Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

اَمْ تَسْــٴَـلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَؕ(۴۰)

ترجمۂ کنزالایمان: یا تم ان سے کچھ اجرت مانگتے ہو تو وہ چَٹی کے بوجھ میں  دبے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یا تم ان سے کچھ اجرت مانگتے ہوکہ (جس سے) وہ تاوان کے بوجھ میں  دبے ہوئے ہیں ۔

{ اَمْ تَسْــٴَـلُهُمْ اَجْرًا: یا تم ان سے کچھ اجرت مانگتے ہو۔} کفار نے شریعت کے اَحکام کو پسِ پُشت ڈالا اور اپنی عقل کے مطابق جو انہیں  اچھا لگا اس کی پیروی کی تو اللہ تعالیٰ نے ان سے ارشاد فرمایا کہ تمہیں  کس چیز نے شریعت کے احکام پس ِ پُشت  ڈالنے پر اور اِس رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی پیروی چھوڑ دینے پر ابھارا،کیا رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے دین کی تعلیم دینے پر تم سے کوئی اجرت مانگی ہے کہ ا س کی وجہ سے تم تاوان کے بوجھ میں  دبے ہوئے ہو اور اس بوجھ کی وجہ سے اسلام قبول نہیں  کرتے ،جب یہ بھی نہیں  ہے تو پھر اسلام قبول نہ کرنے کا تمہارے پا س کیا عذر ہے۔(تفسیر کبیر ،  الطور ،  تحت الآیۃ: ۴۰ ،  ۱۰ / ۲۱۹ ،  خازن ،  الطور ،  تحت الآیۃ: ۴۰ ،  ۴ / ۱۸۹ ،  ملتقطاً)

            اس سے معلوم ہو ا کہ دین کے احکام پر عمل نہ کرنا اور اپنی عقل کے مطابق جو اچھا لگے اسی کی پیروی کرنا کفار کا طریقہ ہے اور انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ فی زمانہ ہمارے معاشرے میں  کچھ ایسے لوگ بھی پائے جاتےہیں  جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ،اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرتے اور خود کو مسلمانوں  میں  شمار کرتے ہیں  جبکہ ان کا حال یہ ہے کہ دین کے وہ اَحکام جو ان کی عقل کے ترازو پر پورے نہیں  اترتے ،ان کا مذاق اُڑاتے ،انہیں  انسانیّت کے بر خلاف بتاتے اور قرآن وحدیث کی غلط تفسیر و تشریح کر کے اپنی طرف سے اَحکام گھڑتے اور اسے دین ِاسلام کی تعلیم بتاتے ہیں  ۔اللہ تعالیٰ انہیں  ہدایت اور عقلِ سلیم عطا فرمائے ،اور اپنی اس رَوِش کو ترک کر کے اس طریقے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے جو اللہ تعالیٰ اور ا س کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بتایا ہے ،اٰمین۔

اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ فَهُمْ یَكْتُبُوْنَؕ(۴۱)

ترجمۂ کنزالایمان: یا اُن کے پاس غیب ہیں  جس سے وہ حکم لگاتے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  یا ان کے پاس غیب ہے کہ وہ (اس کے ذریعے فیصلہ) لکھتے ہیں ۔

{ اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ: یا ان کے پاس غیب ہے۔} یعنی شریعت کے احکام پس ِپُشت ڈالنے والے مشرکین کے پاس کیاغیب کا علم ہے جس کی وجہ سے وہ یہ حکم لگاتے ہیں  کہ مرنے کے بعد نہیں  اٹھیں  گے اور اٹھے بھی تو انہیں  عذاب نہیں  دیا جائے گا ۔جب یہ بات بھی نہیں  ہے تو وہ کیوں  اسلام قبول نہیں  کرتے۔

            امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’اس آیت میں  یہ اشارہ ہے کہ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پاس جو کچھ اَسرار ،اَحکام اور کثیر خبروں  کا علم ِغیب ہے وہ وحی کے ذریعے انہیں  حاصل ہوا ہے۔( تفسیر کبیر ،  الطور ،  تحت الآیۃ: ۴۱ ،  ۱۰ / ۲۲۱ ،  مدارک ،  الطور ،  تحت الآیۃ: ۴۱ ،  ص۱۱۷۶ ،  ملتقطاً)

اَمْ یُرِیْدُوْنَ كَیْدًاؕ-فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا هُمُ الْمَكِیْدُوْنَؕ(۴۲) اَمْ لَهُمْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِؕ-سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ(۴۳)

ترجمۂ کنزالایمان: یا کسی داؤں  کے ارادہ میں  ہیں  تو کافروں  پر ہی داؤں  پڑنا ہے۔ یا اللہ کے سوا ان کا کوئی اور خدا ہے اللہ کو پاکی ان کے شرک سے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یا وہ کسی فریب کا ارادہ کر رہے ہیں  تو کافر خودہی (اپنے) فریب کا شکار ہونے والے ہیں ۔ یا اللہ کے سوا ان کا کوئی اور خدا ہے؟ اللہ ان کے شرک سے پاک ہے۔

{ اَمْ یُرِیْدُوْنَ كَیْدًا: یا وہ کسی فریب کا ارادہ کر رہے ہیں ۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، یہ مشرکین زبانی طور پر ہی آپ کی مخالفت نہیں  کرتے بلکہ وہ کسی فریب کا ارادہ کر رہے ہیں  اور دارُالنَّدْوَہ میں  جمع ہو کر اللہ تعالیٰ کے حبیب نبی، ہادیٔ برحق صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو نقصان پہنچانے اور قتل کرنے کے مشورے کررہے ہیں  تو کافر خود ہی اپنے فریب کا شکار ہونے والے ہیں  اور ان کی دھوکہ دہی اور فریب کا وبال اُنہیں  پرپڑے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا، اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو مشرکین کے فریب سے محفوظ رکھا اور بدر میں  مشرکین کو ہلاک کر دیا۔( روح البیان ،  الطور ،  تحت الآیۃ: ۴۲ ،  ۹ / ۲۰۴ ،  جلالین ،  الطور ،  تحت الآیۃ: ۴۲ ،  ص۴۳۷ ،  ملتقطاً)

{ اَمْ لَهُمْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ: یا اللہ کے سوا ان کا کوئی اور خدا ہے؟} یعنی کیا اللہ تعالیٰ کے علاوہ مشرکین کا کوئی اور خدا ہے جو انہیں  روزی دیتا ہو اور انہیں  اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکتا ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود ہی نہیں  ہے اوراللہ تعالیٰ ان کے شرک سے پاک ہے۔( خازن ،  الطور ،  تحت الآیۃ: ۴۳ ،  ۴ / ۱۸۹ ،  مدارک ،  الطور ،  تحت الآیۃ: ۴۳ ،  ص۱۱۷۶ ،  ملتقطاً)

وَ اِنْ یَّرَوْا كِسْفًا مِّنَ السَّمَآءِ سَاقِطًا یَّقُوْلُوْا سَحَابٌ مَّرْكُوْمٌ(۴۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اگر آسمان سے کوئی ٹکڑا گرتا دیکھیں  تو کہیں  گے تہ بہ تہ بادل ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر وہ آسمان سے کوئی ٹکڑا گرتاہوا دیکھیں  گے تو کہیں  گے کہ یہ تہہ درتہہ بادل ہے۔

{ وَ اِنْ یَّرَوْا كِسْفًا مِّنَ السَّمَآءِ سَاقِطًا: اور اگر وہ آسمان سے کوئی ٹکڑا گرتاہوا دیکھیں  گے۔} کفارِمکہ نے تاجدارِ رسالت سے مطالبہ کیا تھا کہ

’’ اَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا كِسَفًا‘‘(بنی اسرائیل:۹۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یا تم ہم پر آسمان ٹکڑے ٹکڑے کر کے گرا دو جیسا تم نے کہا ہے۔

            اللہ تعالیٰ ان کے ا س مطالبے کے جواب میں  فرماتا ہے کہ ان کا کفر اور عناد اس حد پر پہنچ گیا ہے کہ اگر ان پر ایسا ہی کیا جائے کہ آسمان کا کوئی ٹکڑا گرادیا جائے اور یہ لوگ آسمان سے اُسے گرتے ہوئے دیکھ بھی لیں  تو بھی اپنے کفر سے باز نہیں  آئیں  گے اور عناد کی وجہ سے یہی کہیں  گے کہ یہ تو تہہ در تہہ بادل ہے اور ہم اس سے سیراب ہوں  گے۔(خازن ،  الطور ،  تحت الآیۃ: ۴۴ ،  ۴ / ۱۸۹-۱۹۰)

            ا س کی نظیر یہ آیت ِمبارکہ ہے:

 



Total Pages: 250

Go To