Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

’’وَ لَوْ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَآءِ فَظَلُّوْا فِیْهِ یَعْرُجُوْنَۙ(۱۴) لَقَالُوْۤا اِنَّمَا سُكِّرَتْ اَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُوْرُوْنَ‘‘( حجر:۱۴ ،  ۱۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر ہم ان کے لیے آسمان میں  کوئی دروازہ کھول دیتے تاکہ دن کے وقت اس میں  چڑھ جاتے۔ جب بھی وہ یہی کہتے کہ ہماری نگاہوں  کو بند کردیا گیا ہے بلکہ ہم ایسی قوم ہیں  جن پر جادو کیا ہوا ہے۔

            اس سے معلوم ہوا کہ جب کسی کے نصیب میں  ایمان نہ ہوتو بڑا معجزہ دیکھ کر بھی اسے ہدایت نہیں  مل سکتی۔

فَذَرْهُمْ حَتّٰى یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ فِیْهِ یُصْعَقُوْنَۙ(۴۵)

ترجمۂ کنزالایمان: تو تم انھیں  چھوڑ دو یہاں  تک کہ وہ اپنے اس دن سے ملیں  جس میں  بے ہوش ہوں  گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو تم انہیں  چھوڑ دو یہاں  تک کہ وہ اپنے اس دن سے ملیں  جس میں  بیہوش کردئیے جائیں  گے۔

{ فَذَرْهُمْ: تو تم انہیں  چھوڑ دو۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، جب یہ مشرکین عناد میں  اس حد تک پہنچ چکے ہیں  اور یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ وہ اپنے کفر سے نہیں  پھریں  گے تو آپ انہیں  ان کے حال پر چھوڑ دیں  اور ان کی طرف توجہ نہ فرمائیں  یہاں  تک کہ وہ اپنے اس دن سے ملیں  جس میں  بے ہوش کردئیے جائیں  گے۔ اس دن سے مراد پہلی بار صور پھونکے جانے کا دن ہے اور بعض مفسرین نے اس سے موت کا دن بھی مراد لیا ہے۔( جلالین مع صاوی ،  الطور ،  تحت الآیۃ: ۴۵ ،  ۶ / ۲۰۴۳ ،  مدارک ،  الطور ،  تحت الآیۃ: ۴۵ ،  ص۱۱۷۷ ،  ملتقطاً)ؤ[

 

یَوْمَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ كَیْدُهُمْ شَیْــٴًـا وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَؕ(۴۶)

ترجمۂ کنزالایمان: جس دن اُن کا داؤں  کچھ کام نہ دے گا اور نہ اُن کی مدد ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جس دن ان کا کوئی فریب انہیں  کچھ کام نہ دے گا اور نہ ان کی مدد ہو گی۔

{ یَوْمَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ كَیْدُهُمْ شَیْــٴًـا: جس دن ان کا کوئی فریب انہیں  کچھ کام نہ دے گا۔} یعنی مشرکین کوبے ہوش کر دئیے جانے کا دن وہ ہے جس دن ان کا کوئی فریب انہیں  کچھ کام نہ دے گا بلکہ اُلٹاا نہیں  نقصان پہنچائے گا اور نہ ان سے عذاب دور کر دینے میں  کسی کی طرف سے ان کی مدد ہو گی۔( تفسیر طبری ،  الطور ،  تحت الآیۃ: ۴۶ ،  ۱۱ / ۴۹۸ ،  روح البیان ،  الطور ،  تحت الآیۃ: ۴۶ ،  ۹ / ۲۰۵ ،  ملتقطاً)

            یاد رہے کہ کافروں  کو ان کے فریب تو کچھ کام نہ دیں  گے جبکہ دنیا میں  ایمان قبول کرنے والوں  کو قیامت کے دن ان کا ایمان لاناضرور کام آئے گا جیساکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

’’ قَالَ اللّٰهُ هٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ صِدْقُهُمْؕ-لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ‘‘(مائدہ:۱۱۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اللہ نے فرمایا: یہ (قیامت) وہ دن ہے جس میں  سچوں  کو ان کا سچ نفع دے گا ان کے لئے باغ ہیں  جن کے نیچے نہریں  جاری ہیں ، وہ ہمیشہ ہمیشہ اس میں  رہیں  گے، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔

وَ اِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا عَذَابًا دُوْنَ ذٰلِكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ(۴۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک ظالموں  کے لیے اس سے پہلے ایک عذاب ہے مگر ان میں  اکثر کو خبر نہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک ظالموں  کے لیے اس سے پہلے ایک عذاب ہے مگر ان میں  اکثر لوگ جانتے نہیں ۔

{ وَ اِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا عَذَابًا دُوْنَ ذٰلِكَ: اور بیشک ظالموں  کے لیے اس سے پہلے ایک عذاب ہے۔} ارشاد فرمایا کہ اِن کافروں  کے لئے اُن کے کفر کی وجہ سے آخرت کے عذاب سے پہلے دنیا میں  بھی ایک عذاب ہے مگر ان میں  اکثر لوگ (غفلت اور جہالت کی وجہ سے) اپنے انجام کو جانتے نہیں  اور نہ انہیں  یہ معلوم ہے کہ وہ عذاب میں  مبتلا ہونے والے ہیں۔آخرت سے پہلے والے عذاب سے مراد یا تو بدر میں  قتل ہونا ہے یا بھوک و قحط کی سات سالہ مصیبت یا عذاب ِقبر مراد ہے۔( خازن ،  الطور ،  تحت الآیۃ: ۴۷ ،  ۴ / ۱۹۰)

             علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’اس آیت سے عذاب ِقبر (کا حق ہونا) ثابت ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ بندے کو ا س کی قبر میں  زندگی عطا فرمائے گا اور اسے ویسی ہی عقل عطا فرمائے گا جیسی دنیا میں  اسے ملی تھی تاکہ وہ خود سے کئے گئے سوالات اور اس کی طرف سے دئیے گئے جوابات کوسمجھ سکے اور اللہ تعالیٰ نے ا س کے لئے جو انعامات یا عذابات تیار کئے ہیں  ان کا فہم اسے حاصل ہو۔( روح البیان ،  الطور ،  تحت الآیۃ: ۴۷ ،  ۹ / ۲۰۵)

وَ اصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْیُنِنَا وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِیْنَ تَقُوْمُۙ(۴۸) وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اِدْبَارَ النُّجُوْمِ۠(۴۹)ترجمۂ کنزالایمان: اور اے محبوب تم اپنے رب کے حکم پر ٹھہرے رہوکہ بیشک تم ہماری نگہداشت میں  ہو اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے اس کی پاکی بولو جب تم کھڑے ہو۔اور کچھ رات میں  اس کی پاکی بولو اور تاروں  کے پیٹھ دیتے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اے محبوب!تم اپنے رب کے حکم پر ٹھہرے رہو کہ بیشک تم ہماری نگاہوں  (حفاظت) میں  ہو اور اپنے قیام کے وقت اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے پاکی بیان کرو۔ اور رات کے کچھ حصے میں  اس کی پاکی بیان کرو اور تاروں  کے جانے کے بعد۔

{ وَ اصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ: اور اے محبوب!تم اپنے رب کے حکم پر ٹھہرے رہو۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو حکم دیا ہے آپ اس پر قائم رہیں  اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پیروی کرتے اور ممنوعات سے رکے رہیں  اور اللہ تعالیٰ کے پیغامات پہنچاتے رہیں  اور جو مہلت ان مشرکین کو دی گئی ہے اس پر دِل تنگ نہ ہوں  بیشک آپ



Total Pages: 250

Go To