Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

اور تری ، گرمی اور سردی ، جن اور انسان، روشنی اورتاریکی ، ایمان اورکفر ،سعادت اوربدبختی ، حق اور باطل اور نر و مادہ وغیرہ اوریہ قسمیں  اس لئے بنائیں  تاکہ تم ان میں  غور کرکے یہ بات سمجھ سکو کہ ان تمام قسموں  کو پیدا کرنے والی ذات واحد ہے، نہ اس کی نظیر ہے ،نہ اس کاشریک ہے،نہ اس کا کوئی مد ِ مقابل ہے اورنہ اس کا کوئی مثل ہے ،لہٰذا صرف وہی عبادت کا مستحق ہے۔( خازن ،  الذّٰریٰت ،  تحت الآیۃ: ۴۹ ،  ۴ / ۱۸۴-۱۸۵ ،  مدارک ،  الذّٰریٰت ،  تحت الآیۃ: ۴۹ ،  ص۱۱۷۱ ،  ملتقطاً)

            فی زمانہ سائنس کی تحقیق سے یہ پتہ لگ چکا ہے کہ درخت اور پتھروں  میں  بھی نر اور مادہ دو قسمیں  ہیں ،جب نر درخت سے ہوا لگ کر مادہ درخت سے چھوتی ہے تو پھل زیادہ آتا ہے اگرچہ نر درخت دور ہو، ان چیزوں  کی بھی نسل ہے مگر نسل کا طریقہ جدا گانہ ہے۔

فَفِرُّوْۤا اِلَى اللّٰهِؕ-اِنِّیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ(۵۰) وَ لَا تَجْعَلُوْا مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَؕ-اِنِّیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ(۵۱)

ترجمۂ کنزالایمان: تو اللہ کی طرف بھاگو بے شک میں  اس کی طرف سے تمہارے لیے صریح ڈر سنانے والا ہوں ۔ اور اللہ کے ساتھ اَور معبود نہ ٹھہراؤ، بے شک میں  اس کی طرف سے تمہارے لیے صریح ڈر سنانے والا ہوں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اللہ کی طرف بھاگو بیشک میں  اس کی طرف سے تمہارے لئے کھلم کھلاڈر سنانے والا ہوں ۔ اور اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ ٹھہراؤ بیشک میں  اس کی طرف سے تمہارے لیے کھلم کھلا ڈر سنانے والا ہوں ۔

{ فَفِرُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ: اور اللہ کی طرف بھاگو۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ فرما دیں  کہ جب عبادت کا مستحق اللہ تعالیٰ ہی ہے تو اے لوگو! تم کفر سے ایمان کی طرف، اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے اطاعت کی طرف ،اپنے گناہوں  سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  توبہ کی طرف دوڑتے ہوئے آؤ اور اس کے علاوہ سب کو چھوڑ کر صرف اسی کی عبادت کرو تاکہ تم اس کے عذاب سے نجات پا جاؤا ور اس کی طرف سے ثواب حاصل کر کے کامیاب ہو جاؤ،بیشک میں  تمہیں  اللہ تعالیٰ کی طرف سے کفر اور نافرمانی پر اس کے عذاب سے کھلم کھلاڈر سنانے والا ہوں ۔( خازن ،  الذّٰریٰت ،  تحت الآیۃ: ۵۰-۵۱ ،  ۴ / ۱۸۵ ،  قرطبی ،  الذاریات ،  تحت الآیۃ: ۵۰-۵۱ ،  ۹ / ۴۱ ،  الجزء السابع عشر ،  ابو سعود ،  الذّٰریٰت ،  تحت الآیۃ: ۵۰-۵۱ ،  ۵ / ۶۳۲-۶۳۳ ،  ملتقطاً)

كَذٰلِكَ مَاۤ اَتَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌۚ(۵۲) اَتَوَاصَوْا بِهٖۚ-بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَۚ(۵۳)

ترجمۂ کنزالایمان: یونہی جب ان سے اگلوں  کے پاس کوئی رسول تشریف لایا تو یہی بولے کہ جادوگر ہے یا دیوانہ۔ کیا آپس میں  ایک دوسرے کو یہ بات کہہ مرے ہیں  بلکہ وہ سرکش لوگ ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یونہی جب ان سے پہلے لوگوں  کے پاس کوئی رسول تشریف لایا تو وہ یہی بولے کہ (یہ) جادوگر ہے یا دیوانہ۔ کیاانہوں  نے ایک دوسرے کو اس بات کی وصیت کی تھی بلکہ وہ سرکش لوگ ہیں ۔

{ كَذٰلِكَ: یونہی۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، جیسے آپ کی قوم کے کفار نے آپ کو جھٹلایا اور آپ کی شان میں  گستاخی کرتے ہوئے آپ کو جادو گر اور مجنون کہا ایسے ہی جب کفارِ مکہ سے پہلے لوگوں  کے پاس میری طرف سے کوئی رسول تشریف لایا اور اس نے اپنی قوم کو مجھ پر ایمان لانے اور میری اطاعت کرنے کی دعوت دی تو ان کے بارے میں  بھی کفار نے یہی کہاکہ یہ جادوگر یا دیوانہ ہے۔ سابقہ کفار نے اپنے بعد والوں  کو یہ وصیت تو نہیں  کی کہ تم انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تکذیب کرتے رہنا اور ان کی شان میں  اس طرح کی باتیں  بنانا لیکن چونکہ سرکشی اورنافرمانی کی عِلّت دونوں  میں  ہے اس لئے یہ گمراہی میں  ایک دوسرے کے موافق رہے اورا سی چیز نے انہیں  ا س طرح کی باتیں  کرنے پر ابھارا لہٰذا آپ اپنی قوم کے جھٹلانے اور اس طرح کی باتیں  کرنے سے غمزدہ نہ ہوں ۔( خازن ،  الذّٰریٰت ،  تحت الآیۃ: ۵۲-۵۳ ،  ۴ / ۱۸۵ ،  روح البیان ،  الذاریات ،  تحت الآیۃ: ۵۲-۵۳ ،  ۹ / ۱۷۴ ،  ملتقطاً)

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَاۤ اَنْتَ بِمَلُوْمٍ(۵۴) ﱭ وَّ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ(۵۵)

ترجمۂ کنزالایمان: تو اے محبوب تم اُن سے منہ پھیر لوتو تم پر کچھ الزام نہیں ۔ اور سمجھاؤ کہ سمجھانا مسلمانوں  کو فائدہ دیتا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اے حبیب!تم ان سے منہ پھیر لو تو تم پر کوئی ملامت نہیں ۔ اور سمجھاؤ کہ سمجھانا ایمان والوں  کو فائدہ دیتا ہے۔

{ فَتَوَلَّ عَنْهُمْ: تو اے محبوب!تم ان سے منہ پھیرلو۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان کفار سے منہ پھیر لیں  کیونکہ آپ رسالت کی تبلیغ فرماچکے اور اسلام کی دعوت اورہدایت دینے میں  انتہائی محنت کرچکے اور آپ نے اپنی کوشش میں  معمولی سی بات بھی نہ چھوڑی توان کے ایمان نہ لانے سے آپ پر کوئی ملامت نہیں ۔

نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے کے دو فوائد:

             آیت نمبر55 سے معلوم ہوا کہ نیک کاموں  کی ترغیب دیتے اور برے کاموں  سے منع کرتے رہنا چاہئے، اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ جسے سمجھایا جائے اس کے بارے میں  امید ہوتی ہے کہ وہ برے کام چھوڑ کر نیک کام کرنے لگے گا اور دوسرا فائدہ یہ ہے کہ نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے کی ذمہ داری پوری ہو جاتی ہے۔ سمجھانے اور نصیحت کرنے کے ان فوائد کو قرآنِ پاک میں  ایک اور مقام پر اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ

’’وَ اِذْ قَالَتْ اُمَّةٌ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَاۙﰳ اللّٰهُ مُهْلِكُهُمْ اَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًاؕ-قَالُوْا مَعْذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ‘‘(اعراف:۱۶۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب ان میں  سے ایک گروہ نے کہا: تم ان لوگوں  کو کیوں  نصیحت کرتے ہو جنہیں  اللہ     ہلاک کرنے والا ہے یا انہیں  سخت عذاب دینے والاہے؟انہوں  نے کہا: تمہارے رب کے حضورعذر



Total Pages: 250

Go To