Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

ساتھ انتظار کرنے والوں  میں  سے ہوں  کہ تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آئے ۔ چنانچہ یہ ہوا اور وہ کفار بدر میں  قتل اور قید کے عذاب میں  گرفتار کئے گئے۔( خازن ،  الطور ،  تحت الآیۃ: ۳۰-۳۱ ،  ۴ / ۱۸۸-۱۸۹ ،  ملخصاً)

تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر کفار کے اعتراضات اور اللہ تعالٰی کے جوابات:

            اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں  اور مقامات پر بھی سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر کافروں  کے ایسے فضول اعتراضات کو دفع کرتے ہوئے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مجنون، کاہن اور شاعر ہونے کی نفی فرمائی ہے، چنانچہ جنون کی نفی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ

’’ مَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْنٍ‘‘( قلم:۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں  ہو۔

            اور ارشاد فرمایا:

’’ وَ مَا صَاحِبُكُمْ بِمَجْنُوْنٍ‘‘( تکویر:۲۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور تمہارے صاحب مجنون نہیں ۔

             شاعر اور کاہن ہونے کی نفی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ

’’ اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍۚۙ(۴۰) وَّ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍؕ-قَلِیْلًا مَّا تُؤْمِنُوْنَۙ(۴۱) وَ لَا بِقَوْلِ كَاهِنٍؕ-قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ(۴۲) تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ‘‘(حاقہ:۴۰۔۴۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک یہ قرآن ایک کرم والے رسول سے باتیں  ہیں ۔ اور وہ کسی شاعر کی بات نہیں  ہے۔ تم بہت کم یقین رکھتے ہو۔ اور نہ کسی کاہن کی بات ہے۔ تم بہت کم نصیحت مانتے ہو۔ یہ قرآن سارے جہانوں  کے رب کی طرف سے ا تارا ہوا ہے۔

            اور ارشاد فرمایا ہے:

’’وَ مَا عَلَّمْنٰهُ الشِّعْرَ وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهٗؕ-اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ وَّ قُرْاٰنٌ مُّبِیْنٌ‘‘( یس:۶۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے نبی کو شعر کہنا نہ سکھایا اور نہ وہ ان کی شان کے لائق ہے وہ تو نہیں  مگر نصیحت اور روشن قرآن۔

اَمْ تَاْمُرُهُمْ اَحْلَامُهُمْ بِهٰذَاۤ اَمْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَۚ(۳۲)

ترجمۂ کنزالایمان: کیا اُن کی عقلیں  انھیں  یہی بتاتی ہیں  یا وہ سرکش لوگ ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیا ان کی عقلیں  انہیں  یہی حکم دیتی ہیں  ؟بلکہ وہ سرکش لوگ ہیں ۔

{ اَمْ تَاْمُرُهُمْ اَحْلَامُهُمْ بِهٰذَا: کیا ان کی عقلیں  انہیں  یہی حکم دیتی ہیں ۔} ارشاد فرمایا ’’کیا ان مشرکین کی عقلیں  انہیں  حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شان میں  شاعر،جادو گر، کاہن اور مجنون کہنے کا حکم دیتی ہیں ؟ ایسا کہنا بالکل عقل کے خلاف ہے اور ان کی سب سے عجیب بات تو یہ ہے کہ مجنون بھی کہتے ہیں  اور شاعر، جادوگر اور کاہن بھی اوراس کے ساتھ اپنے عقلمند ہونے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں  حالانکہ انہیں  اتنا بھی شعور نہیں  کہ کاہن، شاعر اور جادوگر بہرحال عقلمند ہوتے ہیں  جبکہ مجنون توبے عقل ہوتا ہے اور یہ اوصاف ایک شخص میں  جمع ہو ہی نہیں  سکتے ۔ آخر میں  ارشاد فرمایا کہ ان کی عقلیں  انہیں  ایساکرنے کا حکم نہیں  دیتیں  بلکہ وہ سرکش لوگ ہیں  کہ دشمنی اورعناد میں  اندھے ہورہے ہیں  اور کفرو سرکشی میں  حد سے گزر گئے ہیں ۔( خازن  ،  الطور  ،  تحت الآیۃ : ۳۲ ،  ۴ / ۱۸۹  ،  مدارک  ،  الطور ،  تحت الآیۃ: ۳۲ ،  ص۱۱۷۵ ،  جلالین مع صاوی ،  الطور ،  تحت الآیۃ: ۳۲ ،  ۵ / ۲۰۴۰ ،  ملتقطاً)

اَمْ یَقُوْلُوْنَ تَقَوَّلَهٗۚ-بَلْ لَّا یُؤْمِنُوْنَۚ(۳۳) فَلْیَاْتُوْا بِحَدِیْثٍ مِّثْلِهٖۤ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَؕ(۳۴)

ترجمۂ کنزالایمان: یا کہتے ہیں  اُنھوں  نے یہ قرآن بنالیابلکہ وہ ایمان نہیں  رکھتے۔تو اس جیسی ایک بات تو لے آئیں  اگر سچے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بلکہ وہ کہتے ہیں  کہ اس نبی نے یہ قرآن خود ہی بنالیا ہے بلکہ وہ ایمان نہیں  لاتے۔ اگریہ سچے ہیں  تو اس جیسی ایک بات تو لے آئیں ۔

{ اَمْ یَقُوْلُوْنَ تَقَوَّلَهٗ: بلکہ وہ کہتے ہیں  کہ اس نبی نے یہ قرآن خود ہی بنالیا ہے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کیا کفارِ مکہ یہ کہتے ہیں  کہ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے دِل سے یہ قرآن بنالیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا کہ ایسی بات نہیں  جیسی یہ گمان کر رہے ہیں  بلکہ حقیقت ِحال یہ ہے کہ کفار ایمان نہیں  لاتے اور ان اعتراضات کا باطل ہونا جاننے کے باوجوددشمنی اور نفس کی خباثت کی وجہ سے ایسے اعتراض کررہے ہیں  ۔اللہ تعالیٰ ان پر حجت قائم کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اگر ان کے خیال میں  قرآن جیسا کلام کوئی انسان بناسکتا ہے اور یہ اپنے دعوے میں  سچے ہیں  تو اس جیسی ایک بات تو بنا کر لے آئیں  جو حسن و خوبی اور فصاحت و بلاغت میں  اس کے مثل ہو۔(خازن ،  الطور ،  تحت الآیۃ: ۳۳-۳۴ ،  ۴ / ۱۸۹ ،  مدارک ،  الطور ،  تحت الآیۃ: ۳۳-۳۴ ،  ص۱۱۷۶ ،  ملتقطاً)

اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَیْرِ شَیْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَؕ(۳۵)

ترجمۂ کنزالایمان: کیا وہ کسی اصل سے نہ بنائے گئے یا وہی بنانے والے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیا وہ کسی شے کے بغیر ہی پیدا کردئیے گئے ہیں  یا وہ خود ہی (اپنے) خالق ہیں  ؟

{ اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَیْرِ شَیْءٍ: کیا وہ کسی شے کے بغیر ہی پیدا کردئیے گئے ہیں ۔} جب کفارِ مکہ نے سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو جھٹلایا اور انہیں  شاعر،کاہن اور مجنون کہنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ان چیزوں  سے بَری ہونا بیان فرمایا،اب اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی تکذیب کے باطل ہونے اور نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ



Total Pages: 250

Go To