Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

’’اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْۙ-اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ‘‘(حم السجدہ:۴۰)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم جو چاہو کرتے رہو، بیشک اللہتمہارے کام دیکھ رہا ہے۔

            اور ارشاد فرماتا ہے :

’’ یَعْلَمُ خَآىٕنَةَ الْاَعْیُنِ وَ مَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ‘‘(مومن:۱۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اللہ آنکھوں  کی خیانت کوجانتا ہے اوراسے بھی جو سینے چھپاتے ہیں ۔

            حضرت شعیب حریفیش رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :اللہ تعالیٰ بندوں  سے بے نیاز ہے ،وہ انہیں  اپنی اطاعت اور (توحید و رسالت پر) ایمان لانے کا حکم دیتا ہے اور ان کے لئے کفر و شرک پر راضی نہیں  ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ نہ اسے بندوں  کی اطاعت وعبادت نفع پہنچاتی ہے اور نہ ہی ان کی نافرمانی سے کوئی نقصان ہوتا ہے اور اے گنہگار انسان!اس نے تجھے اپنی فرمانبرداری کا حکم محض اس لئے دیا اور اپنی نافرمانی سے ا س لئے منع فرماتاہے تاکہ تجھے تیرے یقین کی آنکھ سے اپنی قدرت کا مشاہدہ کرائے اور تیرے لئے تیرے دین اوردنیا کا معاملہ واضح فرما دے، لہٰذا توہر وقت اس کی طرف متوجہ رہ، اس سے ڈر اور اس کی نافرمانی سے بچتا رہ۔ اگر تواسے نہیں  دیکھ سکتا تواس بات پر یقین رکھ کہ وہ تو تجھے یقینا دیکھ رہا ہے۔ نمازوں  کی پابندی کر جن کا اس نے تجھے تاکیدی حکم دیا ہے اور سحری کے وقت عاجزی و اِنکساری سے اس کی بارگاہ میں  کھڑا ہو،بے شک وہ تجھ پر اپنی روشن نعمتیں  نچھاور فرمائے گااور تجھے تیرے مقصود تک پہنچا کر تجھ پر احسان فرمائے گا۔ کیااس نے ماں  کے پیٹ کے اندھیروں  میں  تیری حفاظت نہیں  کی اور وہاں  اپنے لطف وکرم سے تجھے خوراک مہیا نہیں  کی؟ …کیا اس نے تجھے کمزور پیدا کر کے، پھر رزق فراہم کرکے تجھے قوی نہیں  کیا؟… کیا اس نے تیری پیدا ئش اور پرورش اچھی طرح نہ کی؟… کیا اس نے تجھے عزت نہیں  بخشی اور تیرے ٹھکانے کو معزز نہیں  بنایا؟… کیا تجھے ہدایت اور تقویٰ جیسی عظیم دولت کا اِلہام نہیں  فرمایا؟… کیا تجھے عقل دے کر ایمان کی طرف تیری رہنمائی نہیں  فرمائی ؟…کیااس نے تجھے اپنی نعمتیں  عطا نہیں  فرمائیں ؟…کیااس نے تجھے اپنی فرمانبرداری کا حکم نہیں  دیااوراس کی تاکید نہیں  کی اور کیا اس نے تجھے اپنی نافرمانی سے نہیں  ڈرایا اور اس سے منع نہیں  کیا؟… کیا اس نے تجھے ندا دے کر اپنے درِرحمت پر نہیں  بلایا؟…کیا اس نے سحری کے وقت تجھے اپنے مکرم خطاب سے بیدار نہیں  کیا اور تجھ سے راز کی باتیں  نہ کیں ؟ …کیا اس نے تجھ سے آخرت میں  کامیابی اور جزا کا وعدہ نہیں  فرمایا؟… کیا تو نے سوال کیا اور دعا کی تو اس نے تیرے سوال کا جواب نہیں  دیا اور تیری دعا قبول نہیں  کی؟… جب تو نے مصیبتوں  میں  مدد مانگی تو کیا اس نے تیری مدد نہیں  فرمائی اور تجھے نجات عطا نہیں  کی؟…اور جب تو نے اس کی نافرمانی کی تو کیا اس نے اپنے حِلم سے تیری پردہ پوشی نہیں  فرمائی اور تجھے اپنی رحمت سے نہیں  ڈھانپا؟ …کیا تو نے کئی مرتبہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے غضب کو دعوت نہیں  دی لیکن پھر بھی اس نے تجھے راضی رکھا؟… تو کیا تجھے یہ زیب دیتا ہے کہ تو گناہوں  اور نافرمانیوں  سے اس کا سامنا کرے؟ وہ تجھ پر اپنا رزق کشادہ کرتا ہے لیکن تو اس کی نافرمانی میں  اضافہ کرتاہے ۔ تو لوگوں  سے تو چھپ سکتاہے لیکن اللہ تعالیٰ سے نہیں  چھپ سکے گا۔ وہ (تیرے اعمال پر) گواہ اور تجھے دیکھ رہا ہے،توکب تک تو اپنی گمراہی اور خواہشات کے سمندر میں  غرق رہے گا؟ اگر تو نجات چاہتا ہے تو ندامت کی کشتی پر سوار ہو جا اور اپنے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں  سچی توبہ کر کے فائدہ اٹھا۔ اپنے آپ کو اخلاص کے ساحل پر ڈال دے تو وہ تجھے نجات اور خلاصی عطا فرمادے گا۔(الروض الفائق ،  المجلس الحادی والاربعون فی مناقب الصالحین رضی اللّٰہ عنہم اجمعین ،  ص۲۲۲)

          اللہ تعالیٰ ہمیں  توبہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔

وَ یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖؕ-وَ الْكٰفِرُوْنَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ(۲۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور دعا قبول فرماتا ہے اُن کی جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور انھیں  اپنے فضل سے اور انعام دیتا ہے اور کافروں  کے لیے سخت عذاب ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اورایمان والوں  اور اچھے اعمال کرنے والوں  کی دعا قبول فرماتا ہے اور انہیں  اپنے فضل سے زیادہ عطا فرماتا ہے اور کافروں  کے لیے سخت عذاب ہے۔

{وَ یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ: اورایمان والوں  اور اچھے اعمال کرنے والوں  کی دعا قبول فرماتا ہے۔} ار شاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں  کی دعائیں  قبول فرماتا ہے جو ایمان لائیں  اور اچھے اعمال کریں  اور اپنے فضل سے لوگوں  کی طلب سے بڑھ کر انہیں  عطا فرماتا ہے اور کافروں  کے لیے سخت عذاب ہے۔( مدارک ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۲۶ ،  ص۱۰۸۸)

دعا قبول نہ ہونے کا ایک سبب:

            معلوم ہوا کہ مقبول بندوں  کی دعائیں  زیادہ قبول ہوتی ہیں  اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اچھے اعمال دعا کی قبولیت میں  بہت معاون ہیں ۔اس سے ان لوگوں  کو نصیحت حاصل کرنی چاہئے جو اچھے اعمال کرنے کی بجائے ہر وقت برے اعمال کرنے میں  مصروف رہتے ہیں  ،اس کے باوجود ان کی زبانیں  اس شکوہ سے تر نظر آتی ہیں  کہ ہماری دعا قبول نہیں  ہوتی،انہیں  چاہئے کہ اگر دعا قبول کروانی ہے تو برے اعمال چھوڑ کر نیک اعمال کرنے میں  مصروف ہوجائیں  اِنْ شَآءَ اللہ ان کی دعاؤں  کی قبولیت بھی ظاہر ہو گی۔حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے ،نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ایک شخص طویل سفرکرے،اس کے بال اُلجھے اور کپڑے گَرد میں  اَٹے ہوئے ہوں ،وہ اپنے ہاتھ آسمان کی طرف پھیلائے اوراے میرے رب!اے میرے رب!کہے اور اس کا کھانا حرام سے اور پینا حرام سے اور پہننا حرام سے اورپرورش پائی حرام سے، تو اس کی دعا کہاں  قبول ہو گی۔( مسلم ،  کتاب الزکاۃ ،  باب قبول الصدقۃ من الکسب الطیّب وتربیتہا ،  ص۵۰۶ ،  الحدیث: ۶۵(۱۰۱۵))

             کسی نے حضرت ابراہیم بن ادہم رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ سے دریافت کیا کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے دعائیں  کرتے ہیں  لیکن وہ قبول نہیں  ہوتیں ؟آپ رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے فرمایا’’اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں  جس کام کا حکم دیا ہے تم وہ نہیں  کرتے ۔( مدارک ،  الشوریٰ ،  تحت الآیۃ: ۲۶ ،  ص۱۰۸۸)

وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآءُؕ-اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ(۲۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اگر اللہ اپنے سب بندوں  کا رزق وسیع کردیتا تو ضرور زمین میں  فساد پھیلاتے لیکن وہ اندازہ سے اُتارتا ہے جتنا چاہے بے شک وہ اپنے بندوں  سے خبردار ہے اُنھیں  



Total Pages: 250

Go To