Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

ہماری حفاظت میں  ہیں  وہ آپ کوکچھ نقصان نہیں  پہنچاسکتے۔( تفسیر طبری ،  الطور ،  تحت الآیۃ: ۴۸ ،  ۱۱ / ۵۰۰ ،  جلالین ،  الطور ،  تحت الآیۃ: ۴۸ ،  ص۴۳۷ ،  ملتقطاً)

{ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِیْنَ تَقُوْمُ: اور اپنے قیام کے وقت اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے پاکی بیان کرو۔} اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ نماز کے لئے اپنے قیام کے وقت اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی تعریف کرتے ہوئے اس کی پاکی بیان کرو۔ اس صورت میں  حمد سے تکبیرِ اُولیٰ کے بعد سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ پڑھنا مراد ہے۔

          دوسرا معنی یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ جب سو کر اٹھیں  تو اللہ تعالیٰ کی حمد اور تسبیح کیا کریں ۔

          تیسرا معنی یہ ہے کہ ہر مجلس سے اٹھتے وقت حمد اور تسبیح کیا کریں ۔( مدارک ،  الطور ،  تحت الآیۃ: ۴۸ ،  ص۱۱۷۷)

مجلس سے اٹھتے وقت کی دعا:

            حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’جو شخص کسی مجلس میں  بیٹھا اور اس نے مجلس میں  بہت سی لَغْوْ باتیں  کیں  تو اٹھنے سے پہلے یہ کلام کہے ،اس کی لَغْوْ باتوں  کی مغفرت ہو جائے گی، ’’سُبْحَانَکَ اللّٰہمَّ وَ بِحَمْدِکَ اَشْہَدُ اَنْ لَآ اِلٰـہَ اِلاَّ ٓاَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَ اَتُوْبُ اِلَیْکَ‘‘ یعنی اے اللہ! عَزَّوَجَلَّ، تیری پاکی اور حمد بیان کرتے ہوئے میں  گواہی دیتا ہوں  کہ تیرے سوا اور کوئی معبود نہیں ، میں  تم سے مغفرت طلب کرتا ہوں  اور تیری بارگاہ میں  توبہ کرتا ہوں ۔( ترمذی ،  کتاب الدعوات ،  باب ما یقول اذا قام من مجلسہ ،  ۵ / ۲۷۳ ،  الحدیث: ۳۴۴۴)

نماز سے پہلے پڑھا جانے والا وظیفہ:

            حضرت عاصم بن حمید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ  فرماتے ہیں ، میں  نے حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہَا سے سوال کیا کہ سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کس طرح اپنی رات کی نماز شروع فرماتے تھے ،آپ نے جواب دیا: تم نے مجھ سے وہ بات پوچھی ہے جو تم سے پہلے کسی اور نے نہیں  پوچھی، نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو دس مرتبہ اَللہُ اَکْبَرْ کہتے،دس مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ  کہتے،دس مرتبہ سُبْحَانَ اللہ کہتے،دس مرتبہ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللہ کہتے،دس مرتبہ اَسْتَغْفِرُ اللہ کہتے،پھر یوں  دعا مانگتے ’’اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِیْ وَ اہْدِنِیْ وَ ارْزُقْنِیْ وَ عَافِنِی‘‘ یعنی اے اللہ! عَزَّوَجَلَّ مجھے بخش دے اور مجھے ہدایت عطا فرما اور مجھے رزق دے اور مجھے عافِیَّت دے۔ پھر آپ قیامت کے دن جگہ کی تنگی سے پناہ مانگا کرتے تھے۔( ابو داؤد ،  کتاب الصلاۃ ،  باب ما یستفتح بہ الصلاۃ من الدعاء ،  ۱ / ۲۹۷ ،  الحدیث: ۷۶۶)

{ وَ مِنَ الَّیْلِ: اور رات کے کچھ حصے میں ۔} یعنی رات کے کچھ حصے میں  اور تاروں  کے چھپ جانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور حمد بیان کرو ۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ ان آیات میں  تسبیح سے مراد نماز ہے۔( مدارک ،  الطور ،  تحت الآیۃ: ۴۹ ،  ص۱۱۷۷)

سورۂ نَجْمْ

سورۂ نَجم کا تعارف

 مقامِ نزول:

          سورۂ نجم مکہ مکرمہ میں  نازل ہوئی ہے۔( خازن ،  تفسیر سورۃ النجم ،  ۴ / ۱۹۰)

رکوع اور  آیات کی تعداد:

            اس سورت میں 3رکوع اور 62آیتیں  ہیں ۔

’’نَجم ‘‘نام رکھنے کی وجہ :

           عربی میں  ستارے کو نَجم کہتے ہیں  نیزیہ ایک مخصوص ستارے کا نام بھی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی پہلی آیت میں  ’’نَجْم‘‘ کی قسم ارشاد فرمائی اسی مناسبت سے ا س کانام ’’سورۂ نجم‘‘ رکھا گیا۔

سورۂ نَجم کے فضائل:

(1)…حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ  فرماتے ہیں  کہ سجدہ والی سورتوں  میں  سب سے پہلے ’’سورۂ نجم‘‘ نازل ہوئی ،اس کی تلاوت کر کے رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے سجدہ کیا اور جتنے لوگ بھی آپ کے پیچھے تھے (مسلمان یا کافر) ان میں  سے ایک کے علاوہ سب نے سجدہ کیا، میں  نے اس (سجدہ نہ کرنے والے) کو دیکھا کہ ا س نے اپنے ہاتھ میں  مٹی لے کر اس پر سجدہ کر لیا اور اس (دن) کے بعد میں  نے اسے دیکھا کہ وہ کفر کی حالت میں  قتل ہوا پڑا تھا اور وہ امیہ بن خلف تھا۔( بخاری ،  کتاب التفسیر ،  سورۃ النجم ،  باب فاسجدوا للّٰہ واعبدوا ،  ۳ / ۳۳۸ ،  الحدیث: ۴۸۶۳)

(2)…علامہ محمود آلوسی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ علامہ احمد بن موسیٰ المعروف ابن مَردَوَیہ رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں  ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے فرمایا’’سورۂ نجم،یہ وہ پہلی سورت ہے جس کا رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اعلان فرمایا اور حرم شریف میں  مشرکین کے سامنے پڑھی۔( روح المعانی ،  سورۃ والنجم ،  ۱۴ / ۶۳)

سورۂ نَجم کے مضامین:

            اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں  اللہ تعالیٰ کی وحدانیَّت ،نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عظمت اور قیامت کے دن مخلوق کو دوبارہ زندہ کئے جانے کے بارے میں  بیان کیاگیا ہے ،نیز اس سورت میں  یہ مضامین بیان کئے گئے ہیں ۔

(1)…اس سورت کی ابتداء میں  اللہ تعالیٰ نے قَسم ارشاد فرما کر اپنے حبیب

Total Pages: 250

Go To