Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

کو بھی وہ درجہ عطا فرمائے گااور ان والدین کے عمل کے ثواب میں  کچھ کمی نہ ہو گی بلکہ انہیں  ان کے اعمال کا پورا ثواب دیا جائے گااور اولاد کے درجے اپنے فضل و کرم سے بلند کئے جائیں  گے۔( خازن ،  الطور ،  تحت الآیۃ: ۲۱ ،  ۴ / ۱۸۷-۱۸۸ ،  ملخصاً)

جنت میں  اولاد کو ماں  باپ کا وسیلہ کام آئے گا:

            اس آیت سے ثابت ہوا کہ جنت میں  اولاد کو ان کے ماں  باپ کا وسیلہ کام آئے گا کہ ماں  باپ کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ اولاد کے درجات بلند فرما دے گا،اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  نیک لوگوں  کا وسیلہ مقبول ہے۔

{كُلُّ امْرِئٍۭ بِمَا كَسَبَ رَهِیْنٌ: ہر آدمی اپنے اعمال میں  گروی رکھا ہوا ہے۔} اس سے مراد یہ ہے کہ ہر کافر اپنے کفری عمل کی وجہ سے جہنم کے اندر (دائمی طورپر) ایسے قید ہے جیسے وہ چیز جسے رہن رکھا ہوا ہو جبکہ مومن اپنے عمل (کی وجہ سے دائمی طور پر جہنم) میں  گروی نہیں  رکھا ہو اکیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

’’ كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ رَهِیْنَةٌۙ(۳۸) اِلَّاۤ اَصْحٰبَ الْیَمِیْنِ‘‘( مدثر:۳۸ ،  ۳۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ہر جان اپنے کمائے ہوئے اعمال میں گروی رکھی ہے۔مگر دائیں  طرف والے۔ (خازن ،  الطور ،  تحت الآیۃ: ۲۱ ،  ۴ / ۱۸۸)

وَ اَمْدَدْنٰهُمْ بِفَاكِهَةٍ وَّ لَحْمٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَ(۲۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے ان کی مدد فرمائی میوے اور گوشت سے جو چاہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور پھلوں ، میووں  اور گوشت جو وہ چاہیں  گے ان کے ساتھ ہم نے ان کی مدد کی۔

{ وَ اَمْدَدْنٰهُمْ: ہم ان کی مدد کرتے رہیں  گے۔} اس آیت سے اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں  کا ذکر فرمایا جن کا اہلِ ایمان سے وعدہ فرمایا ہے،چنانچہ ارشاد فرمایا کہ جنت میں پھل، میوے اور گوشت جو وہ چاہیں  گے وہ مُہَیّا کر کے ہم ان کی مدد کرتے رہیں  گے۔اس سے مراد یہ ہے کہ اہلِ جنت پر اللہ تعالیٰ کا احسان یہ ہو گا کہ ان کی نعمتیں  دم بدم بڑھتی ہی جائیں گی کبھی کم نہ ہوں  گی۔

یَتَنَازَعُوْنَ فِیْهَا كَاْسًا لَّا لَغْوٌ فِیْهَا وَ لَا تَاْثِیْمٌ(۲۳)

ترجمۂ کنزالایمان: ایک دوسرے سے لیتے ہیں  وہ جام جس میں  نہ بے ہودگی اورنہ گنہگاری ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جنتی لوگ جنت میں  ایسے جام ایک دوسرے سے لیں  گے جس میں  نہ کوئی بیہودگی ہوگی اورنہ گناہ کی کوئی بات۔

{ یَتَنَازَعُوْنَ فِیْهَا كَاْسًا: جنتی لوگ جنت میں  شراب کے جام ایک دوسرے سے لیں  گے۔} یعنی جنتی لوگ جنت میں  شراب کے ایسے لذیذ اور پاکیزہ جام ایک دوسرے سے ہنسی خوشی لیں  گے جس میں  نہ کوئی بیہودگی ہوگی اور نہ گناہ کی کوئی بات جیسا کہ دنیا کی شراب میں  طرح طرح کی خرابیاں  تھیں  کیونکہ جنت کی شراب پینے سے نہ عقل زائل ہوتی ہے، نہ عادتیں  خراب ہوتی ہیں  نہ پینے والا بے ہودہ بکتا ہے اور نہ گنہگار ہوتا ہے۔( خازن ،  الطور ،  تحت الآیۃ: ۲۳ ،  ۴ / ۱۸۸ ،  ملخصاً)

وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ غِلْمَانٌ لَّهُمْ كَاَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَّكْنُوْنٌ(۲۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ان کے خدمت گار لڑکے ان کے گرد پھریں  گے گویا وہ موتی ہیں  چھپا کر رکھے گئے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ان کے خدمت گار لڑکے ان کے گرد پھریں  گے گویا وہ چھپاکر رکھے ہوئے موتی ہیں ۔

{ وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ غِلْمَانٌ لَّهُمْ: اور ان کے خدمت گار لڑکے ان کے گرد پھریں  گے۔} ارشاد فرمایا کہ اہلِ جنت کے خدمتگار لڑکے ان کی خدمت کے لئے ان کے ارد گرد پھریں  گے اور ان کے حسن ، صفائی اورپاکیزگی کا یہ عالَم ہو گا کہ گویا وہ چھپاکر رکھے ہوئے ایسے موتی ہیں  جنہیں  کوئی ہاتھ ہی نہیں  لگا ۔حضرت عبداللہ بن عمرو رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں  کہ کسی جنتی کے پاس خدمت میں  دوڑنے والے غلام ہزار سے کم نہ ہوں  گے اور ہر غلام جُدا جُدا خدمت پر مُقَرّر ہوگا۔( خازن ،  الطور ،  تحت الآیۃ: ۲۴ ،  ۴ / ۱۸۸)اس آیت سے معلوم ہو اکہ ہر جنتی کو جنت میں  خدمتگار ملیں  گے چاہے اس کا مرتبہ اعلیٰ ہو یا نہ ہو۔

وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ(۲۵)قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِیْۤ اَهْلِنَا مُشْفِقِیْنَ(۲۶)فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ وَقٰىنَا عَذَابَ السَّمُوْمِ(۲۷)اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوْهُؕ-اِنَّهٗ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِیْمُ۠(۲۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اُن میں  ایک نے دوسرے کی طرف منہ کیا پوچھتے ہوئے۔بولے بے شک ہم اس سے پہلے اپنے گھروں  میں  سہمے ہوئے تھے۔تو اللہ نے ہم پر احسان کیا اور ہمیں  لُو کے عذاب سے بچالیا۔ بے شک ہم نے اپنی پہلی زندگی میں  اس کی عبادت کی تھی بے شک وہی احسان فرمانے والا مہربان ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اورآپس میں  سوال کرتے ہوئے ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں  گے۔ کہیں  گے: بیشک ہم اس سے پہلے اپنے گھر والوں  میں  ڈرنے والے تھے۔ تو اللہ نے ہم پر احسان کیا اور ہمیں  (جہنم کی) سخت گرم ہوا کے عذاب سے بچالیا۔ بیشک ہم اس سے پہلے (دنیا میں ) اللہ کی عبادت کرتے تھے، بیشک وہی احسان فرمانے والا مہربان ہے۔

{ وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ: اورآپس میں  ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں  گے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی تین آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ جنت میں  جنتی ایک دوسرے سے دریافت کریں  گے کہ وہ دنیامیں  کس حال میں  تھے اور کیا عمل کرتے تھے اور کس بنا پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان نعمتوں  سے سرفراز ہوئے، یہ دریافت کرنا اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اعتراف کرنے کیلئے ہوگا،چنانچہ وہ کہیں  گے کہ بیشک ہم جنت میں  داخل ہونے سے پہلے اپنے گھروں  میں  اللہ تعالیٰ کے خو ف سے اور اس اندیشہ سے سہمے ہوئے تھے کہ نفس و شیطان ایمان میں  خَلَل کا باعث نہ ہوجائیں  اور نیکیوں  کو روک لئے جانے اور بَدیوں  پر گرفت کئے جانے کا بھی اندیشہ تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ہم پر رحمت اور مغفرت فرما کر احسان کیا اور ہمیں جہنم کی سخت گرم



Total Pages: 250

Go To