Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

جاسکتی ہے وہ اپنی انتہاء کو پہنچی۔ مزید فرماتے ہیں  کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اس قدر قُربت سے معلوم ہوا کہ جوتاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں  مقبول ہے وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  بھی مقبول ہے اور جو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ سے مَردُود ہے وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے بھی مردود ہے۔( روح البیان ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۱۲ ،  ۹ / ۲۱۹)

            اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ اسی نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کیا خوب فرماتے ہیں  ،

وہ کہ اُس در کا ہوا خلقِ خدا اُس کی ہوئی    وہ کہ  اس  دَر  سے پھرا اللہ اس  سے  پھر  گیا

فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰىؕ(۱۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اب وحی فرمائی اپنے بندے کو جو وحی فرمائی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر اس نے اپنے بندے کو وحی فرمائی جو اس نے وحی فرمائی۔

{ فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰى: پھر اس نے اپنے بندے کو وحی فرمائی جو اس نے وحی فرمائی۔} بعض مفسرین نے اس آیت کامعنی یہ بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کی طرف وہ وحی فرمائی جو حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تک پہنچائی اور اکثر مفسرین کے نزدیک اس آیت کے معنی یہ ہیں  کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص بندے حضرت محمد مصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو وحی فرمائی جو اس نے وحی فرمائی۔ یہاں  جو وحی فرمائی گئی اس کی عظمت و شان کی وجہ سے یہ بیان نہیں  کیا گیا کہ وہ وحی کیا تھی۔( جلالین مع جمل ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۱۰ ،  ۷ / ۳۱۶)

             حضرت جعفر صادق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کو وحی فرمائی جو وحی فرمائی، یہ وحی بے واسطہ تھی کہ اللہ تعالیٰ اوراس کے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے درمیا ن کو ئی واسطہ نہ تھا اور یہ خدا اور رسول کے درمیان کے اَسرار ہیں  جن پر اُن کے سوا کسی کو اطلاع نہیں ۔

            بقلی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اس راز کو تمام مخلوق سے مخفی رکھا اوریہ نہ بیان فرمایا کہ اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو کیا وحی فرمائی اور محب و محبوب کے درمیان ایسے راز ہوتے ہیں  جن کو ان کے سوا کوئی نہیں  جانتا۔

             علماء نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ اس رات میں جو آپ کو وحی فرمائی گئی وہ کئی قسم کے علوم تھے،ان میں  سے چند علوم یہ ہیں :

 (1)… شرعی مسائل اور اَحکام کا علم جن کی سب کو تبلیغ کی جاتی ہے۔

 (2)… اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنے کے ذرائع جو خواص کو بتائے جاتے ہیں  ۔

(3)…علومِ ذَوْقِیّہ کے حقائق اور نتائج جو صرف اَخَصُّ الخواص کو تلقین کئے جاتے ہیں ۔

(4)… اور ان علوم کی ایک قسم وہ اَسرار ہیں  جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولِ مُکَرَّم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ خاص ہیں  کوئی انہیں  برداشت نہیں  کرسکتا۔( روح البیان ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۱۲ ،  ۹ / ۲۲۱-۲۲۲)

مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى(۱۱)

ترجمۂ کنزالایمان: دل نے جھوٹ نہ کہا جو دیکھا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: دل نے اسے جھوٹ نہ کہا جو (آنکھ نے) دیکھا۔

{ مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى: دل نے اس کوجھوٹ نہ کہا جو دیکھا۔} یعنی سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے قلب مبارک نے اس کی تصدیق کی جو چشمِ مبارک نے دیکھا ۔مراد یہ ہے کہ آنکھ سے دیکھا ،دِل سے پہچانا اور اس دیکھنے اور پہچاننے میں  شک اور تَرَدُّد نے راہ نہ پائی۔

حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے معراج کی رات اللہ تعالٰی کا دیدار کیا:

             اب رہی یہ بات کہ کیا دیکھا، اس بارے میں بعض مفسرین کا قول یہ ہے کہ حضرت جبریلعَلَیْہِ السَّلَام کو دیکھا، لیکن صحیح مذہب یہ ہے کہ سَرْوَرِ عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے رب تعالیٰ کو دیکھا۔ اور یہ دیکھنا کیا سر کی آنکھوں  سے تھا یا دل کی آنکھوں  سے، اس بارے میں  مفسرین کے دونوں  قول پائے جاتے ہیں  ایک یہ کہ رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے رب عَزَّوَجَلَّ کو اپنے قلب مبارک سے دیکھا۔

            اورمفسرین کی ایک جماعت کی رائے یہ ہے کہ نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے رب عَزَّوَجَلَّ کو حقیقتاً چشمِ مبارک سے دیکھا ۔

            یہ قول حضرت انس بن مالک،حضرت حسن اور حضرت عکرمہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ کا ہے اور حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو خُلَّت اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو کلام اورسرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اپنے دیدار سے اِمتیاز بخشا۔ حضرت کعب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے دوبار کلام فرمایا اورسیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اللہ تعالیٰ کو دو مرتبہ دیکھا (ترمذی ،  کتاب التفسیر ،  باب ومن سورۃ والنجم ،  ۵ / ۱۸۴ ،  الحدیث: ۳۲۸۹)  لیکن حضرت عائشہ رَضِ



Total Pages: 250

Go To