Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک اس میں  نصیحت ہے اس کے لیے جو دِل رکھتا ہو یا کان لگائے اوروہ متوجہ ہو۔

{اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى: بیشک اس میں  نصیحت ہے۔} یعنی اس سور ت میں  سابقہ امتوں  کی ہلاکت وغیرہ کا جو بیان ہوا اس میں  بیشک اُس شخص کے لیے نصیحت ہے جو (حق قبول کرنے والا) دِل رکھتا ہو یا قرآن اور نصیحت کو توجہ سے سنے اوردل و دماغ سے متوجہ وحاضر ہو۔( روح البیان ،  ق ،  تحت الآیۃ: ۳۷ ،  ۹ / ۱۳۵ ،  ملخصاً)

            اس سے معلوم ہواکہ وعظ و نصیحت اور عبرت سے وہی فائدہ اٹھا سکتا ہے جس کے پاس عبرت پکڑنے والا دل ہو،غور سے سننے والے کان ہوں  اور وہ دل سے حاضر رہ کر وعظ و نصیحت سنے ۔حضرت شبلی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  کہ قرآن کی نصیحتوں  سے فیض حاصل کرنے کے لئے دل ایسے حاضرہونا چاہیے کہ اس میں  پلک جھپکنے کی مقدار بھی غفلت نہ آئے۔

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ﳓ وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ(۳۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بیشک ہم نے آسمانوں  اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں  بنایا اور تکان ہمارے پاس نہ آئی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے آسمانوں  اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں  بنایا اور ہمیں  کوئی تھکاوٹ نہ ہوئی۔

{وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ: اور بیشک ہم نے آسمانوں  اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں  بنایا۔} شانِ نزول : مفسرین فرماتے ہیں  کہ یہ آیت ان یہودیوں  کے رد میں  نازل ہوئی جو یہ کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان موجودکائنات کو چھ دن میں  بنایا جس میں  سے پہلا دن اتوار اور آخری دن جمعہ ہے، پھر وہ (مَعَاذَاللہ) تھک گیا اور ہفتے کے دن اس نے عرش پر لیٹ کر آرام کیا۔( خازن ،  ق ،  تحت الآیۃ: ۳۸ ،  ۴ / ۱۷۹)اس آیت میں  ان کا رد ہے کہ اللہ تعالیٰ تھکنے سے پاک ہے اور وہ ا س پرقادر ہے کہ ایک آن میں  سارا عالَم بنادے لیکن وہ چونکہ ہر چیز کو حکمت کے تقاضے کے مطابق ہستی عطا فرماتا ہے اس لئے ا س نے کائنات کو چھ دن میں  تخلیق فرمایا۔

            ا س سے معلوم ہوا کہ کائنات کو چھ دن میں پیدا فرمانا کمزوری یا تھکن کی بنا پر نہ تھا بلکہ اس آہستگی میں  ہزارہا حکمتیں  تھیں ، اور بندوں  کو تعلیم تھی کہ ہم قادر ہو کر جلدی نہیں  کرتے تم مجبور ہونے کے باوجود کیوں  جلد بازی کرتے ہو۔

فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِۚ(۳۹) وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اَدْبَارَ السُّجُوْدِ(۴۰)

ترجمۂ کنزالایمان: تو اُن کی باتوں  پر صبر کرو اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے اس کی پاکی بولو سورج چمکنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے۔ اور کچھ رات گئے اس کی تسبیح کرو اور نمازوں  کے بعد۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو ان کی باتوں  پر صبر کرو اور سورج طلوع ہونے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے اس کی پاکی بیان کرو۔ اور رات کے کچھ حصے میں  اس کی تسبیح کرو اور نمازوں  کے بعد۔

{فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ: تو ان کی باتوں  پر صبر کرو۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہتعالیٰ کی شان میں  یہودیوں  کا یہ کلمہ سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بہت ناگوار ہوا اور شدید غضب کی وجہ سے چہرئہ مبارک پر سرخی نمودار ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی تسکین فرمائی اور خطاب ہوا:اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ان یہودیوں  کی باتوں  پر صبر کریں  بے شک آپ کا رب ان کا قول سن رہا ہے اور وہ انہیں  ا س کی سزا دے گااورآپ سورج طلوع ہونے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے یعنی فجر ، ظہر اور عصر کے وقت اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے اس کی پاکی بیان کریں  اور رات کے کچھ حصے یعنی مغرب ،عشاء اور تہجُّد کے وقت میں  اس کی تسبیح کریں  اور نمازوں  کے بعدبھی تسبیح کریں ۔

نمازوں  کے بعد تسبیح کی فضیلت:

            آیت کے آخر میں  نماز وں  کے بعد بھی تسبیح کرنے کا فرمایا گیا،یہاں  اس کی ایک فضیلت ملاحظہ ہو،چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص ہر نماز کے بعد 33 مرتبہ سُبْحَانَ اللہ ، 33 مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ، 33 مرتبہ اللہ اَکْبَرْ اور 1 مرتبہ ’’ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللہ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَ لَہُ الْحَمْدُ وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْر‘‘ پڑھے، اس کے گناہ بخشے جائیں  گے خواہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر (یعنی بہت ہی کثیر) ہوں ۔( مسلم ، کتاب المساجد ومواضع الصّلاۃ ، باب استحباب الذّکر بعد الصّلاۃ...الخ ،  ص۳۰۱ ،  الحدیث: ۱۴۶ (۵۹۷))

وَ اسْتَمِعْ یَوْمَ یُنَادِ الْمُنَادِ مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍۙ(۴۱) یَّوْمَ یَسْمَعُوْنَ الصَّیْحَةَ بِالْحَقِّؕ-ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُرُوْجِ(۴۲)اِنَّا نَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ وَ اِلَیْنَا الْمَصِیْرُۙ(۴۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اور کان لگا کر سنو جس دن پکارنے والا پکارے گاایک پاس جگہ سے۔ جس دن چنگھاڑ سنیں  گے حق کے ساتھ یہ دن ہے قبروں  سے باہر آنے کا۔بیشک ہم جِلائیں  اور ہم ماریں  اور ہماری طرف پھرنا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور کان لگا کر سنو جس دن ایک قریب کی جگہ سے پکارنے والا پکارے گا۔ جس دن لوگ حق کے ساتھ ایک چیخ سنیں  گے ، یہ (قبروں  سے) باہر آنے کادن ہوگا۔  بیشک ہم زندگی دیتے ہیں  اور ہم موت دیتے ہیں  اور ہماری طرف ہی پھرنا ہے۔

{وَ اسْتَمِعْ یَوْمَ یُنَادِ الْمُنَادِ: اور کان لگا کر سنو جس دن پکارنے والاپکارے گا۔} یہاں  سے قیامت کے اَحوال بیان کئے جا رہے ہیں  ،چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے مُخاطَب!میں  قیامت کے جو اَحوال تمہارے سامنے بیان فرما رہا ہوں  اسے غور سے سنو ، جس دن ایک قریب کی جگہ سے پکارنے والا پکارے گا۔اس آیت میں  قریب کی جگہ سے بیتُ المقدس کا صَخْرہ مراد ہے جو آسمان کی طرف زمین کا سب سے قریبی مقام ہے۔پکارنے والے سے مراد حضرت اسرافیل عَلَیْہِ السَّلَام ہیں  اورآپ کی ندا یہ ہوگی: اے گلی ہوئی ہڈیو! بکھرے ہوئے جوڑو !ریزہ ریزہ شدہ گوشتو!پَراگندہ بالو! اللہ تعالیٰ تمہیں  فیصلہ کے لئے جمع ہونے کا حکم دیتا ہے۔( جمل مع جلالین ،  ق ،  تحت الآیۃ: ۴۱ ،  ۷ / ۲۷۳-۲۷۴)

 



Total Pages: 250

Go To