Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اس قرآن سے وہی اوندھا کیا جاتا ہے جو اوندھا ہی کردیا گیا ہو۔

{یُؤْفَكُ عَنْهُ: اس قرآن سے وہی اوندھا کیا جاتا ہے۔} تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے زمانے کے کفار جب کسی کو دیکھتے کہ وہ ایمان لانے کا ارادہ کررہا ہے توا س کے پاس جا کر نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بارے میں  کہتے کہ تم اُن کے پاس کیوں  جاتے ہو؟ وہ تو شاعر ہیں ، جادو گر ہیں  اورجھوٹے ہیں  (مَعَاذَاللہ) اور اسی طرح قرآنِ پاک کے بارے میں  کہتے کہ وہ شعر ہے،جادو ہے،اورجھوٹ ہے (مَعَاذَاللہ) تو اس آیت میں  اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ، (آپ ان کی حرکتوں  سے غمزدہ نہ ہوں ، آپ پر اور) اس قرآن پر ایمان لانے سے اسی کا منہ پھیر دیا جاتا ہے جس کی قسمت میں  ہی ہدایت سے منہ پھیر دیا جانا ہو،جو اَزل سے ہی محروم ہے وہی ا س سعادت سے محروم رہتا ہے اور وہی بہکانے والوں  کے بہکاوے میں  آتا ہے۔( خازن ،  الذّاریات ،  تحت الآیۃ: ۹ ،  ۴ / ۱۸۱ ،  جلالین مع صاوی ،  الذّاریات ،  تحت الآیۃ: ۹ ،  ۵ / ۲۰۱۷ ،  ملتقطاً)

قُتِلَ الْخَرّٰصُوْنَۙ(۱۰) الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ غَمْرَةٍ سَاهُوْنَۙ(۱۱) یَسْــٴَـلُوْنَ اَیَّانَ یَوْمُ الدِّیْنِؕ(۱۲) یَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ یُفْتَنُوْنَ(۱۳) ذُوْقُوْا فِتْنَتَكُمْؕ-هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ(۱۴)

ترجمۂ کنزالایمان: مارے جائیں  دل سے تراشنے والے۔جونشے میں  بھولے ہوئے ہیں ۔پوچھتے ہیں  انصاف کا دن کب ہوگا۔ اس دن ہوگا جس دن وہ آگ پر تپائے جائیں  گے۔ اور فرمایا جائے گا چکھو اپنا تپنا یہ ہے وہ جس کی تمہیں  جلدی تھی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جھوٹے اندازے لگانے والے مارے جائیں ۔ جو نشے میں  بھولے ہوئے ہیں ۔ پوچھتے ہیں  کہ بدلے کا دن کب ہوگا؟  (یہ اس دن واقع ہوگا) جس دن وہ آگ پر تپائے جائیں  گے۔ اور (فرمایا جائے گا) اپنا عذاب چکھو، یہ وہی عذاب ہے جس کی تم جلدی مچاتے تھے۔

{قُتِلَ الْخَرّٰصُوْنَ: جھوٹے اندازے لگانے والے مارے جائیں ۔} اس آیت اور اس کے بعد والی چار آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ جھوٹے اندازے لگانے والے مارے جائیں  جو جہالت کے نشے میں  آخرت کوبھولے ہوئے ہیں  اور وہ نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے حصولِ علم کے ارادے سے نہیں  بلکہ مذاق اڑانے اور جھٹلانے کے طور پر پوچھتے ہیں  کہ انصاف کا دن کب آئے گا؟کفار نے جس انداز میں  سوال کیا تھا اسی کے مطابق انہیں  جواب دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ انصاف کا دن وہ ہو گا جس دن انہیں  آگ پر تپایا جائے گا اور انہیں  عذاب دیا جائے گا اوران سے فرمایا جائے گاکہ اب اپنا عذاب چکھو ،یہ وہی عذاب ہے جس کے آنے کی تم جلدی مچاتے تھے اور دنیا میں  مذاق اُڑاتے ہوئے میرے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کہا کرتے تھے کہ وہ عذاب جلدی لے آؤ جس کا آپ ہمیں  وعدہ دیتے ہو۔(مدارک ، الذّاریات ،  تحت الآیۃ: ۱۰-۱۴ ،  ص۱۱۶۷ ،  جمل ،  الذّاریات ،  تحت الآیۃ: ۱۰-۱۴ ،  ۷ / ۲۷۸-۲۷۹ ،  ملتقطاً)

            ان آیات سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا مقام اور مرتبہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جب کفار نے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شان میں  گستاخی کی تو اللہ تعالیٰ نے خود بڑے پُر جلال انداز میں  کفار کو ان کی گستاخی کا جواب دیا۔ سُبْحَانَ اللہ ۔

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ(۱۵) اٰخِذِیْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْؕ-اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُحْسِنِیْنَؕ(۱۶)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک پرہیزگار باغوں  اور چشموں  میں  ہیں ۔اپنے رب کی عطائیں  لیتے ہوئے بیشک وہ اس سے پہلے نیکو کار تھے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک پرہیزگارلوگ باغوں  اور چشموں  میں  ہوں  گے۔ اپنے رب کی عطائیں  لیتے ہوئے، بیشک وہ اس سے پہلے نیکیاں  کرنے والے تھے۔

{اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ: بیشک پرہیزگار۔} کفار کا انجام بیان فرمانے کے بعد اس آیت سے اللہ تعالیٰ نے پرہیزگار لوگوں  کا انجام بیان فرمایا ہے۔چنانچہ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ بے شک پرہیز گار لوگ ان باغوں  میں  ہوں  گے جن میں  لطیف چشمے جاری ہیں  اور اللہ تعالیٰ انہیں  جو کچھ عطا فرمائے گا اسے راضی خوشی قبول کرتے ہوں  گے ۔ بیشک وہ جنت میں  داخل ہونے سے پہلے دنیا میں  نیک کام کرتے تھے اسی لئے انہیں  یہ عظیم کامیابی نصیب ہوئی۔( ابو سعود ،  الذّاریات ،  تحت الآیۃ: ۱۵-۱۶ ،  ۵ / ۶۲۸ ،  خازن ،  الذّاریات ،  تحت الآیۃ: ۱۵-۱۶ ،  ۴ / ۱۸۱ ،  ملتقطاً)

نیک اعمال آخرت کی عظیم کامیابی حاصل ہونے کا ذریعہ ہیں :

            اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں  کئے ہوئے نیک اعمال آخرت کی عظیم کامیابی یعنی جنت اور اس کی نعمتیں  ملنے کا ذریعہ ہیں  لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنے گناہوں  سے توبہ کرتا رہے اور نیک اعمال کی کثرت کرے تاکہ دنیا و آخرت کی سرفرازی نصیب ہو۔نیک اعمال کرنے والوں  کے بارے میں  ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِیَادَةٌؕ-وَ لَا یَرْهَقُ وُجُوْهَهُمْ قَتَرٌ وَّ لَا ذِلَّةٌؕ-اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ‘‘(یونس:۲۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بھلائی کرنے والوں  کے لیے بھلائی  ہے اور اس سے بھی زیادہ ہے اور ان کے منہ پر نہ سیاہی چھائی ہوگی اور نہ ذلت۔یہی جنت والے ہیں ، وہ اس میں  ہمیشہ رہیں  گے۔

            اورحضرت جابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں :حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ہمیں  خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا’’اے لوگو! مرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  (اپنے گناہوں  سے) توبہ کر لو اور مصروف ہو جانے سے پہلے نیک اعمال کرنے میں  جلدی کر لو اور ذکر کی کثرت سے اپنے اور اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے درمیان تعلق پیدا کر لو، اسی طرح ظاہری اور پوشیدہ طور پر صدقہ دیا کرو تو تمہیں  رزق بھی دیا جائے گا،تمہاری مدد بھی کی جائے گی اور تمہارے نقصان کی تَلافی بھی کی جائے گی۔( ابن ماجہ ،  کتاب اقامۃ الصّلاۃ والسنّۃ فیہا ،  باب فی فرض الجمعۃ ،  ۲ / ۵ ،  الحدیث: ۱۰۸۱)

            اللہ تعالیٰ ہمیں  گناہوں  سے بچنے اور نیک اعمال کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔

 



Total Pages: 250

Go To