارادہ فرمایا تو ان سے ارشاد فرمایا: ’’جب تمہارے سامنے مقدمہ پیش ہو گا تو تم کیسے فیصلہ کرو گے ۔حضرت معاذ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے عرض کی :اللہ عَزَّوَجَلَّ کی کتاب سے فیصلہ کروں  گا۔رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اگر تم اللہ تعالیٰ کی کتاب میں  (اس کا حکم) نہ پاؤ (تو کیسے فیصلہ کرو گے)۔ حضرت معاذ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے عرض کی: اللہ تعالیٰ کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنت سے فیصلہ کروں  گا۔حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’اگر تم رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنت میں  (اس کا حکم) نہ پاؤ اور نہ ہی کتابُ اللہ میں  پاؤ (تو کیسے فیصلہ کرو گے)۔ حضرت معاذ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے عرض کی :میں  اپنی رائے سے اِجتہاد کروں  گا اور حقیقت تک پہنچنے میں  کوتاہی نہ کروں  گا۔ (ان کی بات سن کر) حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان کے سینے کو تھپکا اور فرمایا: ’’خدا عَزَّوَجَلَّ کا شکر ہے کہ جس نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بھیجے ہوئے کو ا س چیز کی توفیق بخشی جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو خوش کرے۔(ابو داؤد ،  کتاب الاقضیۃ ،  باب اجتہاد الرأی فی القضاء ،  ۳ / ۴۲۴ ،  الحدیث: ۳۵۹۲)

            لہٰذا زیرِ تفسیر آیت کو قیاس کا مُطلَقاً انکار کرنے کی دلیل نہیں  بنایا جا سکتا ۔

{وَ لَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا: اور اس نے صرف دنیاوی زندگی کو چاہا۔} اس آیت سے معلوم ہوا کہ مشرکین نہ آخرت کو مانتے ہیں  اور نہ وہاں  کے لئے تیاری کرتے ہیں  بلکہ ان کی ہر کوشش دنیا کے لئے ہوتی ہے ،اورفی زمانہ مسلمانوں  کا حال یہ ہے کہ وہ کفار کی طرح آخرت کا انکار تو نہیں  کرتے بلکہ انہیں  قیامت قائم ہونے،مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے اورقیامت کے دن اعمال کے حساب اوران کی جزا و سزا پر ایمان ہے لیکن وہ آخرت کی تیاری سے انتہائی غافل اور صرف اپنی دنیا سنوارنے میں لگے ہوئے ہیں ۔ آج مسلمان اپنی اولاد کو دُنْیَوی علوم و فنون کی تعلیم دینے اور ا س تعلیم پر آنے والے بھاری اخراجات برداشت کرنے پر اس لئے تیار ہیں  کہ ان کی دنیا سنور جائے گی جبکہ دینی اور مذہبی تعلیم دینے سے اس لئے کتراتے ہیں  کہ کہیں  ان کی دنیا خراب نہ ہو جائے اوریہی وجہ ہے کہ آج کل دینی مدارس میں  زیادہ تر تعداد ان طالب علموں  کی نظر آتی ہے جن کا تعلق غریب گھرانوں  سے ہے۔

            حضرت موسیٰ بن یسار رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے مروی ہے،نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی چیز پیدا نہیں  فرمائی جو اسے دنیا سے زیادہ ناپسندیدہ ہواور اللہ تعالیٰ نے جب سے دنیا پیدا فرمائی ہے تب سے اس کی طرف نظر نہیں  فرمائی ۔( شعب الایمان ،  الحادی والسبعون من شعب الایمان۔۔۔ الخ ،  ۷ / ۳۳۸ ،  الحدیث: ۱۰۵۰۰)

            علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اصل مقصود نہیں  بنایا بلکہ اسے مقصود تک پہنچنے کا راستہ بنایا ہے۔( روح البیان ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۳۰ ،  ۹ / ۲۴۰)اللہ تعالیٰ مسلمانوں  کو ہدایت عطا فرمائے اور آخرت کی تیاری کی توفیق دے، اٰمین۔

ذٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِؕ-اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖۙ-وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدٰى(۳۰)

ترجمۂ کنزالایمان: یہاں  تک ان کے علم کی پہنچ ہے بے شک تمہارارب خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکا اور وہ خوب جانتا ہے جس نے راہ پائی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہ ان کے علم کی انتہا ہے ۔بیشک تمہارا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکا اور وہ خوب جانتا ہے جس نے ہدایت پائی۔

{ ذٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ: یہ ان کے علم کی انتہاء ہے۔} اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ وہ کفار اس قدر کم عقل اور کم علم ہیں  کہ انہوں نے آخرت پر دنیا کو ترجیح دے دی ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ اُن کے علم کی انتہا و ہم اورگمان ہیں  جو انہوں نے باند ھ رکھے ہیں  کہ (مَعَاذَاللہ) فرشتے خدا کی بیٹیاں  ہیں ،وہ ان کی شفاعت کریں  گے اور اس باطل وہم پر بھروسہ کرکے اُنہوں نے ایمان اور قرآن کی پرواہ نہ کی۔( خازن ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۳۰ ،  ۴ / ۱۹۶)

            اسی طرح ایک اور مقام پر کفار کے علم کی حد بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’ یَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ۚۖ-وَ هُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ‘‘(روم:۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: آنکھوں  کے سامنے کی دنیوی زندگی کو جانتے ہیں اور وہ آخرت سے بالکل غافل ہیں ۔

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِۙ-لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوْا بِمَا عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا بِالْحُسْنٰىۚ(۳۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں  میں  ہے اور جو کچھ زمین میں  تاکہ بُرائی کرنے والوں  کو ان کے کئے کا بدلہ دے اور نیکی کرنے والوں  کو نہایت اچھا صلہ عطا فرمائے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں  میں  ہے اور جو کچھ زمین میں  ہے ،تا کہ برائی کرنے والوں  کو ان کے اعمال کا بدلہ دے اور نیکی کرنے والوں  کو نہایت اچھا صلہ عطا فرمائے۔

{ وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ: اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں  میں  ہے اور جو کچھ زمین میں  ہے۔} یعنی جو کچھ آسمانوں  میں  ہے اور جو کچھ زمین میں  ہے سب کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اس نے کائنات کی تخلیق اس لئے فرمائی تا کہ مخلوق میں  سے جس نے اس کی نافرمانی کی اور برے اعمال میں  مصروف رہا اسے جہنم کی سزا دے اور جنہوں  نے دنیامیں  اس کی



Total Pages: 250

Go To