Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کو دیکھنا مراد ہے بلکہ ظاہری طور پر تفسیر یہ ہے کہ ’’فَاسْتَوٰى‘‘ سے مرادسَرْوَرِ عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا بلند جگہ اوراعلیٰ مقام میں  اِسْتَویٰ فرمانا ہے۔(تفسیر کبیر ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۷ ،  ۱۰ / ۲۳۸-۲۳۹)

            تفسیر روح البیان میں  ہے کہ حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اُفُق ِاعلیٰ یعنی آسمانوں  کے اوپر اِسْتَویٰ فرمایا اور حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام سِدْرَۃ ُالْمُنتہَیٰ پررک گئے اس سے آگے نہ بڑھ سکے اور عرض کی کہ اگر میں  ذرا بھی آگے بڑھوں  گا تو اللہ تعالیٰ کی تَجَلّیات مجھے جلا ڈالیں  گی ،پھر حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ آگے بڑھ گئے اور عرش کے اوپرسے بھی گزر گئے۔ (روح البیان ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۶ ،  ۹ / ۲۱۷)

            حضرت حسن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کا قول یہ ہے کہ ا س آیت میں  اِسْتَویٰ فرمانے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہے۔(تفسیر قرطبی ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۶ ،  ۹ / ۶۵ ،  الجزء السابع عشر)

            اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ کے ترجمے سے بھی اسی طرف اشارہ ہوتا ہے کہ یہاں  اِسْتَویٰ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہے۔

وَ هُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰىؕ(۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور وہ آسمانِ بریں  کے سب سے بلند کنارہ پر تھا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اس حال میں  کہ وہ آسمان کے سب سے بلند کنارہ پر تھے۔

{ وَ هُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰى: اس حال میں  کہ وہ آسمان کے سب سے بلند کنارہ پر تھے۔} یہاں  بھی عام مفسرین اسی طرف گئے ہیں  کہ یہ حال جبریلِ امین عَلَیْہِ السَّلَام کا ہے لیکن امام رازی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  کہ ظاہر یہ ہے کہ یہ حال تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ہے کہ آپ اُفُقِ اعلیٰ یعنی آسمانوں  کے اوپر تھے، اور (اس کی دلیل یہ ہے کہ) جس طرح کہنے والا کہتا ہے کہ میں  نے چھت پر چاند دیکھا یاپہاڑ پر چاند دیکھا، تواس بات کے یہ معنی نہیں  ہوتے کہ چاند چھت پر یا پہاڑ پر تھا بلکہ یہی معنی ہوتے ہیں  کہ دیکھنے والا چھت یا پہاڑ پر تھا، اسی طرح یہاں بھی مراد یہ ہے کہ حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ آسمانوں  کے اوپر پہنچے تو اللہ تعالیٰ کی تجلی آپ کی طرف متوجہ ہوئی۔( تفسیر کبیر ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۷ ،  ۱۰ / ۲۳۸)

ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ(۸) فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰىۚ(۹)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر وہ جلوہ نزدیک ہوا پھر خوب اتر آیا۔ تو اس جلوے اور اس محبوب میں  دو ہاتھ کا فاصلہ رہا بلکہ اس سے بھی کم۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر وہ جلوہ قریب ہوا پھر اور زیادہ قریب ہوگیا۔ تو دو کمانوں  کے برابر بلکہ اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا۔

{ ثُمَّ دَنَا: پھر وہ قریب ہوا۔} کون کس کے قریب ہوااس کے بارے میں  مفسرین کے کئی قول ہیں ۔

(1)… اس سے حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کا نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے قریب ہونا مراد ہے۔اس صورت میں  آیت کا معنی یہ ہے کہ حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام اپنی اصلی صورت دکھادینے کے بعد حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے قرب میں  حاضر ہوئے پھر اور زیادہ قریب ہوئے ۔

(2)… اس سے تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا اللہ تعالیٰ کے قرب سے مُشَرَّف ہونا مراد ہے اور آیت میں  قریب ہونے سے حضورِ انور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا اوپر چڑھنا اور ملاقات کرنا مراد ہے اور اتر آنے سے نازل ہونا،لوٹ آنا مراد ہے ۔اس قول کے مطابق آیت کا حاصلِ معنی یہ ہے کہ نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اللہ تعالیٰ کے قرب میں  باریاب ہوئے پھر وصال کی نعمتوں  سے فیض یاب ہو کر مخلوق کی طرف متوجہ ہوئے۔

(3)… حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں  کہ ا س سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اپنے قرب کی نعمت سے نوازا۔اس صورت میں  آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ رَبُّ اْلعِزَّت  اپنے لطف و رحمت کے ساتھ اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے قریب ہو ااور اس قرب میں  زیادتی فرمائی۔

             یہ تیسرا قول صحیح تر ہے اس کی تائید صحیح بخاری کی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں  رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اور جَبَّارْ رَبُّ الْعِزَّتْ قریب ہوا۔( بخاری ،  کتاب التوحید ،  باب قولہ تعالی: وکلّم اللّٰہ موسی تکیلماً ،  ۴ / ۵۸۰ ،  الحدیث: ۷۵۱۷)

(4)… اس آیت کا معنی یہ ہے کہ نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بارگاہِ رَبُوبِیَّت میں  مُقَرَّب ہو کر سجدۂ طاعت ادا کیا۔( تفسیرکبیر ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۸ ،  ۱۰ / ۲۳۹ ،  قرطبی ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۸ ،  ۹ / ۶۶ ،  الجزء السابع عشر ،  روح البیان ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۱۲ ،  ۹ / ۲۱۸-۲۱۹ ،  ملتقطاً)

            اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ اپنے مشہور کلام ’’قصیدۂ معراجیہ ‘‘میں  اسی آیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کیا خوب فرماتے ہیں  :

پر اِن کا بڑھنا تو نام کو تھا حقیقۃً فعل تھا اُدھر کا         تنزّلوں  میں  ترقی افزا دَنٰی تَدَلّٰے کے سلسلے تھے

ہوا یہ آخر کہ ایک بجرا تَمَوُّجِ بحرِ ہو میں  اُبھرا       دَنیٰ کی گودی میں  ان کو لے کر فنا کے لنگراٹھا دیے تھے

اٹھے جو قصرِدنیٰ کے پردے کوئی خبر دے تو کیا خبر دے        وہاں  تو جاہی نہیں  دوئی کی نہ کہہ کہ وہ بھی نہ تھے ارے تھے

{ فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰى: تو دو کمانوں  کے برابر بلکہ اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا۔} اس آیت میں  مذکور لفظِ ’’قَوْسَیْنِ‘‘ کا ای



Total Pages: 250

Go To