Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

پیش کرنے کے لئے اور شایدیہ ڈریں ۔

وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ(۵۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور میں  نے جِنّ اور آدمی اتنے ہی لئے بنائے کہ میری بندگی کریں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور میں  نے جن اور آدمی اسی لئے بنائے کہ میری عبادت کریں ۔

{ وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ: اور میں  نے جن اور آدمی اسی لئے بنائے کہ میری عبادت کریں ۔} ارشاد فرمایا کہ میں  نے جنوں  اور انسانوں  کو صرف دنیا طلب کرنے اور ا س طلب میں  مُنہَمِک ہونے کے لئے پیدا نہیں  کیا بلکہ انہیں  اس لئے بنایا ہے تاکہ وہ میری عبادت کریں اور انہیں  میری معرفت حاصل ہو ۔( صاوی ،  الذاریات ،  تحت الآیۃ: ۵۶ ،  ۵ / ۲۰۲۶ ،  خازن ،  الذّٰریٰت ،  تحت الآیۃ: ۵۶ ،  ۴ / ۱۸۵)

جنوں  اور انسانوں  کی پیدائش کا اصل مقصد:

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ انسانوں  اور جنوں  کو بیکار پیدا نہیں  کیا گیا بلکہ ان کی پیدائش کا اصل مقصد یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں ۔ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’ اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ‘‘(مومنون:۱۱۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں  بیکار بنایا اور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں  جاؤ گے؟

            اور ارشاد فرمایا:

’’تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ٘- وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ(ﰳ۱) الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاؕ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُ‘‘( ملک:۱ ، ۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بڑی برکت والا ہے وہ جس کے قبضے میں  ساری بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں  کون اچھے عمل کرنے والا ہے اور وہی عزت والا، بخشش والا ہے۔

            اورحضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:اے انسان!تو میری عبادت کے لئے فارغ ہو جا میں  تیرا سینہ غنا سے بھر دوں  گا اور تیری محتاجی کا دروازہ بند کر دوں  گا اور اگر تو ایسانہیں  کرے گا تو میں  تیرے دونوں  ہاتھ مصروفیات سے بھر دوں  گا اور تیری محتاجی کا دروازہ بند نہیں  کروں  گا۔( ترمذی ،  کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع ،  ۳۰-باب ،   ۴ / ۲۱۱ ،  الحدیث: ۲۴۷۴)

            اللہ تعالیٰ ہمیں  اپنی پیدائش کے مقصد کو سمجھنے اور ا س مقصد کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔

مَاۤ اُرِیْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِمُوْنِ(۵۷)اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِیْنُ(۵۸)

ترجمۂ کنزالایمان: میں  اُن سے کچھ رزق نہیں  مانگتا اور نہ یہ چاہتا ہوں  کہ وہ مجھے کھانا دیں ۔ بے شک اللہ ہی بڑا رزق دینے والا قوت والا قدرت والا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: میں  ان سے کچھ رزق نہیں  مانگتا اور نہ یہ چاہتا ہوں  کہ وہ مجھے کھانا دیں ۔ بیشک اللہ ہی بڑا رزق دینے والا، قوت والا، قدرت والا ہے۔

{ مَاۤ اُرِیْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ: میں  ان سے کچھ رزق نہیں  مانگتا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں  کے ساتھ عادت ِکریمہ ایسی نہیں  ہے جیسی بندوں  کی اپنے غلاموں  اور نوکروں  کے ساتھ ہے کیونکہ بندے اپنے پاس غلام اور نوکر اس لئے رکھتے ہیں  تاکہ وہ معاشی معاملات میں  ان کی مدد کریں  جبکہ اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ رزق یا کسی بھی معاملے میں  بندوں  کا      محتاج نہیں  بلکہ ہر ایک کو رزق دینے والا اللہ تعالیٰ ہے اور سب کی روزی کا کفیل بھی وہی ہے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ بندوں  سے یہ چاہتا ہے کہ وہ اس کی مخلوق کے لئے کھانا دیں ۔بیشک اللہ تعالیٰ ہی بڑارزق دینے والا ہے، وہی ہر کسی کو رزق دیتا ہے، وہ قوت والا ہے اسی لئے مخلوق تک رزق پہنچانے میں  اسےکسی کی مدد کی ضرورت نہیں  اور رِزق پیدا کرنے پرقدرت رکھنے والا ہے ،سب کو وہی دیتا اور سب کو وہی پالتا ہے۔( جلالین مع صاوی  ،  الذاریات  ،  تحت الآیۃ : ۵۷ - ۵۸  ،  ۵ / ۲۰۲۶-۲۰۲۷  ،  خازن  ،  الذّٰریٰت ،  تحت الآیۃ: ۵۷-۵۸ ،  ۴ / ۱۸۵-۱۸۶ ،  روح البیان ،  الذاریات ،  تحت الآیۃ: ۵۷-۵۸ ،  ۹ / ۱۸۰-۱۸۱ ،  ملتقطاً)

فَاِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذَنُوْبًا مِّثْلَ ذَنُوْبِ اَصْحٰبِهِمْ فَلَا یَسْتَعْجِلُوْنِ(۵۹)فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ یَّوْمِهِمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ۠(۶۰)

ترجمۂ کنزالایمان: تو بیشک ان ظالموں  کے لیے عذاب کی ایک باری ہے جیسے ان کے ساتھ والوں  کے لیے ایک باری تھی تو مجھ سے جلدی نہ کریں ۔ تو کافروں  کی خرابی ہے ان کے اس دن سے جس کا وعدہ دیئے جاتے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو بیشک ان ظالموں  کے لیے عذاب کا ایک حصہ ہے جیسے ان کے ساتھیوں  کے عذاب کا حصہ تھا تو یہ مجھ سے (عذاب مانگنے میں ) جلدی نہ کریں ۔ تو کافروں  کیلئے ان کے اس دن سے خرابی ہے جس کی انہیں  وعید سنائی جاتی ہے۔

{ فَاِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا: تو بیشک ان ظالموں  کے لیے۔} ارشاد فرمایا کہ بے شک ان ظالموں  کے لیے جنہوں نے رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو جھٹلا کر اپنی جانوں  پر ظلم کیا ایسے ہی عذاب کا ایک حصہ ہے جیسے سابقہ امتوں  کے کفار کا عذاب اورہلاکت میں  حصہ تھا جو کہ انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلانے میں  اِن کے ساتھی تھے،لہٰذا اگر میں  نے ان سے قیامت تک کے لئے عذاب مُؤخَّر کر دیا ہے تو انہیں  چاہئے کہ مجھ سے عذاب نازل کرنے کی جلدی نہ کریں ۔( جلالین ،  الذّٰریٰت ،  تحت الآیۃ: ۵۹ ،  ص۴۳۴-۴۳۵ ،  خازن ،  الذّٰریٰت ،  تحت الآیۃ: ۵۹ ،  ۴ / ۱۸۶ ،  ملتقطاً)


 



Total Pages: 250

Go To