Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

’’وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْؕ-اِنَّ الَّذِیْۤ اَحْیَاهَا لَمُحْیِ الْمَوْتٰىؕ-اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ‘‘(حم السجدہ:۳۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اس کی نشانیوں  میں  سے ہے کہ تو زمین کو بے قدر پڑی ہوئی دیکھتا ہے پھر جب ہم اس پر پانی اتارتے ہیں  تو لہلہانے لگتی ہے اور بڑھ جاتی ہے۔ بیشک  جس نے اس کو زندہ کیا وہ ضرور مردوں  کو زندہ کرنے والا ہے۔ بیشک وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔

وَ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْؕ-اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ(۲۱)وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ(۲۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور خود تم میں  تو کیا تمہیں  سوجھتا نہیں ۔ اور آسمان میں  تمہارا رزق ہے اور جو تمہیں  وعدہ دیا جاتا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور خود تمہاری ذاتوں میں  ،تو کیا تم دیکھتے نہیں ؟ اور آسمان میں  تمہارا رزق ہے اور وہ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے۔

{وَ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ: اور خود تمہاری ذاتوں  میں ۔} یعنی تمہاری پیدائش کے مراحل میں  ،تمہارے اَعضا کی بناوٹ اور ترتیب میں ،تمہارے جسم کے اندرونی نظام میں ،پیدائش کے بعد مرحلہ وارتمہارے حالات کے بدلنے میں ، تمہاری شکلوں  ، صورتوں  اور زبانوں  کے اختلاف میں ،تمہاری ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں  کے مختلف ہونے میں  اور تمہارےظاہر و باطن میں  اللہ تعالیٰ کی قدرت کے ایسے بے شمار عجائبات موجود ہیں  جن میں  غور کر کے تم اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں  جان سکتے ہو اورجب وہ ان عجیب و غریب چیزوں  پر قدرت رکھتاہے تو اے کافرو!تمہیں  مارنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنا اس کے لئے کیا مشکل ہے۔

{وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ: اور آسمان میں  تمہارا رزق ہے۔} ارشاد فرمایا کہ آسمان میں  تمہارا رزق ہے کہ اسی طرف سے بارش نازل کرکے زمین کو پیداوار سے مالا مال کیا جاتا ہے اور آخرت کا وہ ثواب و عذاب بھی آسمان میں  لکھا ہوا ہے جس کا تم سے دنیا میں وعدہ کیا جاتا ہے۔( جلالین ،  الذّاریٰت ،  تحت الآیۃ: ۲۲ ،  ص۴۳۳ ،  ملخصاً)

فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِنَّهٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَاۤ اَنَّكُمْ تَنْطِقُوْنَ۠(۲۳)

ترجمۂ کنزالایمان: تو آسمان اور زمین کے رب کی قسم بیشک یہ قرآن حق ہے ویسی ہی زبان میں  جو تم بولتے ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو آسمان اور زمین کے رب کی قسم! بیشک یہ حق ہے ویسی ہی زبان میں  جو تم بولتے ہو۔

{فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ: تو آسمان اور زمین کے رب کی قسم!} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ آسمان اور زمین کے رب کی قسم! بیشک یہ قرآن حق ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والے فرشتے نے اسے اسی زبان میں  بیان کیا ہے جو تم بولتے ہو۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ اے لوگو! آسمان اور زمین کے رب کی قسم! میں  نے تم سے جو بات کہی کہ تمہارا رزق آسمان میں  ہے یہ ویسے ہی حق ہے جیسے تمہارے نزدیک وہ بات حق ہے جو تم (قسم کھا کر) کہتے ہو۔ تیسری تفسیر یہ ہے کہ آسمان اور زمین کے رب کی قسم! بیشک تم سے جو آخرت کے ثواب اور عذاب کا وعدہ کیا جا رہا ہے یہ ویسے ہی حق ہے جیسے تمہارے نزدیک وہ بات حق ہے جو تم (قسم کھا کر) کہتے ہو۔( تفسیرکبیر ، الذّاریات ، تحت الآیۃ:۲۳ ، ۱۰ / ۱۷۲ ،  تفسیر طبری ،  الذّاریات ،  تحت الآیۃ: ۲۳ ، ۱۱ / ۴۶۱-۴۶۲ ،  ملتقطاً)

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَ الْمُكْرَمِیْنَۘ(۲۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اے محبوب کیا تمہارے پاس ابراہیم کے معزز مہمانوں  کی خبر آئی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے حبیب!کیا تمہارے پاس ابراہیم کے معزز مہمانوں  کی خبر آئی۔

{هَلْ اَتٰىكَ: اے محبوب!کیا تمہارے پاس آئی۔} اس آیت سے اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سامنے انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعات بیان فرمائے تاکہ انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعات سن کر سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مبارک قلب کو تسلی حاصل ہو۔ سب سے پہلے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ اس لئے بیان فرمایاکہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد تمام انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام آپ کی اولاد میں  سے ہی تشریف لائے اور نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بھی بعض چیزوں  میں  ان کے طریقے کو اختیار فرمایا اور اس واقعے کو بیان کرنے سے مقصود حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی قوم کو (اللہ تعالیٰ کے عذاب سے) ڈرانا بھی ہے۔( تفسیرکبیر ،  الذّاریات ،  تحت الآیۃ: ۲۴ ،  ۱۰ / ۱۷۳ ،  ملخصاً)

            اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کیا آپ کے پاس ان فرشتوں  کی خبر آئی جو حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی خدمت میں معزز مہمان بن کر حاضر ہوئے تھے۔ ان فرشتوں  کی تعداد دس یا بارہ تھی اور ان میں  حضرت جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام بھی شامل تھے۔( جلالین ،  الذّاریٰت ،  تحت الآیۃ: ۲۴ ،  ص۴۳۳)

          نوٹ:یاد رہے کہ یہ واقعہ پارہ نمبر 14کے رکوع نمبر3اور 4میں  بھی گزر چکا ہے۔

اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًاؕ-قَالَ سَلٰمٌۚ-قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَۚ(۲۵)

ترجمۂ کنزالایمان: جب وہ اس کے پاس آکر بولے سلام کہا سلام ناشناسا لوگ ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جب وہ اس کے پاس آئے تو کہا: سلام، (ابراہیم نے) فرمایا، ’’سلام ‘‘اجنبی لوگ ہیں ۔

{اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ: جب وہ اس کے پاس آئے۔} جب فرشتے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس آئے تو انہوں  نے کہا: سلام۔ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بھی جواب میں  سلام فرمایا اور کہا کہ یہ اجنبی لوگ ہیں ۔( جلالین ،  الذّاریٰت ،  تحت الآیۃ: ۲۵ ،  ص۴۳۳ ،  ملخصاً)یہ آپ نے دل میں  فرمایا کہ میں  ان سے واقف نہیں  ، مُنکَر بمعنی اجنبی ہے، اسی لئے قبر کے فرشتوں  کو مُنکَر ونکیر کہا جاتا ہے کہ وہ اجنبی ہوتے ہیں ۔

آیت ’’اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل:

 



Total Pages: 250

Go To