Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

پارہ نمبر…27

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ(۳۱)قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَۙ(۳۲) لِنُرْسِلَ عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ طِیْنٍۙ(۳۳) مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُسْرِفِیْنَ(۳۴)

ترجمۂ کنزالایمان: ابراہیم نے فرمایا تو اے فرشتوتم کس کام سے آئے ۔ بولے ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ کہ اُن پر گارے کے بنائے ہوئے پتھر چھوڑیں ۔ جو تمہارے رب کے پاس حد سے بڑھنے والوں  کے لیے نشان کئے رکھےہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ابراہیم نے فرمایا: تو اے بھیجے ہوئے فرشتو!پھر تمہارا کیا مقصد ہے؟انہوں  نے کہا:بیشک ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں ۔ تاکہ ان پر گارے کے پتھر برسائیں ۔ جن پر تمہارے رب کے پاس حد سے بڑھنے والوں  کے لیے نشان لگائے ہوئے ہیں ۔

{قَالَ: ابراہیم نے فرمایا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی تین آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جان گئے کہ آنے والے مہمان فرشتے ہیں  تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ا ن سے فرمایا: اے فرشتو! کیا تم صرف بیٹے کی بشارت دینے آئے ہو یا اس کے علاوہ تمہارا اور بھی کوئی کام ہے؟ فرشتوں  نے جواب دیا کہ ہم حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں  تاکہ(ان کی بستیوں  کو الٹ پلٹ کرنے کے بعد) ان پر گارے کے بنائے ہوئے پتھر چھوڑیں  جن پر آپ کے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے حد سے بڑھنے والوں  کے لیے نشان لگائے ہوئے ہیں ۔ مفسرین فرماتے ہیں  کہ ان پتھروں  پر ایسے نشان تھے جن سے معلوم ہوتا تھا کہ یہ دنیا کے پتھروں  میں  سے نہیں  ہیں  اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ ہر ایک پتھر پر اس شخص کا نام لکھا ہوا تھا جو اس پتھرسے ہلاک کیاجانے والا تھا۔( خازن ،  الذّٰریٰت ،  تحت الآیۃ: ۳۱-۳۴ ،  ۴ / ۱۸۳ ،  مدارک ،  الذّٰریٰت ،  تحت الآیۃ: ۳۱-۳۴ ،  ص۱۱۷۰ ،  ملتقطاً)

فَاَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِیْهَا مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ(۳۵) فَمَا وَجَدْنَا فِیْهَا غَیْرَ بَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَۚ(۳۶)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہم نے اس شہر میں  جو ایمان والے تھے نکال لیے۔ تو ہم نے وہاں  ایک ہی گھر مسلمان پایا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو ہم نے اس شہر میں  موجود ایمان والوں  کو نکال لیا۔ تو ہم نے وہاں  ایک ہی گھر مسلمان پایا۔

{ فَاَخْرَجْنَا: تو ہم نے نکال لیا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب اس شہر پر عذاب آیا جس میں  حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے لوگ آباد تھے تو پہلے حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان پر ایمان لانے والے حضرات کو اللہ تعالیٰ نے نکال لیا اور اس شہر میں  ایک ہی گھر کے لوگ مسلمان تھے۔ایک قول یہ ہے کہ وہ حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور آپ کی دونوں  صاحب زادیاں  تھیں  اور ایک قول یہ ہے کہ حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کے اہلِ بیت میں  سے جن لوگوں  نے نجات پائی ان کی تعداد 13 تھی۔( خازن ،  الذّٰریٰت ،  تحت الآیۃ: ۳۵-۳۶ ،  ۴ / ۱۸۴ ،  ابو سعود ،  الذّٰریٰت ،  تحت الآیۃ: ۳۵-۳۶ ،  ۵ / ۶۳۱ ،  ملتقطاً)

وَ تَرَكْنَا فِیْهَاۤ اٰیَةً لِّلَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ الْعَذَابَ الْاَلِیْمَؕ(۳۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے اس میں  نشانی باقی رکھی ان کے لیے جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے اس میں  ان لوگوں کے لیے نشانی باقی رکھی جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں ۔

{ وَ تَرَكْنَا فِیْهَاۤ اٰیَةً: اور ہم نے اس میں  نشانی باقی رکھی۔} یعنی ہم نے حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے اس شہر میں  کافروں  کو ہلاک کرنے کے بعد ان کی تباہی اور بربادی کی نشانی ان لوگوں کے لیے باقی رکھی جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں  تاکہ وہ اس سے عبرت حاصل کریں  اور ان لوگوں  جیسے افعال کرنے سے باز رہیں  اور وہ نشانی ان کے اُجڑے ہوئے شہر تھے ،یا وہ پتھر تھے جن سے وہ ہلاک کئے گئے ،یا وہ کالا بدبو دار پانی تھا جو اس سرزمین سے نکلا تھا۔( ابو سعود ،  الذّٰریٰت ،  تحت الآیۃ: ۳۷ ،  ۵ / ۶۳۱ ،  جلالین ،  الذّٰریٰت ،  تحت الآیۃ: ۳۷ ،  ص۴۳۳ ،  ملتقطاً)

لواطَت کرنے اور ا س کی ترغیب دینے والوں  کے لئے نشانِ عبرت:

            حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم جس جرم کی بنا پر تباہ و بربادکر دی گئی اور دنیا میں انہیں  عبرت کا نشان بنا دیا گیا وہ مَردوں  کا آپس میں  اور لڑکوں  کے ساتھ بد فعلی کرنا تھا،ان کے دردنا ک انجام کو سامنے رکھتے ہوئے ان لوگوں  کو نصیحت حاصل کرنی چاہئے جو فی زمانہ مَردوں  کے ساتھ ہم جنس پرستی کرنے اوراس کی ترغیب دینے کے لئے باقاعدہ تقریبات منعقد کرنے اور اسے قانونی جواز مُہَیّا کرنے میں  مصروف ہیں ۔

وَ فِیْ مُوْسٰۤى اِذْ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى فِرْعَوْنَ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ(۳۸)فَتَوَلّٰى بِرُكْنِهٖ وَ قَالَ سٰحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ(۳۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور موسیٰ میں  جب ہم نے اُسے روشن سند لے کر فرعون کے پاس بھیجا۔ تو اپنے لشکر سمیت پھر گیا اور بولا جادوگر ہے یا دیوانہ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور موسیٰ میں  (بھی نشانی ہے) جب ہم نے اسے روشن سند کے ساتھ فرعون کی طرف بھیجا۔ اور وہ (فرعون) اپنے لشکر سمیت پھر گیا اور بولا: (موسیٰ تو) جادوگر ہے یا دیوانہ۔

{ وَ فِیْ مُوْسٰى: اور موسیٰ میں ۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعے میں  بھی (عبرت کی) نشانی رکھی ہے اور ان کا واقعہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ان روشن معجزات کے ساتھ فرعون کی طرف بھیجا جو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرعون اور اس کی قوم کے سامنے پیش فرمائے تو فرعون نے اپنی جماعت کے ساتھ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لانے سے اِعراض کیا اور ان کی شان میں  یہ کہنے لگا کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تو جادوگر یا دیوانے ہیں  (جو مجھ جیسے جابر بادشاہ کا مقابلہ کرنے آئے ہیں )۔( خازن ،  الذّٰریٰت ،  تحت الآیۃ: ۳۸-۳۹ ،  ۴ / ۱۸۴ ،  ملخصاً)

فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ وَ هُوَ مُلِیْمٌؕ(۴۰)

 



Total Pages: 250

Go To