Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

سدرہ چھٹے آسمان پر ہے ،زمین سے اوپر جانے والی چیزیں  سدرہ پر آ کر رک جاتی ہیں  ، پھر انہیں  وصول کیا جاتا ہے اور اوپر سے نیچے آنے والی چیزیں  اس تک آ کر رک جاتی ہیں  پھر انہیں  وصول کیا جاتا ہے۔( مسلم ،  کتاب الایمان ،  باب فی ذکر سدرۃ المنتہی ،  ص۱۰۶ ،  الحدیث: ۲۷۹(۱۷۳))

عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰىؕ(۱۵) اِذْ یَغْشَى السِّدْرَةَ مَا یَغْشٰىۙ(۱۶) مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى(۱۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اس کے پاس جنت الماویٰ ہے۔ جب سدرہ پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا۔ آنکھ نہ کسی طرف پھری نہ حد سے بڑھی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اس کے پاس جنت الماویٰ ہے۔ جب سدرہ پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا۔ آنکھ نہ کسی طرف پھر ی اور نہ حد سے بڑھی۔

{ جَنَّةُ الْمَاْوٰى: جنت الماویٰ۔} یہ وہ جنت ہے جہاں  حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے قیام فرمایا تھا اور اسی جنت سے آپ زمین پر تشریف لائے تھے ۔ (صاوی ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۱۵ ،  ۶ / ۲۰۴۸)

{ اِذْ یَغْشَى السِّدْرَةَ: جب سدرہ پر چھا رہا تھا۔} یعنی سدرہ کو فرشتوں  نے اور انوار نے گھیرا ہو اتھا۔( خازن ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۱۶ ،  ۴ / ۱۹۳)

{ مَا زَاغَ الْبَصَرُ: آنکھ نہ کسی طرف پھری۔} یعنی اس دیدار کے وقت آنکھ نہ کسی طرف پھر ی اور نہ ادب کی حد سے بڑھی۔اس میں  سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی قوت کے کمال کا اظہار ہے کہ اُس مقام میں  جہاں  عقلیں  حیرت زدہ ہیں  آپ ثابت قدم رہے اور جس نور کا دیدار مقصود تھا اس سے بہر ہ اندوز ہوئے، دائیں  بائیں  کسی طرف توجہ نہ فرمائی اور نہ مقصودکے دیدار سے آنکھ پھیری ،نہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرح بے ہوش ہوئے بلکہ اس مقام میں  ثابت رہے۔( جلالین ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۱۷ ،  ص۴۳۸ ،  خازن ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۱۷ ،  ۴ / ۱۹۳ ،  ملتقطاً)

حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی طاقت:

            اس سے معلوم ہوا کہ سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی طاقت حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طاقت سے زیادہ ہے کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تجلّی دیکھ کر بے ہوش ہو گئے اور حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اللہ تعالیٰ کی ذات کو دیکھا تو نہ آنکھ جھپکی ،نہ دل گھبرایا اور نہ ہی بے ہوش ہوئے۔ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ اسی آیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نگاہ ِنبوت کا عالَم بیان فرماتے ہیں :

شش جہت سمت مقابل شب و روز ایک ہی حال     دھوم والنَّجم میں  ہے آپ کی بینائی کی

لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰیٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى(۱۸)

ترجمۂ کنزالایمان: بے شک اپنے رب کی بہت بڑی نشانیاں  دیکھیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک اس نے اپنے رب کی بہت بڑی نشانیاں  دیکھیں ۔

{ لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰیٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى: بیشک اس نے اپنے رب کی بہت بڑی نشانیاں  دیکھیں ۔} یعنی بے شک حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے شب ِمعراج اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی اور عظیم نشانیاں  دیکھیں  اور ملک وملکوت کے عجائبات کو ملاحظہ فرمایا اور آپ کا علم تمام غیبی ملکوتی معلومات پر محیط ہوگیا۔( روح البیان ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۱۸ ،  ۹ / ۲۲۹ ،  ۲۳۲)

            اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں :

سرِ عرش پر ہے تِری گزر دلِ فرش پر ہے تِری نظر   ملکوت و ملک میں  کوئی شے نہیں  وہ جو تجھ پہ عیاں  نہیں

اَفَرَءَیْتُمُ اللّٰتَ وَ الْعُزّٰىۙ(۱۹) وَ مَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى(۲۰)

ترجمۂ کنزالایمان: تو کیا تم نے دیکھا لات اور عزّیٰ۔ اور اس تیسری منات کو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو (اے لوگو!) کیا تم نے لات اور عزیٰ دیکھا۔ اور ایک اور تیسری منات کو۔

{ اَفَرَءَیْتُمُ اللّٰتَ وَ الْعُزّٰى: تو کیا تم نے لات اور عزّیٰ دیکھا۔} یہاں  سے لوگوں  کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیَّت کا اقرار کرنے اور شرک سے بچنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں  لات ،عُزّیٰ اور مَنات کا ذکر ہوا،یہ ان بتوں  کے نام ہیں  جنہیں  مشرکین پوجتے تھے اور ا ن آیات میں  ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم نے ان بتوں  کوتحقیق اور انصاف کی نظر سے دیکھا ہے ؟اگر تم نے اس طرح دیکھا ہو تو تمہیں  معلوم ہوگیا ہوگا کہ یہ بت محض بے قدرت ہیں  اور اللہ تعالیٰ جو کہ قادر اور برحق معبود ہے اسے چھوڑ کر ان بے قدرت بتوں  کو پوجنا اور اس کا شریک ٹھہرانا کس قدر عظیم ظلم اور عقل و دانش کے خلاف ہے۔( خازن ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۱۹ ،  ۴ / ۱۹۵ ،  جلالین ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۱۹-۲۰ ،  ص۴۳۸ ،  ملتقطاً)

اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَ لَهُ الْاُنْثٰى(۲۱)تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِیْزٰى(۲۲)

ترجمۂ کنزالایمان: کیا تم کو بیٹا اور اس کو بیٹی۔ جب تو یہ سخت بھونڈی تقسیم ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیا تمہارے لئے بیٹا اور اس کیلئے بیٹی ہے۔ جب تو یہ غیر منصفانہ تقسیم ہے۔

{ اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَ لَهُ الْاُنْثٰى: کیا تمہارے لئے بیٹا اور اس کیلئے بیٹی ہے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ مشرکینِ مکہ یہ کہا کرتے تھے کہ یہ بت اور فرشتے خدا کی بیٹیاں  ہیں  ،اس پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ’’کیا تمہارے لئے بیٹا اور اس کیلئے بیٹی ہے حالانکہ بیٹی تمہارے نزدیک ایسی بری چیز ہے کہ جب تم میں  سے کسی کو بیٹی پیدا ہونے کی خبر دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ بگڑ جاتا ہے اور رنگ سیاہ ہوجاتا ہے اور لوگوں  سے چھپتا پھرتا ہے حتّٰی کہ تم بیٹیوں  سے اتنی نفرت کرتے ہو کہ انہیں زندہ درگور کر ڈالتے ہو پھر بھی اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں  بتاتے ہو۔ یہ کتنی غیر منصفانہ تقسیم ہے کہ جو چیز اپنے لئے بری سمجھتے ہو وہ خدا کے لئے تجویز کرتے ہو۔( خازن ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۲۱-۲۲ ،  ۴ / ۱۹۵)

 



Total Pages: 250

Go To