Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

{ یَوْمَ یَسْمَعُوْنَ الصَّیْحَةَ بِالْحَقِّ: جس دن لوگ حق کے ساتھ ایک چیخ سنیں  گے۔} اس چیخ سے مراد دوسرا نَفخہ ہے اور جس دن سب لوگ یہ ندا اور چیخ سنیں  گے وہ قبروں  سے باہر آنے کادن ہو گا۔

{اِنَّا نَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ: بیشک ہم زندگی دیتے ہیں  اور ہم موت دیتے ہیں ۔} ارشاد فرمایا کہ بے شک ہم ہی دنیا میں  زندگی اور موت دیتے ہیں  اور آخرت میں  جزاء و سزا کے لئے سب لوگوں  کو ہماری بارگاہ میں  ہی حاضر ہونا ہے ۔

یَوْمَ تَشَقَّقُ الْاَرْضُ عَنْهُمْ سِرَاعًاؕ-ذٰلِكَ حَشْرٌ عَلَیْنَا یَسِیْرٌ(۴۴)

ترجمۂ کنزالایمان: جس دن زمین اُن سے پھٹے گی تو جلدی کرتے ہوئے نکلیں  گے یہ حشر ہے ہم کو آسان۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جس دن زمین ان پرسے پھٹ جائے گی تو وہ جلدی کرتے ہوئے نکلیں  گے ،یہ حشر ہم پر آسان ہے۔

{یَوْمَ تَشَقَّقُ الْاَرْضُ عَنْهُمْ سِرَاعًا: جس دن زمین ان پرسے پھٹ جائے گی تو وہ جلدی کرتے ہوئے نکلیں  گے۔}یعنی جب دوسراصُورپھونکاجائے گاتو قبر کی زمین پھٹ جائے گی اور مُردے میدانِ محشرکی طرف دوڑتے جائیں  گے، یہ قبروں  سے زندہ ہو کر نکلنا حشر ہے اوریہ ہمارے لئے بہت آسان ہے۔

قیامت کے دن سب سے پہلے کس سے زمین شَق ہو گی:

             حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:سب سے پہلامیں  ہوں  جس سے زمین شق ہوگی۔پھرابوبکرصدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ اورپھرعمرفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ پھرمیں  اہلِ بقیع کے پاس جاؤں  گااورانہیں  میرے ساتھ اٹھایاجائے گا۔پھرمیں  اہلِ مکہ کا انتظار کروں  گا۔(مستدرک ،  کتاب التفسیر ،  تفسیر سورۃ ق ،  ۳ / ۲۶۸ ،  الحدیث: ۳۷۸۴)

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِجَبَّارٍ۫- فَذَكِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ۠(۴۵)

ترجمۂ کنزالایمان: ہم خوب جان رہے ہیں  جو وہ کہہ رہے ہیں  اور کچھ تم ان پر جبر کرنے والے نہیں  تو قرآن سے نصیحت کرو اُسے جو میری دھمکی سے ڈرے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: ہم خوب جان رہے ہیں  جو وہ کہہ رہے ہیں  اور تم ان پر جبر کرنے والے نہیں  ہوتو اس شخص کو قرآن سے نصیحت کرو جو میری دھمکی سے ڈرے۔

{نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ: ہم خوب جان رہے ہیں  جو وہ کہہ رہے ہیں ۔} یعنی اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کفارِ قریش کا آپ کو جھٹلانا،قیامت کا انکار کرنا، ہماری قدرت میں  تَرَدُّد کرنا ہم سے چھپا ہوانہیں  ہے اور ہم ان سب کو اس کی سزا دیں  گے اور آپ ان پر جبر کرنے والے نہیں  کہ انہیں  طاقت کے ذریعے اسلام میں  داخل کر دیں  بلکہ آپ کی ذمہ داری دعوت دینا اور سمجھا دینا ہے، لہٰذا آپ قرآنِ مجید کے ذریعے کافروں  کو میرے عقاب سے، غافلوں  کو میرے عذاب سے اور اطاعت گزاروں  کو میرے عتاب سے ڈرائیں ۔

سورۃُ الذّارِیَات

سورۂ ذارِیات کاتعارف

مقامِ نزول:

            سورۂ  ذارِیات مکہ مکرمہ میں  نازل ہوئی ہے۔( خازن ،  تفسیر سورۃ الذّاریات ،  ۴ / ۱۸۰)

رکوع اور آیات کی تعداد:

             اس سورت میں  3رکوع اور60 آیتیں ہیں ۔

’’ذارِیات ‘‘نام رکھنے کی وجہ :

            ذارِیات کا معنی ہے خاک بکھیر کر اُڑا دینے والی ہوائیں ،اور اس سورت کی پہلی آیت میں  اللہ تعالیٰ نے ان ہواؤں  کی قسم ارشاد فرمائی ہے ا س مناسبت سے ا س کا نام’’سورۂ ذارِیات‘‘ رکھا گیا۔

سورۂ ذارِیات کے مضامین:

          اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں  اسلام کے بنیادی عقائد جیسے توحید، نبوت ، اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کو ثابت کیا گیا ہے اور اس کے مخالف چیزوں  جیسے شرک،نبوت کی تکذیب اور حشر و نشر کے انکار کی نفی کی گئی ہے،اور اس سورت میں  یہ چیزیں  بیان کی گئی ہیں  ۔

(1)…اس سورت کی ابتدائی آیات میں  کفارِ مکہ کے اَحوال بیان کئے گئے کہ وہ قرآنِ مجید،آخرت اور جہنم کے شدید عذاب کو جھٹلاتے ہیں  اسی طرح مُتّقی مسلمانوں  کے اَحوال اور ان کے لئے تیار کی گئی جنت کی نعمتیں  بیان کی گئیں  تاکہ عقلمند انسان ان دونوں  میں  فرق سمجھ سکے اور اسے عبرت و نصیحت حاصل ہو ۔

(2)…کفارِ مکہ کی طرف سے پہنچنے والی اَذِیَّتوں  پر نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ کوتسلی دینے کے لئے پچھلے انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی امتوں  کے واقعات بیان کئے گئے ۔

(3)…اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور وحدانیَّت کے دلائل ذکر فرمائے اور کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دینے، اللہ تعالیٰ کے رسولوں  کی تکذیب کرنے سے منع فرمایا اور حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو حکم دیاکہ منکرین سے منہ پھیر لیں  اور مُتّقی لوگوں  کو نصیحت کریں ۔

(4)…اس سورت کے آخر میں  جِنّات اور انسانوں  کی تخلیق کا مقصد بیان کیا گیا کہ انہیں  پیدا کرنے سے مقصود یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کریں  اوراخلاص کے ساتھ صرف



Total Pages: 250

Go To