Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

            اس مسئلے کوسمجھنے کے لئے یہاں  چند باتوں  کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ حضرت عائشہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہَا کا قول نفی میں  ہے اور حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا کا اِثبات میں  اور جب نفی اور اثبات میں  ٹکراؤ ہو تو مُثْبَت ہی مُقَدّم ہوتا ہے کیونکہ نفی کرنے والا کسی چیز کی نفی اس لئے کرتا ہے کہ اُس نے نہیں  سنا اور کسی چیز کو ثابت کرنے والا اِثبات اس لئے کرتا ہے کہ اس نے سنا اور جانا تو علم ثابت کرنے والے کے پاس ہے۔اور ا س کے ساتھ یہ بھی ہے کہ حضرت عائشہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہَا نے یہ کلام حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے نقل نہیں  کیا بلکہ آیت سے جو آپ نے مسئلہ اَخذ کیا اس پر اعتماد فرمایا اوریہ حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہَا کی اپنی رائے ہے جبکہ درحقیقت آیت میں  اِدراک یعنی اِحاطہ کی نفی ہے دیکھ سکنے کی نفی نہیں  ہے ۔

            صحیح مسئلہ یہ ہے کہ حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ دیدارِ الہٰی سے مُشَرَّف فرمائے گئے، مسلم شریف کی حدیث ِمرفوع سے بھی یہی ثابت ہے ،حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا جو کہ حِبْرُ الْاُمَّت ہیں  وہ بھی اسی پر ہیں ۔ حضرت حسن بصری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ قسم کھاتے تھے کہ محمد مصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے شبِ معراج اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کو دیکھا ۔ امام احمد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے تھے کہ حضو رِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کو دیکھا اُس کو دیکھا اُس کو دیکھا۔امام صاحب یہ فرماتے ہی رہے یہاں  تک کہ سانس ختم ہوگیا (پھر آپ نے دوسرا سانس لیا)۔(خازن ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۱۱ ،  ۱۸ ،  ۴ / ۱۹۲ ،  ۱۹۴ ،  روح البیان ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۱۲ ،  ۹ / ۲۲۲ ،  ۲۲۳ ،  ملتقطاً)

اَفَتُمٰرُوْنَهٗ عَلٰى مَا یَرٰى(۱۲)وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰىۙ(۱۳) عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى(۱۴)

ترجمۂ کنزالایمان: تو کیا تم ان سے ان کے دیکھے ہوئے پر جھگڑ تے ہو۔ اور انہوں  نے تو وہ جلوہ دوبار دیکھا۔ سِدْرَۃُ الْمُنْتَہٰی کے پاس۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کیا تم ان سے ان کے دیکھے ہوئے پر جھگڑ تے ہو۔ اور انہوں  نے تو وہ جلوہ دوبار دیکھا۔ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس۔

{ اَفَتُمٰرُوْنَهٗ: تو کیا تم ان سے جھگڑ تے ہو۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ مشرکین کو جب معراج شریف کے واقعات معلوم ہوئے تو انہوں  نے ان واقعات کا انکار کر دیا اور رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے طرح طرح کے سوالات کرنے لگے ،کبھی کہتے کہ ہمارے سامنے بیتُ المقدس کے اوصاف بیان کریں  اور کبھی کہتے کہ راستوں  میں  سفر کرنے والے ہمارے قافلوں  کے بارے میں  خبر دیں  تو اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم میرے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ان کے دیکھے ہوئے کے بارے میں  جھگڑتے ہو حالانکہ انہوں  نے تو سدرۃُ المنتہیٰ کے پاس وہ جلوہ باربار دیکھا کیونکہ نمازوں  میں  تخفیف کی درخواست کرنے کیلئے چند بارچڑھنا اور اترنا ہوا۔( خازن ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۱۲-۱۴ ،  ۴ / ۱۹۲ ،  ملخصاً)

            یہاں  ہم صحیح بخاری کی وہ روایت بیان کرتے ہیں  جس میں  آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا بار بار اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  حاضر ہونے کا ذکر ہے،چنانچہ حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ معراج کی رات مجھ پر ہر دن میں  پچاس نمازیں  فرض کی گئیں  ،پھر میں  واپس ہوا تو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس سے گزرا۔ انہوں  نے کہا: آپ کو کیا حکم دیا گیا؟ میں  نے کہا’’ ہر دن میں  پچاس نمازوں  کا حکم دیا گیا ہے۔حضرت موسیٰ  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کہا: آپ کی امت ہر دن پچاس نمازیں  ادا کرنے کی طاقت نہیں  رکھے گی۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میں  نے آپ سے پہلے لوگوں  کی آزمائش کی اور بنی اسرائیل کو تو خوب آزمایا ہے، لہٰذا آپ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف لوٹئے اور اس سے اپنی امت کے لیے آسانی مانگئے ۔ چنانچہ میں  واپس ہوا تو اللہ تعالیٰ نے مجھ سے دس نمازیں  کم کردیں  ۔پھر میں  جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس آیا تو انہوں  پہلے جیسا کلام کیا ، میں  پھر رب تعالیٰ کی طرف لوٹا تواس نے مجھ سےدس معاف فرمادیں ، میں  پھر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس آیا،انہوں  نے پھر پہلے جیسا کلا م کیا ، میں  پھر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  حاضر ہواتو اللہ تعالیٰ نے مجھ سے دس اور معاف کردیں  ، میں  پھر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف لوٹا ،انہوں  نے پھر وہی کہا، میں  پھر لوٹا تو مجھے ہر دن دس نمازوں  کا حکم دیا گیا۔ میں  پھر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف لوٹا ،انہوں  نے پھر وہی کہا، میں  پھر لوٹا تو مجھے ہر دن پانچ نمازوں  کا حکم دیا گیا ۔ میں  پھر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف لوٹا اورانہوں  نے کہا کہ آپ کو کیا حکم دیا گیا ہے؟میں  نے کہا ’’ہر دن پانچ نمازیں  ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ انہوں  نے کہا کہ آپ کی امت ہر دن پانچ نمازوں  کی طاقت نہیں  رکھتی ،میں  نے آپ سے پہلے لوگوں  کی آزمائش کرلی ہے اور بنی اسرائیل کو تو میں  نے اچھی طرح آزما لیا ہے، آپ پھر اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف لوٹئے، آپ اس سے اپنی امت کے لیے کمی کا سوال کریں ۔ حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کہا ’’ میں  نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے اتنے سوال کرلیے کہ اب شرم کرتا ہوں ، لیکن میں  راضی ہوں  اورتسلیم کرتا ہوں ۔( بخاری ،  کتاب مناقب الانصار ،  باب المعراج ،  ۲ / ۵۸۴ ،  الحدیث: ۳۸۸۷)

            اس روایت میں  حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے جن خدشات کا ذکر ہے ان کا ثبوت فی زمانہ عام نظر آتا ہے اورآج مسلمانوں  کے لئے جتنا مشکل پانچ نمازیں  ادا کرنا ہے شاید ہی کوئی چیز ان کے لئے اتنی مشکل ہو۔اللہ تعالیٰ مسلمانوں  کو ہدایت عطا فرمائے،اٰمین۔

{سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى: سدرۃ المنتہیٰ۔} سدرۃُ المنتہیٰ بیری کاایک درخت ہے ،اس کی جڑ چھٹے آسمان میں  ہے اور اس کی شاخیں  ساتویں  آسمان میں  پھیلی ہیں  جبکہ بلند ی میں  وہ ساتویں  آسمان سے بھی گزر گیا ہے،اس کے پھل مقام ہجر کے مٹکوں  جیسے اور پتے ہاتھی کے کانوں  کی طرح ہیں  ۔

            مفسرین نے اس درخت کو سدرۃُ المنتہیٰ کہنے کی مختلف وجوہات بیان کی ہیں ۔ان میں  سے دو وجوہات درج ذیل ہیں :

(1)…فرشتے،شُہداء اور مُتّقی لوگوں  کی اَرواح اس سے آگے نہیں  جا سکتیں  اس لئے اسے سدرۃُ المنتہیٰ کہتے ہیں۔

(2)…زمین سے اوپر جانے والی چیزیں  اور اوپر سے نیچے آنے والی چیزیں  اس تک آ کر رک جاتی ہیں  اس لئے اسے سدرۃُ المنتہیٰ کہتے ہیں ۔( صاوی ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۱۴ ،  ۶ / ۲۰۴۷ ،  قرطبی ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۱۴ ،  ۹ / ۷۱ ،  الجزء السابع عشر ،  ملتقطاً)

            جیسا کہ حضرت