Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

ترجمۂ کنزالایمان: جس دن آسمان ہلنا سا ہلنا ہلیں  گے۔ اور پہاڑ چلنا سا چلنا چلیں  گے۔ تو اس دن جھٹلانے والوں  کی خرابی ہے۔ وہ جو مشغلہ میں  کھیل رہے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جس دن آسمان سختی سے ہلے گا۔ اور پہاڑ تیزی سے چلیں  گے۔ تو اس دن جھٹلانے والوں  کی خرابی ہے۔ وہ جو شغل میں  پڑے کھیل رہے ہیں ۔

{ یَوْمَ تَمُوْرُ السَّمَآءُ مَوْرًا: جس دن آسمان سختی سے ہلے گا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عذاب نازل ہونے کا وقت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ وہ عذاب ا س دن ضرور واقع ہو گا جس دن آسمان چکی کی طرح گھومیں  گے اور اس طرح ڈولنے لگیں  گے جس طرح کشتی اپنے سواروں  کے ساتھ ڈولتی ہے اور ایسی حرکت میں  آئیں  گے کہ اُن کے اَجزاء بکھر جائیں  گے اور پہاڑ تیزی سے ایسے چلیں  گے جیسے کہ غبار ہوا میں  اُڑتا ہے اور یہ قیامت کے دن ہوگا۔( خازن ،  الطور ،  تحت الآیۃ: ۹-۱۰ ،  ۴ / ۱۸۶-۱۸۷ ،  جلالین ،  الطور ،  تحت الآیۃ: ۹-۱۰ ،  ص۴۳۵ ،  ملتقطاً)

{ فَوَیْلٌ یَّوْمَىٕذٍ:تو اس دن خرابی ہے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جس دن وہ عذاب واقع ہو گا تو اس دن ان لوگوں  کے لئے خرابی ہے جو دنیا میں  اللہ تعالیٰ کے رسولوں  کو جھٹلاتے رہے اور وہ اپنے کفر و باطل کے شغل میں  پڑے کھیلتے رہے۔( ابو سعود ،  الطور ،  تحت الآیۃ: ۱۱-۱۲ ،  ۵ / ۶۳۶ ،  جلالین ،  الطور ،  تحت الآیۃ: ۱۱-۱۲ ،  ص۴۳۵ ،  ملتقطاً)

یَوْمَ یُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّاؕ(۱۳) هٰذِهِ النَّارُ الَّتِیْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ(۱۴)اَفَسِحْرٌ هٰذَاۤ اَمْ اَنْتُمْ لَا تُبْصِرُوْنَۚ(۱۵) اِصْلَوْهَا فَاصْبِرُوْۤا اَوْ لَا تَصْبِرُوْاۚ-سَوَآءٌ عَلَیْكُمْؕ-اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(۱۶)

ترجمۂ کنزالایمان: جس دن جہنم کی طرف دھکا دے کر دھکیلے جائیں  گے۔یہ ہے وہ آگ جسے تم جھٹلاتے تھے۔تو کیا یہ جادو ہے یا تمہیں  سوجھتا نہیں ۔ اس میں  جاؤ اب چاہے صبر کرو یا نہ کرو سب تم پر ایک سا ہے تمہیں  اسی کا بدلہ جو تم کرتے تھے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جس دن انہیں  جہنم کی طرف سختی سے دھکیلا جائے گا ۔  یہ وہ آگ ہے جسے تم جھٹلاتے تھے۔ تو کیا یہ جادو ہے یا تمہیں  دکھائی نہیں  دے رہا ۔ اس میں  داخل ہوجاؤ،تو اب چاہے صبر کرو یا نہ کرو، سب تم پربرابر ہے، تمہیں  اسی کا بدلہ دیا جارہا ہے جو تم کرتے تھے۔

{ یَوْمَ یُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا: جس دن انہیں  جہنم کی طرف سختی سے دھکیلا جائے گا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی تین آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں  کو جھٹلانے والے جس دن جہنم کی طرف دھکا دے کر دھکیلے جائیں  گے اورجہنم کے خازن کافروں  کے ہاتھ گردنوں ، پاؤں  اورپیشانیوں  سے ملا کر باندھیں  گے اور انہیں  منہ کے بل جہنم میں  دھکیل دیں  گے (تو اس دن ان کے لئے خرابی ہے) اور جب وہ آگ میں  پہنچ جائیں  گے تو جہنم کے خازن ان سے کہیں  گے :یہ وہ آگ ہے جسے تم دنیا میں  جھٹلاتے تھے تو کیا یہ جادوہے یا تمہیں  دکھائی نہیں  دے رہا۔ یہ اُن سے اس لئے کہا جائے گا کہ وہ دنیا میں  سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی طرف جادوکی نسبت کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہماری نظر بندی کردی ہے۔اور ان سے کہا جائے گا اس جہنم میں  داخل ہوجاؤ،تو اب چاہے اس عذاب پر صبر کرو یا نہ کرو، سب تم پربرابر ہے،نہ کہیں  بھاگ سکتے ہو اور نہ عذاب سے بچ سکتے ہو اور یہ عذاب تمہیں  اسی کا بدلہ دیا جارہا ہے جو تم دنیا میں  کفر و تکذیب کرتے تھے۔( خازن ،  الطور ،  تحت الآیۃ: ۱۳-۱۶ ،  ۴ / ۱۸۷ ،  ملخصاً)

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ نَعِیْمٍۙ(۱۷) فٰكِهِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْۚ-وَ وَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ(۱۸)كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓــٴًـۢا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۙ(۱۹) مُتَّكِـٕیْنَ عَلٰى سُرُرٍ مَّصْفُوْفَةٍۚ-وَ زَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍ(۲۰)

ترجمۂ کنزالایمان: بے شک پرہیزگار باغوں  اور چین میں  ہیں ۔ اپنے رب کی دَین پر شاد شاد اور اُنہیں  ان کے رب نے آگ کے عذاب سے بچالیا۔کھاؤ اور پیو خوشگواری سے صلہ اپنے اعمال کا۔ تختوں  پر تکیہ لگائے جو قطار لگا کر بچھے ہیں  اور ہم نے اُنھیں  بیاہ دیا بڑی آنکھوں  والی حوروں  سے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک پرہیزگار باغوں  اور نعمتوں میں  ہوں  گے ۔ اپنے رب کی عطاؤں  پر خوش ہورہے ہوں  گے اور انہیں  ان کے رب نے آگ کے عذاب سے بچالیا۔  اپنے اعمال کے بدلے میں  خوشگوار نعمتیں  کھاؤ اور پیو۔ وہ قطار در قطار بچھے ہوئے تختوں  پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں  گے اور ہم نے بڑی آنکھوں  والی حوروں  سے ان کا نکاح کردیا۔

{ اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ: بیشک پرہیزگار۔} کفار کا انجام بیان کرنے کے بعد اب اہلِ ایمان کی جزا بیان فرمائی جا رہی ہے۔ چنانچہ اس آیت اور اس کے بعد والی تین آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ بیشک کفر اور گناہوں  سے بچنے والے آخرت میں  باغوں  اور نعمتوں میں  ہوں  گے اور اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی عطا کردہ نعمتوں  ،کرامتوں  اور ا س بات پر خوش ہو رہے ہوں  گے کہ انہیں  ان کے رب عَزَّوَجَلَّ نے جہنم کے عذاب سے بچالیا اور اُن سے کہا جائے گا کہ اپنے ان اعمال کے بدلے میں  جنت کی خوشگوار نعمتیں  کھاؤ اور پیو جو تم نے دنیا میں  کئے کہ ایمان لائے اوراللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت اختیار کی ،وہ جنت کی نعمتیں  کھانے کے وقت قطار در قطار بچھے ہوئے تختوں  پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں  گے اور ہم نے بڑی آنکھوں  والی حسین حوروں  کو ان کی بیویاں  بنا دیا۔( خازن ،  الطور ،  تحت الآیۃ: ۱۷-۲۰ ،  ۴ / ۱۸۷ ،  روح البیان ،  الطور ،  تحت الآیۃ: ۱۷-۲۰ ،  ۹ / ۱۹۰-۱۹۱ ،  ملتقطاً)

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّیَّتُهُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ مَاۤ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَیْءٍؕ-كُلُّ امْرِئٍۭ بِمَا كَسَبَ رَهِیْنٌ(۲۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جو ایمان لائے اور ان کی اولاد نے ایمان کے ساتھ ان کی پیروی کی ہم نے ان کی اولاد ان سے ملادی اور اُن کے عمل میں  انھیں  کچھ کمی نہ دی سب آدمی اپنے کئے میں  گرفتار ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی (جس) اولاد نے ایمان کے ساتھ ان کی پیروی کی توہم نے ان کی اولاد کو ان کے ساتھ ملا دیا اور اُن (والدین) کے عمل میں  کچھ کمی نہ کی، ہر آدمی اپنے اعمال میں  گِروی ہے۔

{ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا: اور جو لوگ ایمان لائے۔} ارشاد فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور ان کی جس اولاد نے ایمان کے ساتھ ان کی پیروی کی توہم ان کی اس اولاد کو اپنے فضل و کرم سے جنت میں  ان کے ساتھ ملادیں  گے کہ اگرچہ باپ دادا کے درجے بلند ہوں  تو بھی ان کی خوشی کے لئے اُن کی اولاد اُن کے ساتھ ملادی جائے گی اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے اس اولاد



Total Pages: 250

Go To