Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

جارہاہے ،چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ قیامت کے دن جنت ان لوگوں  کے قریب لائی جائے گی جو دنیا میں  کفر اور گناہوں  سے بچتے رہے اور جنت ان سے دور نہ ہو گی بلکہ وہ جنت میں  داخل ہونے سے پہلے ا س کی طرف دیکھ رہے ہوں  گے۔( روح البیان ،  ق ،  تحت الآیۃ: ۳۱ ،  ۹ / ۱۳۰)

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍۚ(۳۲)

ترجمۂ کنزالایمان: یہ ہے وہ جس کا تم وعدہ دئیے جاتے ہو ہر رجوع لانے والے نگہداشت والے کے لیے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: (کہا جائے گا:) یہ ہے وہ (جنت) جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا رہا ،ہر رجوع کرنے والے، حفاظت کرنے والے کے لیے۔

{هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ: یہ وہ ہے جس کاتم سے وعدہ کیا جاتا رہا۔} جب جنت قریب لائی جائے گی تو مُتّقی لوگوں  سے کہا جائے گا:یہ وہ جنت ہے جس کا رسولوں  کے ذریعے دنیا میں  تم سے وعدہ کیا جاتا اور یہ وعدہ ہر اس شخص کے لئے ہے جو رجوع کرنے والا اور حفاظت کرنے والا ہے ۔

            آیت میں  ’’رجوع کرنے والے‘‘سے مراد کون ہے اس کے بارے میں  مفسرین کے مختلف اَقوال ہیں  ،ان میں  سے تین قول درج ذیل ہیں  ،

(1)…اس سے مراد وہ شخص ہے جو مَعْصِیَت و نافرمانی کو چھوڑ کر اطاعت اختیار کرے۔

(2)…حضرت سعید بن مسیب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  ’’اَوَّابٍ‘‘ وہ ہے جو گناہ کرے پھر توبہ کرے، پھر اس سے گناہ صادر ہو پھر توبہ کرے ۔

(3)…اس سے مراد وہ شخص ہے جو تنہائی میں  اپنے گناہوں  کو یاد کر کے ان سے مغفرت طلب کرے۔

            اسی طرح ’’حفاظت کرنے والے‘‘ سے کون مراد ہے ،اس کے بارے میں  بھی مفسرین کے مختلف اَقوال ہیں ، ان میں  سے چار قول درج ذیل ہیں  

(1)…اس سے مراد وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کے حکم کا لحاظ رکھے۔

(2)…حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں  : اس سے مراد وہ شخص ہے جو اپنے آپ کو گناہوں  سے محفوظ رکھے اوراُن سے استغفار کرے ۔

(3)… اس سے مراد وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کی امانتوں  اور اس کے حقوق کی حفاظت کرے۔

(4)… اس سے مراد وہ شخص ہے جو طاعات کا پابند ہو، خدا اور رسول کے حکم بجالائے اور اپنے نفس کی نگہبانی کرے یعنی ایک دم بھی یادِ الہٰی سے غافل نہ ہو۔( خازن ،  ق ،  تحت الآیۃ: ۳۲ ،  ۴ / ۱۷۸)

مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ وَ جَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبِۙﹰ(۳۳)ادْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍؕ-ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ(۳۴)لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ فِیْهَا وَ لَدَیْنَا مَزِیْدٌ(۳۵)

ترجمۂ کنزالایمان: جو رحمٰن سے بے دیکھے ڈرتا ہے اور رجوع کرتا ہوا دل لایا۔ ان سے فرمایا جائے گا جنت میں  جاؤ سلامتی کے ساتھ یہ ہمیشگی کا دن ہے۔اُن کے لیے ہے اس میں  جو چاہیں  اور ہمارے پاس اس سے بھی زیادہ ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جو رحمٰن سے بن دیکھے ڈرا اور رجوع کرنے والے دل کے ساتھ آیا۔ (ان سے فرمایا جائے گا) سلامتی کے ساتھ جنت میں  داخل ہوجاؤ ،یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے۔ ان کے لیے جنت میں  وہ تمام چیزیں  ہوں  گی جو وہ چاہیں  گے اور ہمارے پاس اس سے بھی زیادہ ہے۔

{مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ: جو رحمٰن سے بن دیکھے ڈرا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دیکھے بغیر اس سے ڈرتا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے اور ایسے دل کے ساتھ آتا ہے جو اخلاص مند، اطاعت گزار اور صحیح العقیدہ ہو،ایسے لوگوں  سے قیامت کے دن فرمایا جائے گا: بے خوف و خَطر، امن اور اطمینان کے ساتھ جنت میں  داخل ہو جاؤ نہ تمہیں  عذاب ہو گا اور نہ تمہاری نعمتیں  زائل ہوں  گی،یہ جنت میں  ہمیشہ رہنے کا دن ہے اور اب نہ فنا ہے نہ موت۔( روح البیان ،  ق ،  تحت الآیۃ: ۳۳-۳۴ ،  ۹ / ۱۳۱-۱۳۲ ،  خازن ،  ق ،  تحت الآیۃ: ۳۳-۳۴ ،  ۴ / ۱۷۸ ،  ملتقطاً)

             ا س سے معلوم ہوا کہ جنتی لوگوں  کا بہت عزت و عظمت کے ساتھ جنت میں  داخلہ ہو گا ۔

{وَ لَدَیْنَا مَزِیْدٌ: اور ہمارے پاس اس سے بھی زیادہ ہے۔} یعنی اہلِ جنت جو طلب کریں  گے ہمارے پاس اس سے بھی زیادہ ہے ۔یہاں  زیادہ سے مراد اللہ تعالیٰ کا دیدار اور اس کی تجلّی ہے جس سے وہ لوگ ہر جمعہ کو دارِکرامت میں  نوازے جائیں  گے۔( خازن ،  ق ،  تحت الآیۃ: ۳۵ ،  ۴ / ۱۷۸)

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَشَدُّ مِنْهُمْ بَطْشًا فَنَقَّبُوْا فِی الْبِلَادِؕ-هَلْ مِنْ مَّحِیْصٍ(۳۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اُن سے پہلے ہم نے کتنی سنگتیں  ہلاک فرمادیں  کہ گرفت میں  اُن سے سخت تھیں  تو شہروں  میں  کاوشیں  کیں  ہے کہیں  بھاگنے کی جگہ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ان سے پہلے ہم نے کتنی قوموں  کوہلاک فرمادیا، وہ گرفت میں  ان سے زیادہ سخت تھیں  تو انہوں  نے شہروں  میں  کوشش کی کہ کیا کوئی بھاگنے کی جگہ ہے۔

{وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ: اور ان سے پہلے ہم نے کتنی قوموں  کوہلاک فرما دیا۔} اس سے پہلی آیات میں  جہنم کے دردناک عذاب سے ڈرایا گیا اور اب یہاں  سے دنیا میں  آنے والے عذاب سے کفارِ مکہ کو ڈرایا جا رہا ہے، چنانچہ اس آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کفارِ مکہ سے پہلے اپنے رسولوں  کو جھٹلانے والی کتنی قوموں کو ہم نے ہلاک فرمادیا ، وہ لوگ ان کافروں  سے زیادہ طاقتور اور زبردست تھے اور انہوں  نے ہمارے عذاب سے بچنے کے لئے بہت سے شہروں  میں  پناہ تلاش کرنا چاہی مگر کوئی ایسی جگہ نہ پائی جہاں  ہمارے عذاب سے انہیں  پناہ مل سکے تو کفارِمکہ کو چاہئے کہ سابقہ امتوں  کے طرزِ عمل پر چلنے سے باز رہیں  ورنہ اِن کا انجام بھی اُن جیسا ہوسکتا ہے۔

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَ هُوَ شَهِیْدٌ(۳۷)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک اس میں  نصیحت ہے اس کے لیے جو دِل رکھتا ہو یا کان لگائے اور متوجہ ہو۔

 



Total Pages: 250

Go To