Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور آدم سے اپنے رب کے حکم میں  لغزش واقع ہوئی تو جو مقصد چاہا تھا وہ نہ پایا۔

             اور اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شان میں  ارشاد فرمایا:

’’ مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَ مَا غَوٰى‘‘

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تمہارے صاحب نہ بہکے اورنہ ٹیڑھا راستہ چلے۔

            اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا مقام حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے بلند ہے۔

حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے نامِ اَقدس کے ساتھ لفظ ’’صاحب‘‘ ملانے کا شرعی حکم:

            یہاں  ایک شرعی مسئلہ یاد رہے کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَسَلَّمَ پر اطلاقِ صاحب خود قرآنِ عظیم میں  وارد ’’وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰىۙ(۱)مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَ مَا غَوٰى‘‘ مگر نامِ اقدس کے ساتھ اس طورپر لفظ ِ’’صاحب‘‘ کا ملانا (جیسے محمد صاحب کہنا) یہ آریوں  اور پادریوں  کا شِعار ہے، وہ اسے معروف تعظیم میں  لاتے ہیں  جو زید وعمر کے لئے رائج ہے کہ شیخ صاحب، مرزاصاحب، پادری صاحب، پنڈت صاحب، لہٰذا اس سے احتراز چاہئے، ہاں  یوں  کہا جائے کہ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ہمارے صاحب ہیں ، آقا ہیں ، مالک ہیں ، مولیٰ ہیں ۔( فتاوی رضویہ، کتاب السیر، ۱۴ / ۶۱۴)

وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰىؕ(۳) اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰىۙ(۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں  کرتے۔ وہ تو نہیں  مگر وحی جو اُنھیں  کی جاتی ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہ کوئی بات خواہش سے نہیں  کہتے۔ وہ وحی ہی ہوتی ہے جو انہیں  کی جاتی ہے۔

{ وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى: اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں  کہتے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کفار کہتے تھے :قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں  بلکہ محمد (صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) نے اسے اپنی طرف سے بنا لیا ہے،اس کا رد کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ میرے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جو کلام تمہارے پاس لے کر آئے ہیں  اس کی کوئی بات وہ اپنی طرف سے نہیں  کہتے بلکہ اس قرآن کی ہر بات وہ وحی ہی ہوتی ہے جو انہیں  اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کے ذریعے کی جاتی ہے۔( خازن ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۳-۴ ،  ۴ / ۱۹۱ ،  جلالین ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۳-۴ ،  ص۴۳۷ ،  ملتقطاً)

عَلَّمَهٗ شَدِیْدُ الْقُوٰىۙ(۵) ذُوْ مِرَّةٍؕ-فَاسْتَوٰىۙ(۶)

ترجمۂ کنزالایمان: انھیں  سکھایا سخت قوتوں  والے طاقتور نے پھر اس جلوہ نے قصد فرمایا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: انہیں  سخت قوتوں  والے ، طاقت والے نے سکھایا ،پھر اس نے قصد فرمایا۔

{عَلَّمَهٗ شَدِیْدُ الْقُوٰى: انہیں  سخت قوتوں  والے نے سکھایا۔} یعنی جو کچھ اللہ تعالیٰ نے نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی طرف وحی فرمائی وہ انہیں  سخت قوتوں  والے ، طاقت والے نے سکھایا۔بعض مفسرین نے یہ فرمایا ہے کہ سخت قوتوں  والے ،طاقتور سے مراد حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام ہیں  اور سکھا نے سے مراد اللہ تعالیٰ کی تعلیم سے سکھانا یعنی اللہ تعالیٰ کی وحی کوحضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مبارک قلب تک پہنچانا ہے۔

حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کی شدت اور قوت کا حال:

            حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کی شدت اور قوت کا یہ عالَم تھا کہ انہوں  نے حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی بستیوں  کو زمین کی جڑ سے اکھاڑ کر اپنے پروں  پر رکھ لیا اور آسمان کی طرف اتنا بلند کر دیا کہ ان لوگوں  کے مرغوں  کی بانگ اور کتوں  کے بھونکنے کی آواز فرشتوں  نے سنی،پھر ان بستیوں  کو پلٹ کر پھینک دیا۔ان کی طاقت کا یہ حال تھا کہ ارضِ مقدَّسہ کی گھاٹی میں  ابلیس کو حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کلام کرتے دیکھا تو انہوں  نے اپنے پر سے پھونک مار کر ابلیس کو ہند کی سرزمین کے دور دراز پہاڑ پر پھینک دیا۔ان کی شدّت کی یہ کیفِیَّت تھی کہ قومِ ثمود اپنی کثیر تعداد اور بھرپور قوت کا مالک ہونے کے باوجود حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کی ایک ہی چیخ سے ہلاک ہو گئی۔ ان کی طاقت کا یہ حال تھا کہ پلک جھکنے میں  آسمان سے زمین پر نازل ہوتے اور انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تک وحی پہنچا کر دوبارہ آسمان پر پہنچ جاتے ۔

            حضرت حسن بصری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے فرمایا کہ ’’شَدِیْدُ الْقُوٰى‘‘ سے مراد اللہ تعالیٰ ہے اور اُس نے اپنی قدرت کے اظہار کے لئے اپنی ذات کو اس وصف کے ساتھ ذکر فرمایا۔اس صورت میں  آیت کے معنی یہ ہیں  کہ سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اللہ تعالیٰ نے کسی واسطہ کے بغیر تعلیم فرمائی۔( روح البیان ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۵ ،  ۱۲ ،  ۹ / ۲۱۴ ،  ۲۱۸ ،  قرطبی ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۶ ،  ۹ / ۶۴ ،  الجزء السابع عشر ،  ملتقطاً)

{ فَاسْتَوٰى: پھر اس نے قصد فرمایا۔} عام مفسرین نے ’’ فَاسْتَوٰى‘‘ کا فاعل بھی حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کو قرار دیا ہے اوراس کے یہ معنی مراد لئے ہیں  کہ حضرت جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام اپنی اصلی صورت پر قائم ہوئے، اوراصلی صورت پر قائم ہونے کا سبب یہ ہے کہ سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت جبریل کواُن کی اصلی صورت میں  ملاحظہ فرمانے کی خواہش ظاہر فرمائی تو حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام مشرق کی جانب میں  حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سامنے نمودار ہوئے اور ان کے وجود سے مشرق سے مغرب تک کاعلاقہ بھر گیا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سوا کسی اِنسان نے حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کو اُن کی اصلی صورت میں  نہیں  دیکھا۔( ابو سعود ،  النجم ،  تحت الآیۃ: ۶ ،  ۵ / ۶۴۲)

            امام فخر الدین رازی